Surah Qariah With Urdu Translation

Surah Qariah With Urdu Translation

سورہ القارية ترجمہ اور مختصر تشريح

مرتب: محمد ہاشم قاسمى بستوى، استاذ جامعہ اسلاميہ مظفر پور اعظم گڑھ يوپى ، انڈيا۔

اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

الْقَارِعَةُ ﴿1﴾

وہ کھڑکھڑانے والی چیز

 مَا الْقَارِعَةُ ﴿2﴾

کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز ؟

 وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ ﴿3﴾

اور (اے پیغمبر، ) تم کیا جانو کہ وہ کھڑکھڑانے والی کیا چیز ہے ؟

 يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ ﴿4﴾

(یہ ہے) وہ دن جب لوگ (میدان حشر میں) بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے

 وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ ﴿5﴾

اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین روئی کی طرح ہوں گے

 فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ ﴿6﴾

پس جس کی نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے

 فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ ﴿7﴾

وہ دل پسند عیش میں ہوگا

 وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ ﴿8﴾

اور جس (کی نیکی) کے پلڑے ہلکے ہوں گے

 فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ ﴿9﴾

اس کا ٹھکانا ہاویہ (جہنم) ہو گا

 وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ ﴿10﴾

اور آپ کو کیا معلوم ہاویہ کیا ہے ؟

 نَارٌ حَامِيَةٌ ﴿11﴾

(وہ) ایک دہکتی ہوئی آگ ہے۔

تعارف  سورة القارية

نام:  آیت ١ میں قیامت کے عظیم حادثہ کو القارعۃ (کھڑ کھڑانے والی آفت) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورة کا نام اَلْقارِعَۃُ ہے۔

زمانہ نزول:  مکی ہے اور مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعوت کے ابتدائی مرحلہ میں نازل ہوئی ہوگی۔

مرکزی مضمون:  قیامت کے عظیم حادثہ سے خبردار کرنا ہے اور اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اس روز کامیابی و ناکامی کے لیے معیار حسن عمل ہوگا۔

نظم کلام

آیت ١ تا ٥ میں قیامت کی ہول ناکی اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورت حال سے خبردار کیا گیا ہے۔

آیت ٦ اور ٧ میں ان لوگوں کا حسن انجام بیان کیا گیا ہے جن کے عمال میزان عدل میں بھاری ہوں گے ۔

آیت ٨ تا ١١ میں ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جن کے اعمال میزان عدل میں ہلکے ہوں گے ۔

لغات:

القارعة:  کھڑکھڑانے والی۔ کالفراش المبثوث: جیسے بکھرے پرندے۔ کالعھن المنفوش: جیسے دھنکی ہوئی اون۔ ثقلت: بھاری ہوئے۔ موازین:  وزن۔ عیشة راضیة: من پسند عیش و آرام۔ خفت: ہلکے ہوئے۔ أمه: اس کا ٹھکانا۔ نارحامیة:  دھکتی آگ ۔

تفسير

قارعہ کے معنی عظیم ، ہول ناک حادثہ اور بڑی آفت ومصیبت کے آتے ہیں۔ قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کائنات کا یہ عظیم اور ہیت ناک حادثہ جب پیش آئے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، انسان اور جن اور ساری مخلوق سب کے سب اس عظیم اور اچانک حادثہ میں ختم ہوجائیں گے۔ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین زبردست جھٹکے اور زلزلوں سے ہلنا شروع وہگی تو ہر شخص ایک دوسرے پر اس طرح گرتے پڑتے دوڑ رہے ہوں گے جس طرح چھوٹے چھوٹے پروانے کسی روشنی کو دیکھ کر ایک دوسرے پر گرتے پڑتے نظر آتے ہیں۔

 زبردست اور مضبوط پہاڑ رنگ برنگ کے اون کی طرح اور دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اس طرح زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر مخلوق پر فنا کی کیفیات طاری کردی جائیں گی۔ دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اللہ کی ساری مخلوق زندہ ہوجائیگی۔ اب ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان ہوگا یہ میدان حشر ہوگا جس میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک آنے والے تمام لوگ حاضر کردئیے جائیں گے۔

 ہر شخص کے ساتھ اس کے اعمال کی جزا کے لیے اللہ کی عدالت قائم کی ہوگی۔ میزان عدل رکھ دی جائے گی۔ یہ میزان عدل ( انصاف کی ترازو) ایسی ہوگی جس میں چیزیں نہیں بلکہ انسان یا عمال اور اس کے خلوص کو تولا جائے گا۔ جس کے اعمال ایمان پر مضبوطی اور خلوص اور عمل صالح کی وجہ سے وزن دار اور بھاری ہوں گے اس کو راحتوں اور آرام و سکون کے لیے ایسی جنت میں داخل کیا جائے گا جو اس کی امیدوں اور تمناؤں سے بھی زیادہ خوبصورت، حسین اور پرسکون ہوگی۔

 لیکن جن لوگوں کے اعمال بےوزن اور ہلکے ہوں گے جو زندگی بھر کفر و شرک اور ناشکری میں مبتلا رہے ہوں گے ان کو ھاویہ میں جھونک دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے وہ ھاویہ کیا ہوگی ؟ فرمایا وہ آگ سے بھرپور خندق ہوگی جس میں انھیں اوپر سے اس کے اندر پھینکا جائے گا۔ وزن دار اور ہلکے اعمال کے ہوں گے اس کے لیے ہمیں قرآن کریم سے جو رہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے دن انسانی اعمال کا وزن بندے کے ایمان، خلوص اور حق وصداقت پر چلنے کی وجہ سے پیدا ہوگا جو لوگ زندگی بھر بھٹکتے رہنے کے باوجود اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہونے کو تیار نہ تھے اپنے آپ کو صحیح اور دوسروں کو غلط سمجھتے رہے وہ اس دن شدید نقصان اٹھائیں گے اور ان کے اعمال بےوزن ہوں گے۔

 اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے۔ ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو رکھ دیں گے۔ کسی کے ساتھ بےانصافی نہ ہوگی اور اگر کسی کا رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا وہ ہم اس سے کے سامنے لے آئیں گے اور حساب لینے کے لیے تو ہم ہی کافی ہیں۔ (سورة الانبیاء آیت نمبر ٤٧) ایک جگہ ارشاد فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجیے کہ کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے کون لوگ ہوں گے ؟ وہ لوگ جن کی کوششیں دنیا کی زندگی ہی میں ضائع ہوگئیں جو یہ سمجھتے رہے کہ وہ جو کام کرر ہیں بہت اچھے کام ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا اور اس کے ملنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا کیا کرایا سب برباد ہوجائے گا اور قیامت کے دن ہم ان کو کوئی وزن نہ دیں گے۔ جہنم (ان کے اعمال کا) بدلہ ہے جس کے لیے انھوں نے کفر کیا تھا۔ میری نشانیوں کا انکار کیا تھا اور میرے رسولوں کا مذاق اڑایا تھا۔ (سورة الکہف آیت نمبر ١٠٤ تا ١٠٥) خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر چیز کا وزن اس کے ظاہر کے اعتبار سے ہوتا ہے جب کہ قیامت کے دن یہ دیکھا جائے گا کہ کون شخص ایمان کے ساتھ پرخلوص عمل صالح لے کر آیا ہے۔ جو عمل ایمان و اخلاص سے خالی ہوگا وہ دنیا والوں کی نظر میں کتنا بھی خوبصورت اور وزن دار ہو اللہ کے ہاں وہ بےوزن ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت میں ہر طرح کی رسوائیوں اور اعمال کی بےوزنی سے محفوظ فرمائے۔ آمین

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply