hamare masayel

تراویح میں قرآن میں دیکھ کر لقمہ دینا

(سلسلہ نمبر: 828).

 تراویح میں قرآن میں دیکھ کر لقمہ دینا

سوال: قرآن میں یا موبائل میں قرآن دیکھ کر تراویح پڑھانے والے حافظ کو لقمہ دینا درست ہے یا نہیں؟ نیز ایسا کرنے سے دیگر مقتدی اور امام کی نماز باقی رہے گی یا نہیں؟

امید کہ دلائل کے ساتھ اس پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔

المستفتی: محمد خطیب اعظمی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: احناف کے نزدیک فرض، سنت اور نفل سمیت کسی بھی نماز میں قرآنِ پاک کا نسخہ یا موبائل ہاتھ میں پکڑ کر یا پکڑے بغیر قرآن مجید دیکھ کر پڑھنا یا سننا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ یا تو عمل کثیر ہے، یا خارجِ صلاۃ سے تعلیم وتلقین ہے، اور دونوں چیزیں نماز کو فاسد کردیتی ہیں، لہذا اگر کوئی شخص نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھ رہا ہے تو اس کی نماز فاسد ہو جاتی ہے اب اگر وہ امام کو لقمہ دے اور امام اس کا لقمہ قبول کرلے تو خارج نماز شخص کا لقمہ قبول کرنے کی وجہ سے امام اور تمام مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی۔

الدلائل

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللہ عنھما قَالَ: نَھَانَا أمِیْرُ الْمُوٴْمِنِیْنَ عُمَرُ رضي اللہ عنہ أَن یَّوٴُمَّ النَّاسَ فِي الْمُصْحَفِ وَنَھَانَا أَن یَّوٴُمَّنَا إِلَّا الْمُحْتَلِمُ۔ کتاب المصاحف لأبي داود (189)

”عن قتادة عن ابن المسیب قال: إِذَا کَانَ مَعَہُ مَا یَقُوْمُ بِہِ لَیْلَہُ رَدَّدَہُ وَلاَ یَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ۔ کتاب المصاحف لأبي داود (190)

عن مجاھد أنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَّتَشَبَّھُوْا بِأَھْلِ الْکِتَابِ یَعْنِيْ أَنْ یَّوٴُمَّھُمْ فِي الْمُصْحَفِ“۔ کتاب المصاحف لأبي داود (191)

عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ کَانَ یَکْرَہُ أَن یَّوٴُمَّ الرَّجُلُ النَّاسَ بِاللَّیْلِ فِيْ شَھْرِ رَمَضَانَ فِي الْمُصْحَفِ ھُوَ مِنْ فِعْلِ أَھْلِ الْکِتَابِ․ (تاریخ بغداد: 9/ 120).

“( وقراءته من مصحف ) أي ما فيه قرآن ( مطلقًا)؛ لأنه تعلم إلا إذا كان حافظًا لما قرأه وقرأ بلا حمل، و قيل: لا تفسد إلا بآية”. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار: 1 / 623).

“(قوله: وقراءته من مصحف) أي يفسدها عند أبي حنيفة، وقالا: هي تامة؛ لأنها عبادة انضافت إلى عبادة إلا أنه يكره؛ لأنه تشبه بصنيع أهل الكتاب، و لأبي حنيفة وجهان: أحدهما أن حمل المصحف والنظر فيه وتقليب الأوراق عمل كثير، الثاني أنه تلقن من المصحف فصار كما إذا تلقن من غيره، وعلى هذا الثاني لا فرق بين الموضوع والمحمول عنده، وعلى الأول يفترقان، و صحح المصنف في الكافي الثاني وقال: إنها تفسد بكل حال تبعًا لما صححه شمس الأئمة السرخسي، و ربما يستدل لأبي حنيفة كما ذكره العلامة الحلبي بما أخرجه ابن أبي داود عن ابن عباس قال: نهانا أمير المؤمنين أن نؤم الناس في المصحف؛ فإن الأصل كون النهي يقتضي الفساد، و أراد بالمصحف المكتوب فيه شيء من القرآن، فإن الصحيح أنه لو قرأ من المحراب فسدت، كما هو مقتضى الوجه الثاني، كما صرحوا به، و أطلقه فشمل القليل والكثير و ما إذا لم يكن حافظًا أو حافظًا للقرآن، و هو إطلاق الجامع الصغير”. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق: 4 / 73).

“إن هذا یلقن من المصحف فیکون تعلمًا منه، ألا تری أن من یأخذ من المصحف یسمی متعلماً فصار کما لو تعلم من معلم، وذا یفسد الصلاة فکذا هذا.” (بدائع الصنائع: 2/ 133).

 والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

23- 9- 1446ھ 24-3- 2025م الاثنین

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply