hamare masayel

کرایہ کو زکوٰۃ سمجھ کر معاف کرنا

(سلسلہ نمبر: 597)

کرایہ کو زکوٰۃ سمجھ کر معاف کرنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص اپنا کمرہ ایک غریب کو کرایہ پر دیا ہوا ہے، ماہانہ کرایہ دو ہزار روپیہ ہے، لیکن مالک مکان ہر مہینہ صرف ایک ہزار روپیہ لیتا ہے اور ایک ہزار زکوۃ کے نام پر چھوڑ دیتا یے، تو اس طرح زکوٰۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

المستفتی: عبد الرحمن، دہلی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: صورت مذکورہ میں اس طرح زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، بلکہ وہ شخص اپنا دو ہزار کرایہ وصول کرلے اس کے بعد اگر اس غریب کو دیتا ہے تو زکوٰۃ ادا ہوگی، اور اگر اس غریب کے پاس دو ہزار کرایہ کے پیسے نہیں ہیں تو پہلے مالک مکان اس غریب کو ایک ہزار زکوۃ دے دے پھر اپنا دو ہزار کرایہ وصول کرلے۔

الدلائل

وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه. (الدر المختار).

(قوله: حيلة الجواز) أي: فيما إذا كان له دين على معسر واراد أن يجعله زكوة عن عين عنده… الخ. (رد المحتار: 2/ 271).

وحيلة الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكوته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه. البحر الرائق: 2/ 243).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

17- 6- 1442ھ 31- 1- 2021م الأحد.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply