hamare masayel

نماز میں کان پر ہاتھ رکھنا، عملِ قليل اور عمل كثير

نماز میں دوران قراءت کان پر ہاتھ رکھنا

سوال: دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ ایک امام صاحب نماز پڑھاتے ہوئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے اپنے ایک ہاتھ کو داہنے کان پر رکھتے ہیں اور جب جب سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں ایسا ہی کرتے ہیں، کیا ان کے اس عمل سے نماز میں کوئی فساد واقع ہوگا یا نہیں؟ رہنمائي فرما کر عند اللہ ماجور ہوں!

 المستفتی : غفران احمد ندوی بستوی جامعہ اسلامیہ مظفر پور أعظم گڑھ

الجواب باسم الملهم للصدق والصواب:

اگر تلاوت کے وقت کسی تکلیف کی وجہ سے امام صاحب ایسا کرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں، اور اگر بلا وجہ ایسا کرتے ہیں تو نماز مکروہ ہوگی، بسا اوقات عمل کثیر ہونے کی وجہ سے نماز فاسد ہوجائے گی؛ اس لئے امام اور دوسرے نمازیوں کو ایسی فضول حرکتوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔

الدلائل

قال الله تعالٰی: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [البقرة: 238].

عن جابر بن سمرة قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس، اسكنوا في الصلاة. (صحيح مسلم: 430).

ویکره أیضا أن یکف ثوبه وھو فی الصلاة بعمل قلیل بأن یرفعه من بین یدیه أو من خلفه عند السجود أو یده فیھا وھو مکفوف، کما إذا دخل وھو مشمر الکم والذیل، وإن یرفعه کیلا یتترب الخ. (کبیری ص 337).

 والله أعلم

تاريخ الرقم: 14 – 9 – 1439ه 30 – 5 – 2018م الأربعاء

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply