(سلسلہ نمبر: 832)
زکوۃ واجب ہونے کے بعد مال نصاب سے کم ہوجائے
سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے متعلق کہ زاہدہ ایک شادی شدہ عورت ہے اس کے پاس اتنا سونا اور چاندی ہے کہ اگر دونوں کو ملا دیا جائے تو صاحب نصاب ہوجائے گی؛ لیکن تقریبا دو یا تین سال سے شوہر بیمار تھا اس کے علاج کے لئے اس نے لوگوں سے قرض لیکر علاج کا خرچ پورا کیا اور اس عرصے میں اس نے کوئی زکوٰۃ ادا نہیں کی ہے، اب اگر وہ اپنا پورا زیور بیچ کر قرض ادا کرے تو شاید پوری رقم ختم ہوجائے اور قرض پورا نہ ہو۔
لہذا ایسی صورت میں اس پر پچھلے دو یا تین سال کی زکوٰۃ دینا واجب ہوگی یا اس سے پچھلے سالوں کی زکوٰۃ ساقط ہو جائیگی ۔
جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل تحریر فرمائیں، والسلام۔
المستفتی: عزیزالرحمن کبیر نگری، مقیم سعودی عرب۔
الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: قرض اتنا ہو کہ اگر اسکو منہا کیا جائے تو زکوٰۃ کا نصاب ساقط ہو جائے اس صورت میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ہے۔
اس حساب سے اگر انکا قرض پہلے سال ہی میں زکوٰۃ کے نصاب کو ساقط کردیا ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
اور اگر دوسرے سال میں قرض نے نصاب کو ساقط کیا ہو تو پچھلے سال کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔
اسی طریقہ سے اگر تیسرے سال میں قرض نے زکوٰۃ کے نصاب کو ساقط کیا ہو تو پچھلے دونوں سالوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔
الدلائل
“( ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه ) وقال الشافعي : تجب لتحقق السبب وهو ملك نصاب تام. ولنا أنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كالماء المستحق بالعطش وثياب البذلة والمهنة ( وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا ) لفراغه عن الحاجة الأصلية ، والمراد به دين له مطالب من جهة العباد حتى لا يمنع دين النذر والكفارة “. (فتح القدير لكمال بن الهمام: 3 / 475).
“(وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحرية) والعلم به ولو حكما ككونه في دارنا. (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك . . . (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) . . . (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم . . . (نام ولو تقديرا).
قوله : (وبلوغ) قال في البحر : وخرج المجنون والصبي فلا زكاة في مالهما كما لا صلاة عليهما للحديث المعروف : رفع القلم عن ثلاث . . . قوله : (وإسلام) خرج الكافر لعدم خطابه بالفروع سواء كان أصليا أو مرتدا . . . قوله : (وعن حاجته) متعلق بفارغ الأول الذي هو صفة لنصاب، أي يشترط في النصاب ذهبا أو فضة لوجوب الزكاة فيه أن لا يحتاج إلى إنفاقه في الحاجه الأصلية.” (حاشية الطحطاوي على الدر المختار، كتاب الزكاة: 3/ 152- 159، ط: المكتبة الوحيدية).
والله أعلم.
حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.
12- 3- 1447ھ 5-9- 2025م الجمعة


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


