hamare masayel

ایک مجلس کی تین طلاق کا حکم

 (سلسلہ نمبر: 745)

ایک مجلس کی تین طلاق کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ رات میں گیارہ بجے میری سسرال سے فون آیا اس وقت میری بیوی میرے گیارہ مہینے کے لڑکے کو مار رہی تھی ، مجھے سخت غصہ آیا، پہلے سے بھی میں الجھن میں تھا اس لئے موبائل پر میں نے طلاق طلاق طلاق کہا، مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ ایک سانس میں کہا تھا یا رک رک کر لیکن اتنا یاد ہے کہ تین مرتبہ کہا تھا، اس طلاق کو بیوی کے علاؤہ کسی نے سنا نہیں ہے، تو طلاق ہوئی یا نہیں، اگر ہوئی تو کتنی ہوئی، کیا بیوی کے دوبارہ نکاح میں آنے کی کوئی شکل ہے؟

نوٹ: دو تین مہینہ پہلے ایک طلاق دیا تھا پھر ساتھ رہنے لگا۔

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب: جاننا چاہیے کہ ایک مجلس کہ تین طلاق قرآن وحدیث، اجماع صحابہ، علماء سلف فقہاء ومشائخ اور آئمہ اربعہ یعنی امام ابوحنیفہ ،امام مالک،امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک تین طلاق ہوتی ہے اسی طرح غصہ کی حالت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ (مستفاد فتاویٰ رحمیہ ج 8 ص 333 کراچی)

لہذا صورت مسئولہ میں جب ایک طلاق پہلے دے چکے تھے تو اب صرف دو طلاق ہی کے مالک تھے اس لئے دو مرتبہ طلاق طلاق کہتے ہی تینوں طلاق پڑ گئی اور بیوی مغلظہ ہوگئی، اب اس کے ساتھ رہنا جائز نہیں سوائے اس کے کہ اس لڑکی کا کسی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح ہو اور وہ صحبت بھی کرے پھر اسکا انتقال ہو جائے یا وہ اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا تو عدت گزارنے کے بعد آپ سے نئے مہر کے ساتھ دوبار نکاح ہو سکتا ہے۔

نوٹ۔ زوجین جس مسلک سے تعلق رکھتے ہوں ان کے حق میں اسی مسلک کے علماء کا فتویٰ معتبر ہوگا کسی دوسرے مسلک کے عالم کے فتوی کا سہارا لے کر اپنا مطلب حاصل کرنا سخت گناہ ہے۔

الدلائل

قال الله تعالى: الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان.

وقال تعالى: فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره. (سورة البقرة 229/230)

وقال تعالى: ومن يتعد حدود الله فقد ظلم نفسه. (سورة الطلاق)

قال الإمام النووي: احتج الجمهور بهذه الآية قالوا معناه أن المطلق قد يحدث له ندم فلا يمكنه تداركه لوقوع البينونة فلو كانت الثلاث لم تقع، لم يقع طلاقه هذا إلا رجعيا فلا يندم. (شرح النووي 1/418).

وقال العيني: ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون على أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن؛ ولكنه يأثم، وقالوا: من خالف فيه فهو شاذ مخالف لأهل السنة وإنما تعلق به أهل البدع ومن لا يلتفت إليه لشذوذه عن الجماعة التي لا يجوز عليهم التواطؤ على تحريف للكتاب والسنة. (عمدة القاري 14/236) ( وكذا قال العلامة ابن رشد المالكي في بداية المجتهد 2/107 ، والإمام الشافعي في الأم 5/165 ، وابن قدامة الحنبلي في المغني 7/71).

وقال الشامي: وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلي أنه يقع الثلاث. (رد المحتار: 4/434 زكريا).

ويقع في حالة الغضب و المذاكرة بلا نية (رد المحتار: 4/533 زكريا).

والله أعلم

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

26- 9- 1444ھ 18-4- 2023م الثلاثاء

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply