hamare masayel

‌ بیوی کے کہنے پر اس کی غیر موجودگی میں طلاق دینا 

‌ بیوی کے کہنے پر اس کی غیر موجودگی میں طلاق دینا

سوال: شوہر بیوی میں جھگڑا ہوا، بیوی نے اپنی بڑی بھاوج سے کہا اگر انکو ہم سے تکلیف ہے تو کہہ دو طلاق دیدیں، پھر شوہر نے دو بار طلاق طلاق اپنی بھابھی سے کہدیا، بیوی موجود نہیں ہے، تو کیا طلاق پڑیگی؟

المستفتی تابش قاسمی بارہ بنکی

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب:

طلاق میں اصل تو یہ ہے کہ نام لے کر یا اشارہ کرکے یعنی بیوی کی طرف اضافت کر کے طلاق دے؛ ورنہ طلاق واقع نہ ہوگی؛ لیکن اضافت صراحة ضروری نہیں ہے؛ بلکہ اگر دلالة اضافت ہو تو بھی طلاق کے وقوع کے لئے کافی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں بیوی کے مطالبہ کے بعد طلاق دینے کا مطلب اسی کو طلاق دیا ہے؛ اس لئے دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، عدت کے اندر رجعت کی گنجائش ہے، آئندہ اگر ایک طلاق بھی دے دی تو بیوی مغلظہ ہوجائے گی، پھر اس سے بلا حلالہ نکاح کرنا درست نہیں ہوگا۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ 13/ 279،  10/ 409، فتاویٰ دارالعلوم  9/ 300)

نوٹ: حلالہ یہ ہے کہ پہلے طلاق کی عدت ختم ہونے کے بعد کوئی دوسرا شخص اس عورت سے نکاح کرے اور ہم بستری بھی کرے، پھر اگر بلا کسی دباؤ یا پلاننگ کے کسی وجہ سے طلاق دیدے تو اب زید اگر اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور اگر صرف دوسرے سے اسی لئے نکاح کرایا گیا کہ کچھ دن ساتھ رہ کر طلاق دیدے تو ایسا کرنے اور کرانے والے سخت گنہگار ہوں گے، ایسے لوگوں پر اللہ اور رسول کی کی طرف سے لعنت ہے۔

الدلائل

قال الله تعالى: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [البقرة: 230]

عن ابن المسیب أن علي بن أبي طالب رضي اللٰه عنه قال: إذا طلق الرجل امرأته فهو أحق برجعتها، حتی تغتسل من الحیضة الثالثة، في الواحدة والثنتین. (السنن الکبریٰ للبیهقي 11/ 377 رقم:  15799).

ولو قال لها أنت طالق طالق أو أنت طالق أنت طالق، أو قال قد طلقتک قد طلقتک، أو قال أنت طالق وقد طلقتک تقع ثنتان إذا کانت المرأة مدخولا بها. (الفتاویٰ الهندیة  1/ 355 زکریا)

وإذا طلق الرجل امرأته تطلیقة رجعیة أو تطلیقتین فله أن یراجعها في عدتها رضیت بذٰلک أو لم ترض، کذا في الهدایة. (الفتاویٰ الهندیة  1/ 470 زکریا).

وقعتا رجعیتین لو مدخولا بها کقوله أنت طالق أنت طالق. (الدر المختار 4/ 463 زکریا).

ولا یلزم کون الإضافة صریحة في کلامه کما في البحر، لو قال: طالق، فقیل له من عینت؟ فقال: امرأتي طلقت امرأته، لو قال امرأة طالق، أو قال: طلقت امرأة ثلاثا، وقال: لم أعن امرأتی یصدق، ویفهم منه أنه لو لم یقل ذلک تطلق امرأته؛ لأن العادة أن من له امرأة إنما یحلف بطلاقها لا بطلاق غیرها. (شامي4؍ 4۵۸ زکریا، البحر الرائق/ باب الطلاق 3/ 2533، کوئٹه، الفتاویٰ التاتارخانیة/ إیقاع الطلاق بطریق الإضمار 4/ 421 رقم:  6579 زکریا)

 والله أعلم

تاريخ الرقم: 21- 11- 1439 ه 5-8-2018م السبت

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply