surah jasia with urdu translation

Surah Jasia With Urdu Translation, Surah Jasia Meaning In Urdu

ترجمہ اور تفسير سورہ جاثيہ

مرتب: محمد ہاشم قاسمى بستوى، استاذ جامعہ اسلاميہ مظفر پور اعظم گڑھ۔

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے

حم ﴿1﴾

حم۔

 تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿2﴾

یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جارہی ہے جو بڑا صاحب اقتدار، بڑا صاحب حکمت ہے۔

 إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِلْمُؤْمِنِينَ ﴿3﴾

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

 وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَابَّةٍ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿4﴾

اور اسی طرح خود تمہاری خلقت اور حیوانات کے اندر بھی، جو اس نے زمین میں پھیلا رکھے ہیں، ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین کرنا چاہیں۔

 وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿5﴾

اور (اسی طرح) رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور اس رزق میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس زمین کو تروتازہ کیا اس کے خشک ہوئے پیچھے، اور ہواؤں کے ادل بدل میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔

 تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿6﴾

یہ اللہ کی وہ نشانیاں ہیں جنہیں پڑھ کر ہم آپ کو سنا رہے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ اور اس کی (بےشمار) نشانیوں کے بعد آخر یہ لوگ کس بات پر ایمان لائیں گے؟

 وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿7﴾

بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کیلئے جو جھوٹ لگانے والا ہے،

 يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿8﴾

جو اللہ کی آیات کو جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہے سنتا تو ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے تکبر پر اڑا رہتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں ۔ ( اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے شخص کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے۔

 وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ﴿9﴾

اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے، یہی لوگ تو ہیں جن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

 مِنْ وَرَائِهِمْ جَهَنَّمُ ۖ وَلَا يُغْنِي عَنْهُمْ مَا كَسَبُوا شَيْئًا وَلَا مَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿10﴾

ان کے آگے جہنم ہے اور ان کے کام نہ تو وہ چیزیں کچھ بھی آئیں گی جو یہ کما گئے اور نہ وہ جن کو انھوں نے اللہ کے سوا کارساز تیار کیا تھا اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

 هَٰذَا هُدًى ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ ﴿11﴾

یہ قرآن تو سراسر ہدایت ہے اور جنہوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ہے ان کے لیے بد ترین اور درد ناک عذاب ہے۔

 اللَّهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿12﴾

اللہ ہی تو ہے جس نے سمندر کو تمہارے لیے مسخر ( تابع) کردیا ہے تاکہ تم اس کے حکم سے اس میں کشتیاں ( جہاز) چلاؤ اور تاکہ تم اس کا فضل ( رزق) تلاش کرو اور توقع ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو گے

وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿13﴾

اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب کا سب اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ بیشک ان میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

 قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿14﴾

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ایمان رکھنے والوں سے کہہ دیجئے کہ وہ ان سے در گزر کریں جو اللہ کی طرف سے برا دن آنے کا خوف نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایسی قوم کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے جو وہ کرتے رہے ہیں

 مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ﴿15﴾

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت اور نبوت دی تھی اور ہم نے انھیں پاکیزہ چیزیں مہیا کردی اور ہم نے انھیں دنیا جہان والوں پر فضیلت دی تھی۔

 وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿16﴾

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت اور نبوت دی تھی اور ہم نے انھیں پاکیزہ چیزیں مہیا کردی اور ہم نے انھیں دنیا جہان والوں پر فضیلت دی تھی۔

 وَآتَيْنَاهُمْ بَيِّنَاتٍ مِنَ الْأَمْرِ ۖ فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿17﴾

اور ہم نے انھیں دین کے باب میں کھلی ہوئی دلیلیں دی تھیں سو انھوں نے علم آنے کے بعد بھی باہم اختلاف کیا آپس کی ضد سے، ف ١٢۔ بیشک آپ کا پروردگار ان کے درمیان ان امور میں فیصلہ کردے گا جس میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

 ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿18﴾

پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا سو آپ اسی پر چلے جائیے اور بےعلموں کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجئے۔

 إِنَّهُمْ لَنْ يُغْنُوا عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۖ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ ﴿19﴾

یہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں آپ کے ذرا بھی کام نہیں آسکتے، ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں، اور پرہیزگاروں کا دوست تو اللہ ہے۔

 هَٰذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿20﴾

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے دنشمندیوں (کا سبب) اور ہدایت (کا ذریعہ) ہے اور یقین لانے والوں کے لیے بڑی رحمت ہے۔

 أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ﴿21﴾

کیا جو لوگ برے برے کام کررہے ہیں اس خیال میں ہیں کہ ہم انھیں ان جیسا رکھیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کی زندگی اور ان کی موت یکساں ہی رکھیں سوکیسا برا حکم یہ لوگ لگاتے ہیں۔

 وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿22﴾

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے اور ان پر ذرا ظلم نہ کیا جائے گا۔

 أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿23﴾

سو کیا آپ نے اس شخص کی بھی حالت دیکھی ہے جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنا رکھا ہے اور اللہ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہرلگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے، ف ١٩۔ سو ایسے کو بعد اللہ کے اور کون ہدایت کرے تو کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے ۔

 وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُمْ بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ﴿24﴾

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی حیات کے اور کوئی حیات نہیں ہم (بس ایک ہی بار) مرتے اور (بس ایک ہی بار) زندگی پاتے اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے درآنحالیکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں یہ محض اٹکل سے ہانک رہے ہیں۔

 وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ مَا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتُوا بِآبَائِنَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ﴿25﴾

اور جب ہماری کھلی کھلی آیات سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کرکے ) لے آؤ۔

 قُلِ اللَّهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿26﴾

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیجئے کہ وہی تمہیں زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے ۔ پھر وہی تمہیں قیامت کے ایسے دن میں جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔

 وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ الْمُبْطِلُونَ ﴿27﴾

بس اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز اہل باطل بڑے خسارہ میں ہوں گے۔

 وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿28﴾

آپ اس دن ہر گروہ کو گھنٹوں کے بل گرا ہوا دیکھیں گے ۔ ہر فرقہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو کہ تم کرتے رہے تھے۔

 هَٰذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿29﴾

یہ ہمارا رجسٹر ہے جو تمہارے حق میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے تم جو کچھ بھی کرتے رہتے تھے، ہم سب لکھواتے جاتے تھے۔

 فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿30﴾

سو جو لوگ ایمان لائے تھے اور انھوں نے نیک عمل بھی کئے تھے تو ان کو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں داخل کرے گا صریح کامیابی یہی تو ہے،

 وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا أَفَلَمْ تَكُنْ آيَاتِي تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنْتُمْ قَوْمًا مُجْرِمِينَ ﴿31﴾

اور جو لوگ کافر تھے سو (اے کافرو) کیا میری آیتیں تم کو پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں لیکن تم اکڑے رہے اور تم لوگ بڑے مجرم تھے۔

 وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُمْ مَا نَدْرِي مَا السَّاعَةُ إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ﴿32﴾

اور جب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہا کرتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت ہے کیا چیز، ہاں ایک خیال سا تو ہم کو بھی ہوتا ہے اور ہم (اس پر) یقین کرنے والے نہیں۔

 وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿33﴾

اور جو اعمال انھوں نے کئے تھے ان کی برائیاں ان پر کھل جائیں گی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان کو گھیر لے گا۔

 وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنْسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ﴿34﴾

اور کہا جائے گا کہ آج کے دن ہم بھی تمہیں اسی طرح بھلا دیتے ہیں جس طرح تم اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے۔ اب تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور کوئی تمہارا مدد گار نہیں ہے۔

 ذَٰلِكُمْ بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ﴿35﴾

یہ (سزا) اس لیے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو ہنسی بنا رکھا تھا اور تم کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا تو آج تو یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے (اللہ کی) خفگی دور کی جائے گی۔

 فَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿36﴾

پس تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہی زمین کا رب ہے اور وہی تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

 وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿37﴾

بس اسی کے لیے آسمانوں اور زمین میں بڑائی ہے اور وہی زبردست ہے، حکمت والا ہے۔

 تعارف سورة الجاثیہ

 اس سورت میں بنیادی طور پر تین باتوں پر زور دیا گیا ہے، ایک یہ کہ اس کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی اتنی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں کہ ایک انسان اگر معقولیت کے ساتھ ان پر غور کرے تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کائنات کے خالق کو اپنی خدائی کے انتظام میں کسی شریک کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا کر اس کی عبادت کرنا سراسر بےبنیاد بات ہے، دوسرے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا ہے کہ آپ کو شریعت کے کچھ ایسے احکام دیئے گئے ہیں جو پچھلی امتوں کو دیئے ہوئے احکام سے کسی قدر مختلف ہیں، چونکہ یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، اس لیے اس پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے، تیسرے اس سورت میں قیامت کے ہول ناک مناظر کا نقشہ کھینچا گیا ہے، اسی سلسلے میں آیت نمبر : ٢٨ میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ ڈر کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے، جاثیہ عربی زبان میں ان لوگوں کو کہتے ہیں جو گھٹنے کے بل بیٹھتے ہوں، اسی لفظ کو سورت کا نام بنادیا گیا ہے۔

اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ

آیات قدرت اور قرآن سے انکار کا انجام

حروف مقطعات سے شروع ہونے والی سورتیں عموماً ذکر قرآن ہی سے شروع ہوتی ہیں، یہاں بھی قرآن ہی کا ذکر آغاز میں لایا گیا اور ارشاد ہوا کہ یہ کتاب خدائے غالب ودانا کی طرف سے نازل کردہ ہے اور جو لوگ ایمان لانا چاہتے ہیں ان کے لئے آسمانوں اور زمین میں بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ مثلاً آسمان میں شمس وقمر اور ستارے نظر آتے ہیں یہ کس نے بنائے ہیں ؟ شمس و قمر کا ہزاروں برس سے اپنے اپنے مدار میں ایسی مقرر رفتار سے گھومنا کہ ایک منٹ سیکنڈ کا فرق نہ آئے، کس کے حکم سے ہے؟ اور وہ اللہ کے سوا کون ہے ؟

یوں ہی اتنی بڑی زمین کو ایک مقررہ رفتار پر کس نے گھمایا ہے، زمین کا مجموعی رقبہ 50 کروڑ 97 لاکھ مربع کلومیٹر ہے اتنی بڑی زمین کو فضا میں کس نے معلق کر رکھا ہے اور سائنسدانوں کے مطابق زمین کا سورج کے گرد مدار چھپن کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار میل یا 95 کروڑ 90 لاکھ میٹر ہے اور اس مدار میں زمین سال بھر میں ایک دائرہ مکمل کرتی ہے اور جب سے وہ بنی ہے اسی طرح گھوم رہی ہے آخر اسے کس نے بنایا ہے اور وہ اللہ کے سوا کون ہے ؟ تو جس رب نے یہ نظام بنایا وہیں ہماری عبادت کا مستحق ہے اور ہم پر لازم ہے کہ اس کے ارسال کردہ انبیاء اور اس کی نازل کردہ کتب پر ایمان لائے جن میں سے آخری نبی محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آخری کتاب قرآن ہے۔

وَفِيْ خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَاۗبَّةٍ اٰيٰتٌ لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ

انسان کے ہر عضو میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت ہزاروں نشانیاں رکھی ہیں اگر انسان ان میں غور کرے تو اسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین کامل حاصل ہوجائے ہم اس میں سے کچھ عرض کرتے ہیں۔

انسان کے وجود میں توحید ربانی کی بعض دلیلیں

انسان کی آنکھوں میں بینائی کا نظام اس قدر گہرا ہے کہ آج تک سائنس اسے مکمل طرح سمجھ نہیں سکی حالانکہ بظاہر آنکھ میں پانی کے چند قطروں کے سوا کچھ نہیں، ناک میں سونگھنے کی صلاحیت ہے کسی اور عضو میں یہ صلاحیت نہیں۔ یہ صلاحیت کس نے پیدا کی ہے ؟ یہی حال کانوں کا ہے، زبان کو قوت گویائی کس نے دی ہے ؟ بظاہر یہ بھی گوشت کا ایک لوتھڑا ہی ہے اور جانوروں کی زبان کو کس نے خاموش کیا ہے۔ پھر زبان کے نیچے دائیں بائیں دو جھلیاں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے لعاب کے دو چشمے بہائے ہیں۔ انسان جیسے ہی منہ میں لقمہ ڈال کر اسے چباتا ہے تو ان دونوں چشموں سے لعاب ابلنے لگتا ہے جو لقمے کے ساتھ مل کر اسے اس قدر نرم کردیتا ہے کہ وہ آسانی سے گلے سے نیچے اتر جاتا ہے۔ اگر یہ لعاب نہ ہوتا تو انسان کچھ کھا نہ سکتا اور بھوکا مرجاتا۔

اور جانوروں میں بھی انسانوں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں کئی جانور ہم سے بہت طاقتور ہیں جیسے گھوڑا، اونٹ ہاتھی وغیرہ مگر کس طاقت نے انھیں ہمارے لیے مسخر کیا ہے کہ ہم ان پر بیٹھ کر انھیں جدھر چاہیں ہانک لے جاتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ ان چیزوں میں غور کرے اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائے اور کبھی اس کے احکام سے سرتابی نہ کرے۔

سائنسی علوم کا پڑھنا قرآن کی منشاء ہے اور بعض مسلم سائنسدانوں کا ذکر

کیونکہ ان آیات میں فلکیات، ارضیات، موسمیات اور حیوانیات میں غور کی دعوت دی گئی ہے اور یہی اہم سائنسی علوم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے ان قرآن آیات پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی کائنات میں غور و فکر شروع کیا اور کئی سائنسی علوم کی بنیاد رکھی۔

چنانچہ علامہ ابو ریحان الیبیرونی (متوفی 1048 عیسوی) نے دسویں صدی عیسیوی میں علم فلکیات (ایسٹرونومی) کی بنیاد رکھی اور شمس و قمر کی گردشوں کا تعین کیا اور اس کے وضع کردہ اصول آج بھی ناقابل تردید ہیں۔

اس سلسلہ میں ان کی کتاب ”القانون المسعودي“ علم فلکیات کی سب سے پہلی کتاب ہے۔ اس میں حساب دور شمس و قمر کے ایسے اٹل قوانین بتائے گئے ہیں، جن کو آج تک چیلنج نہیں کیا جاسکا۔ حالانکہ سائنس بہت ترقی کرگئی ہے۔ اسی طرح علم طب کے بنیادی اصول بھی علامہ ابو ریحان نے اپنی کتاب ”الشفاء“ میں مقرر کیے۔ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں یہ کتاب The Book of Kenan کے نام سے پڑھائی جاتی ہے۔

اسی طرح کیمسٹری (علم کیمیا گری) کا پہلا موجد بھی ایک مسلمان سائنس دان ہے، اسے انگریزی بھی فادر آف کیمسٹری کہتے ہیں، یعنی جابر بن حیان، اس کا سن وفات وفات 817 عیسوی ہے۔ اس نے گندھک اور تیزاب جیسی دھاتیں ایجاد کیں۔ یونہی ابن زہر (متوفی 1162 عیسوی) ہے۔ یہ علم نیرالوجی (علم الاعصاب) کا موجد اول ہے۔

اس کے علاوہ ابو عبداللہ محمد بن موسیٰ خوارزمی (متوفی 850 عیسوی) الجبرا (علم حساب) کا موجود ہے۔ اس کی کتاب ”المختصر في حسب الجبر“ آج تک یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ مگر افسوس مسلمانوں نے اپنے آباء کی محنتوں سے منہ موڑ لیا اور اغیار نے ان سے استفادہ کرکے اتنی ترقی کی کہ آج ہم ان کے محتاج ہوگئے ہیں۔ )ماخوذ از تفسير برہان القرآن قارى طيب صاحب رحمہ الله)

وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰيٰتِنَا شَيْئَۨا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ

یہ آیات نظر بن حارث کے بارہ میں نازل ہوئیں۔ وہ قرآن مجید اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بدترین دشمن تھا وہ بغرض تجارت ایران و یمن کا سفر کرتا تھا اس نے اسفندیار و رستم اور دوسرے عجمی بادشاہوں کے قصے یاد کر رکھے تھے۔ جب کسی مجلس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وعظ فرما کر جاتے، وہ آپ کے بعد وہاں کے لوگوں کو قصے سناتا اور کہتا بتاؤ میری کہانیاں زیادہ خوبصورت ہے یا محمد کی ؟ یہ شخص بدر میں گرفتار ہوا، باقی قیدیوں کو چھوڑ دیا گیا مگر اسے قتل کیا گیا۔ کیونکہ اگر اسے چھوڑا جاتا تو وہ مزید گمراہی پھیلاتا۔ ایسے لوگوں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے لیے ویل (ہلاکت) ہے اور ویل جہنم کی ایک وادی بھی ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات یعنی قرآن سن کر بھی تکبر سے منہ موڑتے ہیں بلکہ قرآن کا مذاق اڑاتے ہیں، ایسے لوگوں کے لئے ذلت آمیز عذاب ہے۔

قُلْ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَغْفِرُوْا لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ اَيَّامَ اللّٰهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ

مکہ میں ایک کافر نے حضرت عمر فاروق (رض) کو گالی دی آپ نے منہ توڑ جواب دینا چاہا تو یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں درگزر سے کام لینے کا حکم دیا گیا کیونکہ مکہ میں اذن جہاد نہیں آیا تھا۔ (تفسیر بغوی جلد 6 صفحہ 151)

یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مومنین ان کفار سے جو اللہ کی پکڑ سے بےخوف ہیں درگزر سے کام لیں اللہ خود ہی انھیں ان کے کسب کی سزا دے گا۔

مظلوم اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے درس عمل

اس سے معلوم ہوا کہ جب بھی کسی خطہ ارضی کے مسلمانوں کے وہ حالات ہوں جو ارض مکہ میں صحابہ کرام (رض) کے تھے یعنی وہ اقلیت اور محکومیت و مظلومیت میں ہوں جیسے آج فلسطینیوں کشمیری اور ہندوستاني مسلمانوں کا حال ہے تو وہ اپنے وجود کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے درگزر اور حسن معاملہ سے کام لیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا: اِلَّا اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً (آل عمران 28) یہ حکم محکوم و مجبور مسلمانوں کے لیے ہے۔ مگر دوسرے آزاد مسلمانوں کے لیے حکم ہے کہ وہ ان محکوم و مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے کفار سے جہاد کریں۔

 چنانچہ ہجرت کے بعد مکہ میں پھنسے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے جہاد ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا.” تمہیں کیا ڈر ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دے اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دے جہاں کے لوگ ہم پر ظلم کرتے ہیں “ (نساء۔ 75) لہٰذا آج دنیا بھر کے مسلمانوں پہ لازم ہے کہ اپنے فلسطینی کشمیری افغانی اور عراقی مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے جہاد کریں اور انھیں کفار کی چیرہ دستیوں سے بچائیں۔

 مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ ، وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا ۡ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ

یعنی جو نیکی کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ پر احسان نہیں کرتا بلکہ اپنے فائدہ کے لئے کرتا ہے اور جو برائی کرتا ہے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ تھا بلکہ اپنا معاملہ بگاڑتا ہے۔ کیونکہ روز قیامت ہر چیز کا حساب ہوجائے گا۔

ایصال ثواب کے خلاف ایک غلط استدلال کا رد

اس جگہ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ سے بعض لوگ ایصال ثواب کی نفی ثابت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان جو نیکی کرتا ہے اس کا فائدہ صرف اسی کو مل سکتا ہے کسی اور کو نہیں۔ مگر یہ نہایت غلط اور نہایت غلط استدلال ہے، کیونکہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہا جائے : من اشتری شیئا فلنفسه یعنی جس نے کوئی چیز خریدی اس کا مالک وہی ہے۔ اب اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ اپنی خریدی ہوئی چیز کسی کو نہیں دے سکتا۔

 یوں ہی جس نے اچھا عمل کیا اس کے ثواب کا اصل مالک تو وہی ہے مگر وہ جسے چاہے اس کا ثواب دے بھی سکتا ہے۔

جیسے حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی والدہ فوت ہوگئیں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا کہ اپنی والدہ کے لئے پانی کا صدقہ کرو انھوں نے کنواں کھدوایا اور کہا : ھذہ لام سعد۔ یہ کنواں والدۂ سعد کے نام کا ہے۔

معنی یہ ہے کہ جب تک وہاں سے لوگ پانی پئیں گے۔ حضرت سعد (رض) کی والدہ کو ثواب پہنچے گا۔ تو ایصال ثواب سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے ؟

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئی، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری والدہ نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی، مگر وہ حج نہ کرسکی اور فوت ہوگئی۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا : نعم حجّی عنھا۔ ہاں تم اس کی طرف سے حج کرسکتی ہو۔ (صحیح بخاری کتاب الصید باب 22)

یعنی جب تو اس کی طرف سے حج کرو گی تو اسے اس کا اجر پہنچے گا۔

اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ۭ فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ

اس کا ایک معنی یہ ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کی باتوں سے انکار کرکے اپنی خواہشات کی بات مانتے ہیں گویا انھوں نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا ہے۔

دوسرا معنی حضرت سعید بن جبیر (رض) سے مروی ہے کہ کفار عرب جس پتھر کو اچھا جانتے اس کی پوجا شروع کردیتے اور جب اس سے اچھا پتھر مل جاتا تو پہلے پتھر کو پھینک کر نئے پتھر کو پوجنے لگتے یعنی خواہش کے بدلنے سے ان کا خدا بھی بدل جاتا، گویا خواہش ہی ان کا خدا تھا۔ (قرطبی جلد 16 صفحہ 127 ۔ بغوی جلد 6 صفحہ 153)

یہ آیت ہمیں درس دیتی ہے کہ خواہش کو دین کے تابع کرنا مومن کا کام ہے اور دین کو خواہش کے تابع کرنا کافر کا طریقہ ہے۔

علم پر گمراہ کرنے کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل سے علم ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور کفر پر ڈٹ جائیں گے۔ دوسرا یہ معنی ہے کہ ان لوگوں کو علم دیا گیا، پھر بھی انھوں نے ضدو عناد سے کام لیا۔ تب انھیں بطور سزا مستقلاً گمراہ قرار دیا گیا۔ اور یہی قانون فطرت ہے۔

مروی ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت مقاتل سے مروی ہے کہ ابوجہل ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ محو طواف تھا۔ وہ ولید سے کہنے لگا : واللہ میں جانتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچا ہے ہم بچپن سے اسے صادق و امین کہتے آئے ہیں۔ پھر جب وہ اپنی پختہ عقل کو پہنچا تو ہم نے اسے کاذب و خائن کہنا شروع کردیا۔ ولید نے کہا : پھر تم اس پر ایمان کیوں نہیں لے آتے ؟ ابوجہل نے کہا قریش کی لڑکیاں کہیں گی کہ میں نے روٹی کے چند ٹکڑوں کے لیے ابوطالب کے یتیم (بھتیجے) کی پیروی کرلی لات و عزیٰ کی قسم میں کبھی اس کی پیروی نہیں کروں گا تب یہ آیت اتری : وَختَمَ عَلیٰ سَمْعِہٖ و قلبہ الخ۔ (قرطبی جلد 16 صفحہ 170)

خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص حق کو خوب سمجھ کر ابوجہل کی طرح باطل پہ اڑ جائے، اللہ تعالیٰ بطور سزا اس کے کانوں اور دل پر گمراہی کی پکی مہر اور آنکھوں پر مستقل پردہ ڈال دیتا ہے جیسے کہ دوسری جگہ فرمایا گیا کَذٰلِکَ یَطْبَعُ الله عَلیٰ کُلِّْ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ.  اسی طرح اللہ ہر متکبر و ظالم شخص کے دل پر مہر لگا دیتا ہے “ (مومن۔ 35)

قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ

یعنی منکرین قیامت کو جب حقانیت قیامت کے دلائل دیے جاتے ہیں تو وہ کج بحثی کرتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھ سکتا ہے اور تم اس بات میں سچے ہو تو ہمارے اگلے باپ دادا کو دوبارہ زندہ کر کے لے آؤ۔ تب ہم مانیں کہ انسانوں کا دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہے۔ حالانکہ ان کی یہ بات قطعی جاہلانہ تھی۔ کیونکہ دوبارہ زندہ ہونا جزا و سزا کے لیے ہے اور اس کے لیے یوم قیامت مقرر ہے۔ دنیاداری عمل ہے یہاں وہ جزاوسزا نہیں ہے جو قیامت میں ہوگی اور دنیا میں ہر جان کو ایک ہی بار آنے کا موقع دیا جاتا ہے دوسری بات یہ بھی ہے کہ اگر ان کے مطالبہ پر ان کے آباؤ اجداد کو زندہ کردیا جاتا تو بھی وہ ہرگز ایمان نہیں لاتے اور عذاب الہی کا شکار ہوجاتے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کی مذکورہ بات کے جواب میں فرمایا کہ یاد رکھو تمہیں زمانہ نہیں بلکہ اللہ زندہ کرتا اور مارتا ہے وہی تمہیں روز قیامت جمع کرے گا مگر اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے۔

درس توکل اور حضرت انس (رض) کا عظیم توکل

اس آیت سے ہمیں عظیم درس توکل ملتا ہے کہ جب موت و حیات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو کسی ظالم جابر حاکم کے ڈر سے احکام دین سے دستبرداری کیوں کی جائے۔ مروی ہے کہ حجاج نے حضرت انس (رض) کو بلایا اور غصہ سے کہا کیا تم ہمیں بددعائیں دیتے ہو ؟ فرمایا : ہاں، کہا کیوں ؟ فرمایا : اس لیے کہ تم اللہ کے نافرمان اور سنت نبی کے مخالف ہو، دشمنان خدا کو عزیز اور دوستان خدا کو ذلیل جانتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں برے طریقہ سے قتل کروں گا۔ آپ نے فرمایا : اگر میں جانتا ہو تاکہ موت و حیات تیرے ہاتھ میں ہے تو میں تیری عبادت کرتا۔ حجاج نے کہا تم مجھ سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ آپ نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا سکھلائی تھی کہ جو اسے صبح و شام پڑھ لے اس پر نہ جادو اثر کرتا ہے نہ ظالم کا ظلم اور میں نے وہ دعا صبح پڑھی تھی۔ حجاج نے کہا وہ دعا مجھے بھی سکھلاؤ، فرمایا بخدا ہرگز نہیں، حجاج نے انھیں چھوڑ دیا۔ اس کے ساتھیوں نے پوچھا تم نے انس کو کیسے چھوڑ دیا ؟ کہنے لگا اس کے دائیں بائیں دو شیر منہ کھولے کھڑے تھے، اور قریب تھا کہ مجھ پر حملہ کردیتے۔ جب حضرت انس (رض) کا وقت وصال قریب آیا تو آپ نے اپنے ایک خادم کو وہ دعا سکھلائی، دعا یہ تھی :

بسم اللہ الرحمن الرحیم، بسم الله خیر الأسماء، بسم الله لا یضر مع اسمه شیئ في الأرض ولا في السماء. ” اللہ کے نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے، اللہ کے نام سے جو سب سے بہتر نام ہے، اس اللہ کے نام سے کہ اس کے نام کی موجودگی میں کوئی شیئ نقصان نہیں دے سکتی، نہ زمین میں نہ آسمان میں “۔ (روح البیان جلد 8 صفحۃ 459)

وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

روز قیامت جب دوزخ کو لوگوں کے سامنے لایا جائے گا تو ایسا وقت آئے گا کہ ہر گروہ اور ہر انسان اللہ تعالیٰ کے حضور خوف کے مارے گھٹنوں کے بل جھک جائے گا۔ حتی کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) بھی نفسی نفسی پکارنے لگیں گے۔ مروی ہے کہ قیامت میں ایک گھڑی آئے گی جو دس برس پر مشتمل ہوگی، اس میں سب لوگ گھٹنوں کے بل جھکے ہوں گے حتی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہتے ہوں گے اے اللہ ! آج میں صرف اپنے بارہ میں سوال کروں گا۔ (قرطبی ج 16 صفحہ 174)

عبداللہ بن باباہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گویا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم اونچے ٹیلوں پر روز قیامت جہنم کے آگے گھٹنوں کے بل جھکے ہو۔ (تفسیر ابن ابی حاتم جلد 10 صفحہ 3292 حدیث 18541) اس وقت کہا جائے گا کہ آج ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا دی جائے گی یعنی عدل ہوگا، یہ سن کر ہر کوئی کانپنے لگے گا۔ پھر جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر باب شفاعت کھول دیا جائے گا تو یہ کیفیت ختم ہوجائے گی اور عدل کے ساتھ فضل کا باب بھی کھل جائے گا۔

وَلَهُ الْكِبْرِيَاۗءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۠ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَـكِيْمُ

یقینا اللہ سب سے بڑا ہے ! وہ آسمانوں میں بھی سب سے بڑا ہے اور وہ زمین میں بھی سب سے بڑا ہے۔ مگر زمین میں عملی طور پر اسے بڑا نہیں مانا جا رہا۔ زمین میں اللہ کے بندے اللہ سے بغاوت کرچکے ہیں۔ وہ اللہ کے قوانین کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کی قانون سازی کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کسی ملک کے عوام ہی اس کے اقتدار اعلیٰ (sovereignty) کے اصل مالک ہیں۔ لیکن یاد رکھیے ! ” حاکمیت “ کا یہی دعویٰ سب سے بڑا کفر اور سب سے بڑا شرک ہے ‘ چاہے یہ دعویٰ فردِ واحد کرے یا پوری قوم مل کر کرے۔ اس حوالے سے بائبل میں موجود Lord’s Prayer کے یہ الفاظ بہت اہم ہیں۔ اس دعا میں اسی دعوے کو ختم کرنے ‘ اسی کفر و شرک کو مٹانے اور آسمانوں کی طرح زمین پر بھی اللہ کی مرضی نافذ کرنے کا ذکر ہے :

 Thy Kingdom come

 Thy will be done on Earth

 As it is in Heavens

کہ اے اللہ ! تیری بادشاہت آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمانوں میں پوری ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی پوری ہو۔ آسمانوں کی مخلوق تو تیرے احکام کو من و عن تسلیم کرتی ہے۔ سورج تیری مرضی کے مطابق رواں دواں ہے۔ چاند تیرے حکم کا تابع ہے اور تمام کہکشائیں تیری مشیت کے سامنے سرنگوں ہیں ‘ لیکن ایک زمین ہے کہ جس کے بحر و بر کو انسان نے اپنے کرتوتوں کے سبب فساد سے بھر دیا ہے: {ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِي النَّاسِ} (الروم: ٤١) ۔۔ اس لیے ضروری ہے کہ اللہ کی مرضی جیسے آسمانوں پر نافذ ہے ویسے ہی زمین پر بھی نافذ ہو۔ زمین پر بھی اللہ کے حکم کو سپریم لاء کا درجہ حاصل ہو۔ اسی قانون کے مطابق فیصلے ہوں۔ اسی کیفیت کا نام ” اقامت دین “ ہے ‘ جس کے لیے ” تنظیم اسلامی “ جدوجہد میں مصروف ہے۔

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply