Muaata Imam Malik Ek Mutala

موطا امام مالک تحقیق مصطفی اعظمی ایک سرسری مطالعہ

Share This
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بسم اللہ الرحمن الرحیم

موطا امام مالک تحقیق ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی ایک سرسری مطالعہ

بقلم: مفتی شمس الرحمن صاحب قاسمی استاذ حدیث وفقہ جامعہ اسلامیہ مظفر پور اعظم گڑھ

امام دارالہجرۃ مالک بن انس رحمہ اللہ

امام مالک ائمہ متبوعین میں دوسرے بڑے امام ہیں ،امام دار الہجرت لقب ہے، سلسلہٴ نسب یوں ہے: أبو عبد اللہ مالک بن أنس بن مالک بن أبی عامر بن عمرو بن الحارث بن غیمان بن خثیل بن عمرو بن الحارث ذو أصبح الأصبحي الحمیري ۔ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، آپ کی تاریخ پیدائش میں موَرخین نے اختلاف کیا ہے، لیکن صحیح اورمعتبر روایت کی بنا پر آپ کی تاریخ پیدائش 93ھ ہے ۔ آپ کا خاندان جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں ممتاز تھا، آپ کے جد اعلی حارث یمن کے شاہی خاندان یعنی حمیر کی شاخ قبیلہٴ اصبح سے تعلق رکھتے تھے اور اس کے شیخ تھے،اسی لیے ذی اصبح کے لقب سے مشہور ہیں ۔ آپ کے خاندان میں سب سے پہلے آپ کے پردادا ابو عامر مشرف باسلام ہوئے جو جلیل القدر تابعی اور صحاح ستہ کے رواۃ میں سے ہیں ، آپ نے جس وقت آنکھ کھولی تھی تو مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کے تلامذہ کی کثیر تعداد موجود تھی ،خود آپ کا گھر علم وفن کا مرجع تھا، اسی لیے یہ خوش قسمتی آپ ہی کے حصہ میں آئی کہ بچپن سے ہی پاکیزہ  او رنورانی فضا میں تربیت پائی، فقہاء سبعہ میں باستثناء چند کے اکثر سے استفادہ کیا ۔

شیوخ میں امام مالک کا انتخاب بھی قابل تحسین ہے صرف انہیں شیوخ سے استفادہ کیا جو صدق وطہارت میں معروف اور حفظ وفقہ میں ممتاز تھے ۔ صحابیٴ رسول حضرت عبد اللہ بن عمر کی تیس سالہ شاگردی میں رہنے والے مایہَ نازفقیہ ومحدث امام نافع امام مالک کے قابل فخر استاذ تھے، جو عبد اللہ بن عمر کے بعد ان کے علمی جانشین ہوئے، امام مالک بارہ برس مسلسل ان کے درس میں شریک رہے، محدثین “مالک عن نافع عن عبد اللہ بن عمر” کو سلسلۃ الذہب (سونے کی زنجیر) قراردیتے ہیں ، 117ھ میں امام نافع کا انتقال ہوا، او رامام مالک ان کے علمی جانشین ہوئے، اور جس جاہ وجلال کی محفل ِدرس سجائی وہ علم وعلماء کی شان کو ظاہر کرتی تھی، علامہ سید سلیمان ندوی نے امام مالک کے مجلس درس کا نقشہ بڑے دلکش اور نرالے انداز میں کھینچا ہے، لکھتے ہیں:

“جاہ وجلال اور شان وشکوہ سے کا شانہٴ امامت پر بارگاہِ شاہی کا دھوکہ ہوتا تھا، طلبہ کا ہجوم، مستفتیوں کا اژہام، امراء کا ورود، علماء کی تشریف آوری، سیاحوں کا گزر، حاضرین کی موٴدب نشست، درِخانہ پر سواریوں کا انبوہ دیکھنے والوں پر رعب ووقار طاری کردیتا تھا” (حیات مالک: ص:31).

امت کے علماء آپ کے فضل وکمال میں رطب اللسان ہیں ،یحی بن معین کہتے ہیں: “مالک من حجج اللہ علی خلقہ”. (سیر اعلام النبلاء: 7/ 178)، مالک أمیر المؤمنین في الحدیث”. (شرح الزرقانی: 1/ 55) امام اوزاعی امام مالک کا تذکرہ عالم العلماء ،عالم اہل المدینة ،مفتی الحرمین جیسے القاب سے کرتے ہیں ۔ (شرح الزرقانی1 /55). امام شافعی کہا کرتے تھے: “إذا جاء الأثر فمالک النجم” یعنی جب کوئی حدیث امام مالک کی طریق سے پہونچے تو اسے مضبوطی سے پکڑو کیونکہ وہ علم حدیث کے روشن ستارہ ہیں ۔ امام شافعی کا یہ بھی قول ہے: “مالک حجة اللہ تعالی علی خلقه بعد التابعین” تابعین کے بعد امام مالک بندوں کےلیے اللہ کی سب سے بڑی حجت ہیں.  امام نسائی نے فرمایا: “ما عندي بعد التابعین أنبل من مالک ولا أجل منه ولا أوثق منه ولا آمن علی الحدیث منه” .(تہذیب  التہذیب:10/ 9) میرے نزدیک تابعین کے بعد امام مالک سے زیادہ دانشور اور حدیث کے معاملہ میں زیادہ ثقہ اور امانت دار کوئی نہیں ہے ۔ حدیث پاک میں عالم مدینہ کے بارے میں سفیان بن عیینہ اور عبد الرزاق صاحب المصنف کی رائے ہے کہ اس کا مصداق امام مالک ہیں ۔

آپ کے چشمہٴ فیاض سے ایک امت نے سیرابی حاصل کی، حافظ بن کثیر فرماتے ہیں : “حدث عنہ خلق من الاَئمة “ (البدایۃ والنہایۃ :10 /187) ائمہ میں سے ایک جم غفیر نے آپ سے شرف تلمذ کیا، حافظ ذہبی رح فرماتے ہیں : “حدث عنه أمم لا یکادون یحصون”  امام مالک سے اتنے لوگوں نے روایت کی ہے جن کا شمار تقریباً ناممکن ہے ۔ (تذکرۃ الحفاظ10 /187)

اللہ تعالی نے امام موصوف سے دین کی خوب سے خوب خدمت لی، اپنے استاذ امام نافع کی وفات کے بعد 117ھ میں مسجد نبوی کی مسندِ درس پر قدم رکھا اور

باسٹھ سال تک علم ودین کی خدمت انجام دی، بالآخر14/ربیع الاول اتوار کے روز 179ھ میں انتقال فرمایا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔

موطا امام مالك

یہ کتب خانہٴ اسلام کی وہ پہلی کتاب بتائی جاتی ہے جو قرآن کے بعد سب سے پہلے باقاعدہ طور پر فقہی ترتیب سے مبوب ومرتب ہو کر منصہ شہود پر آئی ۔ ابو بکر ابن العربی فرماتے ہیں : “الموطأ هو الأصل الأول واللباب وکتاب البخاري هو الأصل الثانی في هذا الباب وعلیهما بنی الجمیع کمسلم والترمذی”. (التعلیق الممجد ۱ /73، محدثین عظام ،ص: 74)۔

(موطاَ ہی نقش اول اور بنیادی کتاب ہے، بخاری کی حیثیت تو اس باب میں نقش ثانی کی ہے اور انہیں دونوں کتابوں پر مسلم وترمذی جیسے بعد کے موَلفین نے اپنی کتاب کی بنا رکھی) ۔

علامہ ذہبی موطاَ کا تعارف یوں کراتے ہیں : “إن للموطأ لوقعاً في النفوس ومهابة في القلوب لا یوازیها شيء”.  (سير أعلام النبلاء: 18/ 302) (بلاشبہ موطاَ کی دلوں میں جو وقعت اور قلوب میں جو ہیبت ہے اس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کرسکتی) ۔

حافظ ابن حبان  “کتاب الثقات” میں لکھتے ہیں : “کان مالک أول من انتقی الرجال من الفقهاء بالمدینة واَعرض عمن لیس بثقة في الحدیث ولم یکن یروي  إلا ما صح ولا یحدث إلا عن ثقة”. (الثقات: 7/ 459)

(امام مالک فقہاء مدینہ میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے رواۃ کے متعلق تحقیق سے کام لیا اور حدیث میں جو ثقہ نہ ہوں ان کی روایت سے اعراض کیا، وہ صحیح روایات کے علاوہ نہ کوئی روایت نقل کرتے ہیں اور نہ کسی غیر ثقہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ) ۔

ابو زرعہ رازی موطأ کی صحت کے بارے میں رقمطراز ہیں : “لو حلف رجل بالطلاق علی أحادیث مالک التی بالموطأ أنہا صحاح کلها لم یحنث”. (ترتيب المدارك: 1/ 76)

(اگر کوئی شخص اس بات پرقسم کھا لے کہ موطأ کی تمام حدیثیں اگر صحیح نہ ہوں تو میری بیوی کو طلاق ہو جائے تو وہ اپنی قسم میں حانث نہ ہوگا)۔

موطأ کو امام مالک کے شیوخ ومعاصرین نے قدر کی نگاہ سے دیکھا،آپ نے اس کتاب کو لکھ کر فقہاء مدینہ کے سامنے پیش کیا سب نے داد تحسین دی، موطأ کے شروح وحواشی وتعلیقات کا ایک طویل سلسلہ ہے جس نے کتب خانہ ٴ اسلام کو زینت بخشی، موجود ہ دور میں ہمارے ممدوح ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی نور اللہ مرقدہ نے بھی موطأ کی عظیم الشان خدمت انجام دی ہے۔ پیش نظر انہی کی تحقیق سے شاءع موطاَ کا تعارف کرانا ہے۔

ڈاکٹر اعظمی کے موطأ پر تحقیقی کارنامے کی روداد

ڈاکٹر صاحب کا یہ کارنامہ موسسۃ زاید بن سلطان آل نہیان للاعمال الخیریۃ والانسانیۃ ابو ظبی نے ۸جلدوں میں شائع کیا ہے ۔ پہلی جلد مقدمہ پرمشتمل ہے ،جس میں انہوں نے امام مالک اور ان کی کتاب کے متعلق جملہ معلومات کو ذکر کیا ہے گویا یہ ایک مستقل کتاب ہے ۔ اس میں انہوں نے سات ابواب قائم کیے ہیں ، پہلے باب میں امام مالک کی پوری علمی وتعلیمی زندگی سے متعلق سیر حاصل بحث کی ہے، فقہاء سبعہ کے طریق سے موطأ میں واقع احادیث وآثار اور فقہی آراء، صحیح بخاری میں امام مالک کے طریق سے کتنی حدیثیں ہیں اور کس کس کتاب میں ہیں اس کی پوری تفصیل ذکر کی ہے، اسی طرح امام مالک کے بارے میں ایک عراقی عالم ڈاکٹر بشار عواد معروف نے یہ دعوی کیا ہے کہ امام مالک روایت کو بالمعنی ذکر کرتے ہیں جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے، چنانچہ انہوں نے یحیی بن یحیی لیثی کے نسخہ سے 97 احادیث وفتاوی کا ابو مصعب الزہری کے نسخہ سے مقارنہ کرکے یہ ثابت کیا ہے امام مالک حدیث رسول میں روایت بالمعنی کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔

باب ثانی میں موطأ کی تالیف کے محرکات وعوامل کو ذکر کیا ہے، چنانچہ بواعث التالیف کے عنوان کے تحت ڈاکڑ صاحب رقمطراز ہیں :ابن عبد البر کی “الانتقاء”، قاضی عیاض کی “ترتیب المدارک”، ابن عساکر کی “کشف المغطی” اور دوسری کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ موطأ کی تالیف کے دواعی مختلف ہیں ، بعض نے ذکر کیا ہے کہ موطأ کی تالیف خلیفہ مہدی بن منصور کی فرمائش پر ہوئی، بعض نے کہا کہ خلیفہ ابو جعفر منصور کے مطالبہ پر ہوئی، اور دوسرے لوگوں کی رائے یہ ہے کہ موطأ کی تالیف کا داعیہ آپ کے اندر اس وقت پیدا ہوا جب آپ نے ابن الماجشون کی کتاب دیکھی،ان تینوں قسم کی روایتوں کو تفصیل سے ذکر کیا او راس بات کو راجح قرار دیا کہ موطأ کی تالیف ابو جعفر منصور کی فرمائش پر ہوئی۔

تیسرے باب میں امام مالک کے 967 شاگردوں کو حروف تہجی کی ترتیب پر ذکر کیا ہے۔

چوتھے باب میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے امام مالک سے موطأکی روایت کی ہے ۔ موطأ کے رواۃ پر متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ ابن ناصرالدین دمشقی (متوفی 842ھ) نے اپنی کتاب “اتحاف السالک برواۃ الموطأعن الامام مالک ” میں امام مالک سے موطأ کو روایت کرنے والے رواۃ کی تعداد 79 بتائی ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب نے اس پر مزید اضافہ کیا اور ان کی تعداد ایک سو بتائی ہے اور ہر ایک کا ترجمہ بھی لکھا ہے، گویا یہ بھی ایک مستقل کتاب ہے، نیز ڈاکٹر صاحب نے اس باب میں ایک خوشخبری بھی دی ہے کہ عنقریب اس موضوع پر اس سے وسیع پیمانے پران کی ایک کتاب آنے والی ہے معلوم نہیں اس موضوع پر ان کا کام پایہٴ تکمیل کو پہونچا یا نہیں۔

پانچویں باب میں امام مالک کے ان چیدہ چیدہ اقوال کو ذکر کیا ہے جن کا تعلق تعلیم وتعلم اور دیگر امور دینیہ سے ہے جو پندرہ صفحات پر مشتمل ہے ۔

چھٹا باب اس کا عنوان ہے: “قضایا متعلقة بالموطأ”  اس باب میں موطأ سے متعلق زمانہ قدیم وجدید کے کچھ اعتراضات کو ذکر کیا ہے اور اس کا تفصیلی محاکمہ بھی کیا ہے ،موطأ کے بارے میں یہ عام رائے ہے کہ یہ کتاب 159ھ میں منصہ شہود پر آئی جیسا کہ علامہ زاہد کوثری رح نے لکھا ہے اور بعض دیگر معاصر علماء نے بھی انہی کی پیروی کی ہے، ڈاکٹر صاحب کی تحقیق ہے کہ موطأ کی تالیف کا آغاز دوسری صدی کے تیسری دہائی کے شروع میں ہوا اور چوتھی دہائی کے شروع میں کام مکمل ہوا، چنانچہ لکھتے ہیں : “الأرجح عندي أن الإمام مالکاً قد بدأ بالتالیف في وقت مبکر، وقد یکون في بدایة الثلاثینات وانتہی في بدایة الأربعینات، وبدأ بتدریس الکتاب في حلقته حتی وصل إلی الأندلس قبل منتصف القرن الثاني” ۔ (ص: 84)۔

اس سلسلہ میں انہوں نے متعدد تاریخی شواہد بھی پیش کیے ہیں ، لکھتے ہیں کہ: موطأ کے ایک راوی ہیں سعید بن ابی ہند اندلسی، ان کی وفات امام مالک سے 30 سال پہلے ہوئی ہے، تو ظاہر ہے کہ یہ کتاب اندلس میں 150ھ سے پہلے پہونچی ہوگی، اور سعید کا اندلس سے مدینہ سفر کرکے آنا او رامام کے سامنے اس کی قراء ت کرنے میں بھی کافی وقت لگا ہوگا ۔

اسی طرح موطأ کے ایک راوی عبد الرحیم بن خالد الجمحی الإسکندرانی ہیں جنہوں نے امام مالک سے موطأ کی روایت کی ہے، ان کی وفات 163ھ میں ہوئی، ان کے بارے میں اغلب یہی ہے کہ علم حاصل کرنے کے سلسلہ میں مصر سے مدینہ کا سفر ایک ہی مرتبہ کیا ہے، اوراسی سفر میں انہوں نے ابن جریج اور عقیل بن خالد الایلی سے بھی ملاقات کی ہے، اور عقیل کی وفات 144ھ میں ہوئی ہے، تو ظاہر ہے کہ عبد الرحیم بن خالد کا یہ سفر 144ھ سے پہلے ہی ہوگا، لہذا موطأ کا سن تالیف 159ھ کا قول کسی طرح قابل قبول نہیں ۔

علامہ زاہد کوثری کا 159ھ پر اصرار اس وجہ سے ہے کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ موطأ کا وجود امام اعظم ابو حنیفہ رح (متوفی150ھ) کی زندگی میں نہیں تھا بلکہ اس کی تالیف امام اعظم کی وفات کے بعد ہوئی ہے، جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے اور تاریخی شواہد بھی اس کے مؤید ہیں ۔

ڈاکٹر صاحب رقمطراز ہیں : وکان الکتاب مشهوراً ومعروفاً في حیاۃ الإمام أبی حنیفة رحمه اللہ، ولا یہمنا أن نعرف ہل اطلع الإمام أبو حنیفة علی الموطأ أو لم یطلع علیہ، استفاد منه أو لم یستفد منه، لأنه لو استفاد أبو حنیفة من کتاب مالک فإن ذلک لا یزید مالکاً درجۃ لأنہ من تلامیذہ أمثال الشافعي وابن المبارک ومحمد بن الحسن الشیبانی ومئات آخرون ۔ وإن استفاد أبو حنیفة من کتاب مالک فهذا لا یقلل من شأنه لأن العلماء دوماً یستفید بعضهم من بعض ۔ وقد روی أبو حنیفة عن أناس لا یعدون شیَاً في جنب مالک رضي اللہ عنهم أجمعین ۔

ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی رح ان با توفیق علماء میں سے ہیں جن کی پوری زندگی خدمت ِکتاب وسنت سے عبارت ہے،کتاب وسنت کا دفاع آپ کے خمیر کا جزو لا ینفک ہے، فتنہٴ استشراق کے استیصال میں آپ کا کارنامہ تاریخ ِاسلام کا سنہرا باب ہے، مستشرقین نے موطأ کے بارے میں بھی فتنہ برپا کیا اور اسے غیر معتبر او رموضوع حدیثوں کا مجموعہ قرار دیا، چنانچہ اسماعیل بن ابی اویس جو موطأ کے راوی ہیں اور صحیحین کے رواۃ میں سے بھی ہیں ، رجال کی کتابوں میں سلمہ بن شبیب کے حوالہ سے ان کا ایک قول مذکور ہے: “ربما کنت أضع الحدیث لأھل المدینة إذا اختلفوا في شيء فیما بینہم” ۔ (تہذیب:1 /312)، حافظ ابن حجر نے اس کی یہ تاویل کردی ہے کہ یہ نوجوانی کی کچھ چوک ہے ۔ اس کو سامنے رکھ کر جرمن مستشرق میکلوس مورانی نے اسماعیل بن ابی اویس پر وضع حدیث کا الزام عائد کیا اور اس کے در ِپردہ اس نے یہ کوشش کی ہے کہ موطأ غیر معتبر اور موضوع حدیثوں کا مجموعہ ہے، ڈاکٹر صاحب نے مورانی کے دعوی کا زبردست مناقشہ کیا اور عقلی او رتاریخی حیثیت سے دراسہ کر کے یہ ثابت کیا کہ سلمہ بن شبیب نے اسماعیل بن ابی اویس کی بابت جو بات ذکر کی ہے بالیقین غلط ہے ۔

اسی طرح ایک دوسرا مستشرق نورمان کلدر ہے اس نے موطأ کی بابت لکھا ہے کہ یہ امام مالک کی تصنیف نہیں ہے، بلکہ تیسری صدی 270ھ کے آس پاس کی تصنیف ہے، لوگوں نے امام مالک کی طرف منسوب کردیا ہے، اور جس بنیاد پر اس نے یہ بات کہی ہے ڈاکٹر صاحب نے اس کا مکمل دراسہ کر کے تشفی بخش جواب دیا او رجس قوت ِاستدلال سے اس کے ہفوات کا رد کیا ہے واقعی وہ آپ ہی کا حصہ ہے ۔

ساتواں باب اس کا عنوان ہے :”خدمتی للکتاب” اس باب میں تحقیق کتاب سے متعلق تفصیلی گفتگو ہے، کن کن نسخوں کو سامنے رکھ کر اس کتاب کی تحقیق کی گئی ہے اور ان نسخوں کی حصولیابی میں کس قدر مشقتیں برداشت کی ہیں ، ڈاکٹر صاحب نسخوں کی معلومات کے سلسلہ میں سند کا مقام رکھتے ہیں ، جن نسخوں کو سامنے رکھ کر آپ نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے ان نسخوں کا ،ان کے ناسخین کا او راسی طرح ان ناسخین کی سند میں آنے والے تمام رجال کا تفصیلی تعارف کرایا ہے ۔

حدیث پاک کی تخریج کے ساتھ ساتھ زرقانی کی شرح موطأ سے متن کے کلمات کی شرح بھی ذکر کردیا ہے، اور جوہری نے مسند الموطأ پر جو تعلیقات لکھی ہیں اس سے بھی مختصراً ذکر کیا ہے ۔

کتاب سے استفادہ آسان ہو اس کےلیے مختلف طرح کی تفصیلی فہرست بنائی ہے ۔ جلد ۶،7،8فہرست پر مشتل ہے، جلد ۶ کی فہرست کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1) فہرس الآیات القرآنیة۔

(2) فهرس الاَعلام فی الموطأ: یعنی موطأ میں جتنے نام واقع ہیں ان کا حروف تہجی کے اعتبار سے انڈیکس ۔

(3) فهرس البلدان فی الموطأ: کتاب میں واقع ملکوں او رشہروں کا انڈیکس ۔

(4) ترجمۃ رجال الموطأ: موطاَ کے جتنے رجال ہیں ان سب کے تراجم کا تذکرہ ہے، گویا یہ بھی ایک مستقل کتاب ہے جو95صفحات پر مشتمل ہے ۔

(5) فتاوی الفقہاء: کتاب میں واقع صحابہ وتابعین وغیرہم کی فقہی آراء کی تفصیلی فہرست جو78صفحات پر مشتمل ہے۔

(6) فتاوی الإمام مالک: موطاَ میں واقع امام مالک کی فقہی آراء کی تفصیلی فہرست جو138صفحات پر مشتمل ہے ۔

(7) فہرس کتب الموطأ۔

(8) فہرس اَبواب الموطأ۔

ساتویں اور آٹھویں جلد: “المعجم المفہرس لألفاظ موطأالإمام مالک” موطأ کے الفاظ کا تفصیلی انڈیکس ،جس سے باحث کو کسی لفظ کی بنیاد پر موطأ میں اس حدیث او راثر تک رسائی آسان ہو جاتی ہے، الغرض موطأ سے استفادہ کو آسان سے آسان تر بنا دیا ہے ۔ اللہ تعالی محقق مرحوم کو اپنے شایان ِشان بدلہ دے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے،آمین ۔


Share This
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *