Surah E Ikhlas With Urdu Translation

Surah E Ikhlas With Urdu Translation, Surah Ikhlas Tarjuma In Urdu

سورہ اخلاص ترجمہ اور تفيىر

ترتىب: محمد ہاشم قاسمى بستوى۔

شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿1﴾

کہہ دو : بات یہ ہے کہ اللہ ہر لحاظ سے ایک ہے۔

 اللَّهُ الصَّمَدُ ﴿2﴾

اللہ ہی ایسا ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔

 لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿3﴾

نہ اس کی کوئی اولاد ہے، اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔

 وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿4﴾

اور اس کے جوڑ کا کوئی نہیں۔ (٥)

نام اور کوائف

 اس سورة کا نام سورة الاخلاص ہے ”اخلاص“ کے معنی ہیں دل کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کیلئے خاص کرنا گویا یہ سورة انسانوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید کے ساتھ خاص اور مختص کرنے والی ہے ،اس سورت مبارکہ میں تمام ادیان باطلہ، فرق زائغہ وضالہ، یہود، نصاریٰ ، مجوس، مشرکین اور مجمسہ، مشہبہ، حلولیۃ، اتحادیہ (جو ذات وصفات باری تعالیٰ میں الحادوکفریہ عقائد کے مرتکب ہوئے) سب کا رد ہے (کذافي الإکلیل)

شانِ نزول

سورة زخرف ، سورة عنکبوت، مومنون ، سورة یونس ، سورة بنی اسرائیل اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور کفار سے یہ سوال کیا ہے کہ بتاؤ زمین و آسمان کا مالک کون ہے ؟ چاند اور سورج کس کے حکم سے چل رہے ہیں ؟ وہ کون ہے جو بلندیوں سے پانی برسا کر مردہ زمین میں ایک نئی زندگی پیدا کردیتا ہے ؟ عرش عظیم کا مالک و مختار کون ہے ؟ کائنات میں ہر چیز کس کے حکم سے چل رہی ہے؟ وہ کون سی ذات ہے جس کے تم محتاج ہو ؟ یہ دیکھنے، سننے، سمجھنے، سوچنے اور فیصلے کی طاقت کس ذات نے عطا کی ہے ؟ زندگی اور موت کس کے ہاتھ میں ہے؟ فرمایا کہ جب تم دریا یا سمندر کے بھنور میں پھنس جاتے ہو اور وہاں بےبسی کے عالم میں ہوتے ہو تو تم کس کو پکارتے ہو ؟ کون تمہاری فریاد کو سنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو اس کائنات کا خالق ومالک اور مختار ہے۔ وہ اس کائنات کا نظام چلانے میں کسی کا محتاج ہے۔ فرمایا کہ جب تم بھی کسی مشکل میں پھنس جاتے ہو تو ایک اللہ ہی کو یاد کرتے ہو پھر تم عام زندگی میں الٹے کیوں چل رہے ہو ؟ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اللہ کی ذات اور صفات کو بیان فرماتے تھے تو کفار ومشرکین مکہ نے بھی آپ سے بہت سے سوالات کئے تھے۔

حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ خیبر کے کچھ یہودی آپ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا کہ اے ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ نے فرشتوں کو نور سے، حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی اور سڑے ہوئے گارے سے بنایا۔ ابلیس کو آگ کے شعلے سے، آسمان کو دھویں سے اور زمین کو پانی کے جھاگ سے پیدا کیا ہے۔ اپنے رب سے متعلق بتائیے جس نے آپ کو بھیجا ہے کہ (وہ کس چیز سے بنایا گیا ہے) یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے پھر حضرت جبرائیل سورة اخلاص کی آیات لے کر نازل ہوئے۔

اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عباس سے بھی اسی طرح کی ملتی جلتی روایت نقل کی گئی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ یہودیوں کا ایک گروہ جس میں کعب ابن اشرف، حی ابن اخطب بھی شامل تھا انھوں نے پوچھا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں بتائیے کہ آپ کا رب کیسا ہے جس نے آپ کو بھیجا ہے۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے سورة اخلاص کو نازل فرمایا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اللہ ایک ہے یعنی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہی تنہا معبود ہے، سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی چیز میں بھی دوسروں کا محتاج نہیں ہے نہ وہ اپنے پیدا ہونے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ نہ اس کے کوئی بیٹا ہے نہ کوئی کسی اعتبار سے اس کے برابر ہے۔ یعنی اس کا نہ کوئی مثیل ہے اور نہ مثال ہے۔

ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں:  ”مشرکین نے کہا، اے محمد ! ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے تو اللہ عزوجل نے ”قل ھو الله أحد“ نازل فرمائی۔ “ (مستدرک حاکم : ٢/٥٣٠، ج : ٣٩٨٨)

سورہ اخلاص كا خلاصہ

اس سورة کی ان چار مختصر آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کو انتہائی جامع انداز میں بیان فرمایا گیا ہے، پہلی آیت میں ان کی تردید ہے جو ایک سے زیادہ خداؤں کے قائل ہیں، دوسری آیت میں ان کی تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کو ماننے کے باوجود کسی اور کو اپنا مشکل کشا، کار ساز یا حاجت روا قرار دیتے ہیں، تیسری آیت میں ان کی تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد مانتے ہیں، اور چوتھی آیت میں ان لوگوں کا ردّ کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت میں کسی اور کی برابری کے قائل ہیں مثلاً بعض مجوسیوں کا کہنا یہ تھا کہ روشنی کا خالق کوئی اور ہے اور اندھیرا کا خالق کوئی اور ہے، اسی طرح اس مختصر سورت نے شرک کی تمام صورتوں کو باطل قرار دے کر خالص توحید ثابت کی ہے، اس لیے اس سورت کو سورة اخلاص کہا جاتا ہے، اور ایک صحیح حدیث میں اس کو قرآن کریم کا ایک تہائی حصہ قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ قرآن کریم نے بنیادی طور پر تین عقیدوں پر زور دیا ہے : توحید، رسالت اور آخرت اور اس صورت نے ان میں توحید کے عقیدے کی پوری وضاحت فرمائی ہے۔

سوره اخلاص كے فضائل

اس سورت کے صحیح احادیث میں بہت سے فضائل آئے ہیں، اختصار کی وجہ سے چند حدیثیں درج کی جاتی ہیں:

(1) ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک آدمی کو (قیام اللیل میں) ”قل ھو الله أحد“ بار بار پڑھتے ہوئے سنا (اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں پڑھ رہا تھا۔ ) صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسے کم سمجھ رہا ہے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: (والذي نفسي بیدہ! إنھا لتعدل ثلث القرآن) (بخاری، فضائل القرآن ، باب فضل :(قل ھو اللہ احد): ٥٠١٣، ٥٠١٣)” قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ سورت قرآن کے ایک ہتائی حصے کے برابر ہے۔ “

(2) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  نے ایک آدمی کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، وہ نماز میں اپنی قرأت کو ” قل ھو الله أحد “ کے ساتھ ختم کرتا تھا۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: (سلوہ لأي شيء يصنع ذلک؟ )” اس سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ “ لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: (لأنھا صفة الرحمٰن و أنا أحب أن أقرأ بھا)” اس لیے کہ یہ رحمان کی صفت ہے اور مجھے اس کے پڑھنے سے محبت ہے۔ “ تو نبی ﷺ  نے فرمایا: (أخبروہ أن الله یحبه) (بخاری، التوحید، باب ما جاء في دعاء النبي ﷺ: ٨٣٨٥)” اسے بتادو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے۔“

(3) حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پھ لو تو یہ صحابہ پر بھاری پڑا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ اتنی طاقت کس کو ہے ۔ آپ نے فرمایا سنو قل ھو اللہ احد تہائی قرآن ہے۔  (ترمذی حدیث 2906)

سوتے وقت اور دوسرے اوقات میں معوذتین کے ساتھ ملا کر یہ سورت پڑھنے کی احادیث معوذتین کے فضائل مىں ذكر كى گئىں ہىں۔

تنبیہ: بعض روایات میں اس سورت کو روزانہ دو سو مرتبہ یا سو مرتبہ یا پچسا مرتبہ پڑھنے کی مختلف فضیلتیں ائٓی ہیں، مگر ان روایات کی سندیں صحیح نہیں ہیں۔ شوکانی نے فتح القدیر میں وہ روایات درج کر کے ان کا ضعف واضح کیا ہے۔ ابن کثیر نے بھی ان روایات پر کلام کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس سورت کو تین سے زیادہ کسی عدد میں مسنون سمجھ کر پڑھنا درست نہیں۔ ہاں ڈ ! اپنی سہولت کے لیے کوئی شخص کوئی عدد مقرر کرلے، اسے مسنون نہ سمجھے تو درست ہے۔

لغات

أحد: ایک، الصمد: بےنیاز۔ کسی کا محتاج نہیں، لم یلد: اس نے کسی کو نہیں جنا، لم یولد: نہ کسی نے اس کو جنا، کفوا: برابر، أحد: کوئی ایک۔

تشریحِ آيات:

سورة زخرف ، سورة عنکبوت، مومنون ، سورة یونس ، سورة بنی اسرائیل اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور کفار سے یہ سوال کیا ہے کہ بتاؤ زمین و آسمان کا مالک کون ہے ؟ چاند اور سورج کس کے حکم سے چل رہے ہیں ؟ وہ کون ہے جو بلندیوں سے پانی برسا کر مردہ زمین میں ایک نئی زندگی پیدا کردیتا ہے؟ عرش عظیم کا مالک و مختار کون ہے؟ کائنات میں ہر چیز کس کے حکم سے چل رہی ہے؟ وہ کون سی ذات ہے جس کے تم محتاج ہو؟ یہ دیکھنے، سننے، سمجھنے، سوچنے اور فیصلے کی طاقت کس ذات نے عطا کی ہے؟ زندگی اور موت کس کے ہاتھ میں ہے؟ فرمایا کہ جب تم دریا یا سمندر کے بھنور میں پھنس جاتے ہو اور وہاں بےبسی کے عالم میں ہوتے ہو تو تم کس کو پکارتے ہو ؟ کون تمہاری فریاد کو سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو اس کائنات کا خالق ومالک اور مختار ہے۔  وہ اس کائنات کا نظام چلانے میں کسی کا محتاج ہے۔  فرمایا کہ جب تم بھی کسی مشکل میں پھنس جاتے ہو تو ایک اللہ ہی کو یاد کرتے ہو پھر تم عام زندگی میں الٹے کیوں چل رہے ہو ؟ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اللہ کی ذات اور صفات کو بیان فرماتے تھے تو کفار ومشرکین مکہ نے بھی آپ سے بہت سے سوالات کئے تھے۔

اللہ الصمد:

اللہ بےنیاز ہے۔ دنیا میں جتنے بھی جان دار ہیں وہ اپنی بقاء کے لیے کائنات کی ہر چیز کے محتاج ہیں۔ مثلاً پانی، ہوا، مٹی ، آگ، زمین و آسمان، سورج، چاند، رزق، علم، اولاد، سونا اور جاگنا لیکن اللہ کی ذات وہ ہے جو ان میں سے کسی چیز کی محتاج نہیں ہے بلکہ سب اس کے ہی محتاج ہیں۔ وہ سب کو کھلاتا ہے خود نہیں کھاتا نہ اس کو نیند آتی ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے ، یعنی ہر ایک اس کا محتاج ہے لیکن وہ کسی کا کسی طرح محتاج نہیں ہے۔ صحابہ کرام (رض) اور ان کے بعد آنے والے حضرات نے الصمد کا مفہوم یہ بیان کیا ہے۔
(1) جو سب سے بےنیاز ذات ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں۔ (حضرت ابوہریرہ (رض)
(2) اللہ وہ ذات ہے جس میں سے نہ کوئی چیز نکلتی ہے اور نہ وہ کھانے پینے کا محتاج ہے۔ (حضرت عکرمہ (رض)
(3) وہ جو اپنی ذاتی صفات اور اعمال میں کامل ہے۔ (حضرت سعید ابن جبیر (رض)
(4) وہ جو ہر طرح کے عیبوں سے پاک ہے۔ (مقاتل ابن حیان)
(5) وہ جو باقی رہنے والا ہے اور جسے زوال نہیں ہے۔ (حضرت حسن بصری (رض) ، حضرت قتادہ (رض)
(6) اللہ وہ ہے جو اپنی مرضی سے جو چاہے فیصلے کرتا ہے۔ وہ جب چاہے جو کچھ چاہے کرتا ہے۔ اس کے حکم اور فیصلوں پر کوئی نظرثانی کرنے والا نہیں ہے (مراۃ الھمدان)
(7) وہ جس کی طرف لوگ اپنی حاجتوں کے لیے رجوع کرنے والے ہوں۔ (حضرت ابن مسعود (رض)
(8) وہ جس سے بالاتر کوئی نہ ہو۔ (حضرت علی (رض)
(9) وہ جو اپنی سرداری، سیادت، علم اور حخمت میں کامل ہو۔ (حضرت عبداللہ ابن عباس (رض)
(10) وہ ہے جو کسی مصیبت کے وقت اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ (حضرت ابن عباس (رض)

لم یلد و لم یولد:

نہ وہ پیدا کرتا ہے نہ وہ پیدا کیا گیا ہے۔
اصل میں اللہ تعالیٰ کے متعلق عربوں میں اور ساری دنیا میں عجیب و غریب تصورات تھے جن کی قرآن کریم نے بھرپور انداز سے تردید فرمائی ہے۔
(1) عرب کے لوگ فرشتوں کے متعلق کہتے تھے ( نعوذ باللہ) وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
(2) وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھتے تھے کہ آپ جس کی طرف بلا رہے ہیں تو اس اللہ کی نسبت کیا ہے ؟ اس نے کس سے میراث پائی ہے ؟ اور اس کے بعد اس کا وارث کون ہوگا ؟
(3) وہ سمجھتے تھے کہ وہ جس کو اللہ کا بیٹا یا بیٹی قرار دے رہے ہیں وہ اللہ کی نسبی اولاد ہیں۔
(4) کسی نے جنوں کو اللہ کا شریک، عالم الغیب اور رشتہ دار سمجھ رکھا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کفار و مشرکین کے ان عقیدوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ نہ تو اس کائنات کے نظام کو چلانے میں کسی کا محتاج ہے نہ اس کے بیٹا اور بیٹیاں ہیں۔ نہ اس کا کوئی وارث ہے اور نہ اس کو کسی کی میراث ملی ہے۔
اللہ نے ان کی تمام غلط باتوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ ان باتوں سے بلندو برتر ہے جو لوگ اس کی ذات کی طرف ان باتوں کو منسوب کرتے ہیں درحقیقت وہ گمراہ ہیں اور ان کو راہ ہدایت کو اختیار کرنا چاہیے۔

لم یکن له کفوا أحد:

ہم کفو اس کو کہتے ہیں جو رتبہ میں کسی کے برابر ہو۔ اللہ نے فرمایا کہ جس طرح اس کے نہ تو بیٹا ہے نہ بیٹی اسی طرح کوئی اس کے برابر بھی نہیں ہے یعنی وہ کسی بیوی کا بھی محتاج نہیں ہے۔ وہ یکتا ہے، بےنیاز ہے ونہ وہ کسی کا باپ ہے نہ اس کا کوئی باپ ہے اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔
اس سورت کے فضائل : حضرت امام احمد (رح) نے حضرت عقبہ ابن عامر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ میں تمہیں تین ایسی سورتیں بتاتا ہوں جو توراۃ ، زبور، انجیل اور قرآن سب میں نازل ہوئی ہیں۔ فرمایا کہ تم رات کو اس وقت تک نہ سوؤ جب تک ان تین سورتوں کو نہ پڑھ لیا کرو۔ سورة اخلاص، سورة الفلق اور سورة الناس۔ حضرت عقبہ ابن عامر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی ان تین سورتوں کو نہیں چھوڑا۔ (ابن کثیر)

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply