hamare masayel

دعائے قنوت میں “ونحفد” کی جگہ “ونحقد” پڑھنا

(سلسلہ نمبر: 386)

دعائے قنوت میں “ونحفد” کی جگہ “ونحقد” پڑھنا

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں ایک شخص دعائے قنوت میں ونحفد کی جگہ ونحقد ایک مدت تک پڑھتا رہا تو کیا نماز کا اعادہ لازم ہے؟ برائے کرم دلائل کے ساتھ ساتھ رہنمائی فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

المستفتی: نفیس احمد سیتاپوری، مقیم حال سعودی۔

 الجواب باسم الملھم للصدق والصواب:

دعاء قنوت  میں وعدہ کے الفاظ کو وعید کے الفاظ سے بدل دینے سے اسی طرح نماز فاسد ہوجاتی ہے، جس طرح قرأت میں نماز فاسد ہوجاتی ہے؛ لہٰذا سوال نامہ میں ذکر کردہ صورت میں نماز فاسد ہوگئی ہے، اس کا اعادہ واجب ہے۔

نوٹ: ایسا شخص اگر لوگوں کے سامنے قضا کرے، اور قنوت پڑھنے سے پہلے ہاتھ اٹھانے میں شرم محسوس کرے تو اس کے لئے اجازت ہے کہ صرف تکبیر کہہ لے  ہاتھ نہ اٹھائے۔

الدلائل

ولو قرأ في دعاء القنوت…ونسطغفرك بالطاء قال: تفسد ولو قرأ إنا نستعنک بغیر یاء، فقال: لاتفسد، قیل: ولو قرأ ونتوکن علیك بالنون فقال: تفسد قیل ولو قرأ ونخنع قال: تفسد إذا تبین منه ذلک قیل لو قرأ ونشجد بالشین قال: تفسد إذا تبین منه ذلک ولو قرأ وإلیك نسحیٰ ونحفد قال: تفسد۔ (الفتاوی التاتارخانیة، کتاب الصلاۃ، الفصل الأول من مسائل زلة القاري في ذکر حرف مکان حرف 2/85، رقم:1818).

(قوله رافعا يديه) أي سنة إلى حذاء أذنيه كتكبيرة الإحرام، وهذا كما في الإمداد عن مجمع الروايات لو في الوقت، أما في القضاء عند الناس فلا يرفع حتى  لا يطلع أحد على تقصيره. اهـ. (رد المحتار: 2/ 6).

والله أعلم

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

12- 11- 1441ھ 4- 7- 2020م السبت.

المصدر: آن لائن إسلام. ۔

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply