hamare masayel

فجر کی رکعت کو طویل کرنے لئے کئی سورتیں پڑھنا

(سلسلہ نمبر: 302)

 فجر کی رکعت کو طویل کرنے لئے کئی سورتیں پڑھنا

سوال: کیا فجر کی نماز کو لمبی کرنے کے لئے ایک رکعت میں چھوٹی چھوٹی پانچ سورتوں کو پڑھ سکتے ہیں جب کہ بڑی سورتیں یاد نا ہوں اور نماز باجماعت ادا کی جارہی ہو؟

المستفتی: نثار احمد تلنگانہ۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب:

فرض نماز کی ایک رکعت میں متعدد سورتوں کا پڑھنا ثابت نہیں ہے اس لئے یہ خلاف سنت ہے، لیکن اگر کسی نے اس طرح پڑھ لیا ہے تو نماز ہوگئی۔

جن صاحب کے بارے میں سوال کیا گیا ہے ان کو کچھ بڑی سورتیں بھی یاد کرلینی چاہئے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ:7/ 91)

الدلائل

وفي التتارخانية: إذا جمع بين سورتين في ركعة رأيت في موضع أنه لا بأس به. وذكر شيخ الإسلام لا ينبغي له أن يفعل على ما هو ظاهر الرواية. اه. (رد المحتار: 1/ 546).

وكذلك إذا جمع بين سورتين بينهما سور أو سورة واحدة في ركعة واحدة، فإنه يكره. (المحيط البرهاني: 1/ 304).

(و) قرأ بعدہا وجوبا (سورة أو ثلاث آیات)… (قوله سورة) أشار إلی أن الأفضل قراءة سورة واحدة؛ ففی جامع الفتاوی: روی الحسن عن أبی حنیفة أنہ قال: لا أحب أن یقرأ سورتین بعد الفاتحة فی المکتوبات، ولو فعل لا یکرہ، وفی النوافل لا بأس بہ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/194،ط: زکریا). ویکرہ الانتقال لآیة من سورتہا ولو فصل بآیات والجمع بین سورتین بینہما سور أو سورة وفی الخلاصة لا یکرہ ہذا فی النفل…. قولہ: “والجمع بین سورتین الخ” أی فی رکعة واحدة لما فیہ من شبہة التفضیل والہجر قولہ: “لا یکرہ ہذا فی النفل” یعنی القراءة منکوسا والفصل والجمع کما ہو مفاد عبارة الخلاصة حیث قال بعد ما ذکر المسائل الثلاث وہذا کلہ فی الفرائض أما فی النوافل لا یکرہ اہ (حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح مع حاشیتہ للطحطاوی،ص: 353،ط: دارالکتاب).

واللہ أعلم

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له استاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند

7- 9- 1441ھ 1- 5- 2020م الجمعۃ.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply