hamare masayel

پیشگی زکوٰۃ دینا، پیشگی زکوٰۃ ادا کرنے کاحکم، ایڈوانس زکوۃ نکالنے کا حکم

(سلسلہ نمبر: 614)

پیشگی زکوٰۃ دینا

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں فاطمہ نے اپنے لئے کچھ زیور خریدا، ابھی سال پورا نہیں ہوا تھا کہ رمضان مبارک آگیا، تو اسکی زکوۃ نکالنا ضروری ہے؟ اگر نکال دے تو اسکا یہ عمل کیسا ہے؟ برائے مہربانی مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں۔

المستفتی: عبد اللہ اعظمی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، البتہ اگر صاحب نصاب سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ دینا چاہے تو اس کی اجازت ہے، سال پورا ہونے پر اگر مال میں اضافہ ہوجائے تو اس کی بھی زکوٰۃ دینی ہوگی۔

الدلائل

عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ. قَالَ مَرَّةً : فَأَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ. (سنن أبي داود، رقم الحديث: 1626).

ويجوز تعجيل الزكاة قبل الحول إذا ملك نصابا عندنا. (الفتاوى التاتارخانية: 2/ 253).

ولو عجل ذو نصاب زكاته لسنين أو لنصب صح لوجود السبب. (الدر المختار: 2/ 293، كراتشي).

فلو کان عندہ مأتا درهم فعجل زکاۃ ألف فإن استناد مالاً أو ربح حتى صار ألفاً، ثم تم الحول وعندہ ألف، فإنه یجوز التعجیل وسقط عنه زکاۃ الألف. (الفتاویٰ الهندیة: 1/ 174).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

18- 8- 1442ھ 1- 4- 2021م الخميس.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply