hamare masayel

جنون کی حالت میں طلاق کا حکم، پاگل کی طلاق کا حکم

جنون کی حالت میں طلاق کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کی دماغی حالت ٹھیک نھیں ہے؛ لیکن کبھی حالت ٹھیک ہوجاتی ہے تو اچھی بات بھی کرتا ہے لوگوں کےرشتے کی مناسبت سے عزت سےپیش آتا ہے ٹھیک بولتا ہے، پھر جب دوسرے وقت حالت بگڑ جاتی ہے تو ماں باپ بھائی بہن کسی کے رشتے کو نھیں سمجھتاہے انہیں گالیاں بھی دیتا ہے اور کبھی رونے لگتا ہے کبھی بے ہوش ہوجاتا ہے،،انھیں حالات کے چلتے زید نے اپنی بیوی خالدہ کونام لیکر تین سے زائد مرتبہ طلاق دیا ہے، اسکے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح فرماکر مشکور ہوں۔

المستفتی: شیخ محمد احمد اعظمی

الجواب باسم الملهم للصدق والصواب

صورت مسئولہ میں اس شخص سے دریافت کیا جائے کہ اس کو طلاق دینا یاد ہے یا نہیں، اگر اس کو کچھ یاد نہیں ہے اور حقیقتًا اس نے جنون کی حالت میں طلاق دیا ہے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

اور اگر طلاق دینا یاد ہے تو اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت مکمل جنون کی حالت نہیں تھی تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائینگی۔

الدلائل

أخرج البخاري تعلیقا: قال علي رضي اللٰه عنه: وکل طلاق جائز إلا طلاق المعتوه. (صحیح البخاري 2/ 794 رقم الباب: 11).

عن أبي هريرة رضي اللٰه عنه قال: قال رسول اللٰه صلی اللٰه علیه وسلم: کل طلاق جائز إلا طلاق المعتوه المغلوب علی عقله۔ (سنن الترمذي ۱؍۲۲6 رقم: ۱۲۰۲).     عن علي رضي اللٰه تعالیٰ عنه أن رسول اللٰه صلی اللٰه علیه وسلم قال: رفع القلم عن ثلاث… وعن المعتوه حتی یعقل. (سنن الترمذي رقم الحديث: 1443، سنن أبي داود رقم الحديث: 4403)

لا یقع طلاق المجنون والمدهوش والنائم. (شامي 450/4 زکریا ، 242/3 کراچی، مجمع الأنهر 2/10، الهدایة2/ 358 بیروت)

لا یقع طلاق … المجنون۔ (درمختار) وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة، رجل عرف أنه کان مجنونا فقالت له امرأته طلقتني البارحة فقال أصابني الجنون ولا یعرف ذٰلک إلا بقوله، کان القول قوله. (شامي 243/3 کراچی، 332/4 بیروت).

   والله أعلم

تاريخ الرقم:     28/5/1440ه 4/2/2019م الاثنين

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply