hamare masayel

تعزیہ، فاتحہ خوانی اور تیجہ وچہارم کا حکم

(سلسلہ نمبر: 776)

 تعزیہ، فاتحہ خوانی اور تیجہ وچہارم کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیاں شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں:

(1) ہمارے گاؤں میں مسجد کے سامنے تعزیہ رکھنے کا چوک بنا ہوا ہے اس چوک پر تین تعزیہ رکھتے ہیں مسجد کے سامنے تعزیہ رکھنے کا اور تعزیہ بنانے والے اور آنے والے کیلئے کیا حکم ہے؟

(2) تعزیہ چوک پر رکھنے کے بعد گاؤں کی عورتیں، بچے اور مرد سب چوک کے پاس فاتحہ کروانے آتے ہیں چوک پہ ملیدہ مٹھائی شربت پانی رکھتے ہیں اور اس پہ فاتحہ پڑھتے ہیں اور دس روز تک جب ماہ محرم الحرام کا چاند دکھائی دیتا ہے گاؤں کے اکثر گھروں سے بچے فاتحہ کے لئے جاتے ہیں بعد نماز مغرب اسی چوک پہ فاتحہ ہوا کرتا ہے، ان سبھی لوگوں کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟

(3) محرم کی بارہ یا تیرہ تاریخ کو گاؤں کے ذمہ دار نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیار حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تیجہ یا چہارم کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟

(4) محرم کی دسویں تاریخ کو جب چوک سے تعزیہ اٹھانے سے پہلے سلام پڑھتے ہیں اور گاؤں کے سبھی مرد، بچے اور جوان عورتیں سبھی لوگ مصنوعی کربلا جاتے ہیں ان کے لئے کیا حکم ہے؟

المستفتی محمد عمران ابن محمد ابن رفیق مرحوم، بھڑکی، بھدوہی، یوپی۔

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب: مندرجہ ذیل سب کے سب کام ناجائز وحرام کام ہیں ان سب سے مسلمان کو بچنا ضروری ہے۔

(1) تعزیہ بنانا اور اس میں شرکت کرنا۔

(2) مروجہ طریقے سے فاتحہ خوانی کرنا۔

(3) حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر رسومات کرنا، سبیل لگانا۔

(4)مصنوعی کربلا کرنا اور عورتوں کا بھی اسمیں شریک ہونا؛ یہ سب حرام و ناجائز ہیں۔

الدلائل

ما أحدث على خلاف الحق الملتقى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبهه واستحسان وجعل دينا قويما و صراطا مستقيماً. (رد المحتار: 2/ 299،زكريا).

ويظهر الناس الحزن والبكاء وكثير منهم لا يشرب الماء ليلتئذ موافقة للحسين رضي الله عنه لأنه قتل عطشانا …… من البدع الشنيعة. (البداية و النهاية: 8/ 202، دار الفكر بيروت).

وقد عاكس الرافضة والشيعة يوم عاشوراء النواصب ،،الي قوله” ويتطيبون و يلبسون أفخر ثيابهم و يتخذون ذلك اليوم عيدا ويصنعون فيه أنواع الأطعمة ويظهر السرور والفرح يريدون بذلك عناد الروافض و معاكستهم. ( البداية و النهاية: 8/ 202، دار الفكر بيروت).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

20- 2- 1445ھ 8-8- 2023م الثلاثاء

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply