hamare masayel

شوال کے چھ روزے حنفیہ کے نزدیک مستحب ہیں

حل (سلسلہ نمبر: 352)

شوال کے چھ روزے حنفیہ کے نزدیک مستحب ہیں

سوال: ماہ شوال کے چھ روزوں کے سلسلے میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کو واضح کریں؟

المستفتی: محمد اسجد روشنی گروپ۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب:

 فقہ فقہی کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ شوال کے چھ روزے امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مکروہ ہیں، امام صاحب کے اسی قول کی روشنی بہت سے دوسرے فقہاء نے بھی مکروہ لکھا ہے، لیکن علامہ قاسم بن قطلوبغا نے کراہت کے تمام اقوال کی تردید کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ امام صاحب کی طرف کراہت کے قول کی نسبت درست نہیں ہے، اسی طرح حکیم الامت حضرت تھانوی علیہ الرحمہ نے امداد الفتاوی میں متعدد فقہی کتب کی جزئیات نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ امام صاحب کی طرف کراہت کے قول کی نسبت دعویٰ بلا دلیل ہے۔

 اگر کراہت کے قول کو تسلیم بھی کرلیا جائے تب بھی فقہ حنفی کا ضابطہ ہے اگر کسی مسئلہ میں ائمہ احناف کا اختلاف ہو اور متاخرین کسی قول کو اختیار کر لیں تو وہی مفتی بہ ہوتا ہے لہذا حنفیہ کے نزدیک متاخرین کے اختیار کرنے کی وجہ سے مفتی بہ قول کے مطابق شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔

الدلائل

عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه، أنه حدثه، أن رسول الله ﷺ قال: “من صام رمضان، ثم أتبعه ستا من شوال، كان كصيام الدهر.  (صحيح مسلم: كِتَاب الصِّيَام/ بَاب اسْتِحْبَاب صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ، الرقم: 1164).

قال في البحر لست من شوال صومها مكروه عند الإمام متفرقة أو متتابعة لكن عامة المتأخرين لم يروا به بأسا، اه. (حاشية الطحطاوي على المراقي: 1/ 639).

ومنه أيضا صوم ستة من شوال عند أبي حنيفة متفرقا كان أو متتابعا وعن أبي يوسف كراهته متتابعا لا متفرقا لكن عامة المتأخرين لم يروا به بأسا. (كنز الدقائق).

(قوله: لكن عامة المتأخرين لم يروا به بأسا) قد سرد عبارتهم العلامة قاسم في فتاواه ورد قول من صحح الكراهة فراجعه. (البحر الرائق: 2/ 278).

في الدرالمختار: وندب تفریق صوم الست من شوال ولایکرہ التتابع علی المختار خلا فا للثاني حاوي والاتباع المکروہ أن یصوم الفطر وخمسۃ بعدہ فلو أفطر الفطر لم یکرہ بل یستحب ویسن ابن الکمال۔ وفي ردالمحتار: قولہ علی المختار: قال صاحب الھدایۃ في کتابہ التجنیس: أن صوم الستۃ بعد الفطر متتابعۃ منھم من کرھہ والمختار أنہ لابأس بہ إلیٰ اٰخرما قال وأطال وقال وتمام ذلک في رسالۃ تحریر الأقوال في یوم الست من شوال للعلامۃ قاسم وقدردّ فیہا علی ما في منظومۃ التباني وشرحھامن غزوۃ الکراھۃ مطلقا إلیٰ أبي حنیفۃ ؒ وأنہ الأصح بأنہ علی غیر روایۃ الأصول وأنہ صحح مالم یسبقہ أحد إلی تصحیحہ وأنہ صحح الضعیف وعمد إلی تعطیل مافیہ الثواب الجزیل بدعویٰ کاذبۃ ثم ساق کثیراً من نصوص کتب المذھب فراجعھا، فافھم. (رد المحتار: 3/ 421، 422).

فعلم بھذہ النصوص المذھبیۃ ان القول بالکراھۃ لم یصح نسبتھا إلی الإمام وأنہ دعوی بلادلیل فلا یلزم إشکال ترک الحدیث ولا ترک قول الإمام لأنہ یوافق الحدیث. (امداد الفتاوی: 10/ 74).

والله أعلم

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

6- 10- 1441ھ 30- 5- 2020م السبت.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply