حضرت مولانا كاتب صدرالدین اعظمی رحمۃاللہ علیہ سابق استاذ حدیث جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد (1957- 2025)
بقلم: مفتى محمد اجمل قاسمی استاذ تفسير وادب قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد۔
حضرت مولانا كاتب صدرالدین اعظمی سابق استاذِ حدیث جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد، بروز اتوار، بتاریخ 15 صفر 1447ھ مطابق 10 اگست 2025ء بوقتِ سحر چار بجے، عارضۂ قلب کے سبب مسافرانِ آخرت میں شامل ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ رب العزت حضرت مولانا كی مغفرت فرمائے، مقامِ قرب میں جگہ نصیب فرمائے، اور ان كے تمام پسماندگان اور اہلِ تعلق كو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔
جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی میں انہوں نے كم وبیش پینتیس سال علومِ دینیہ كی خدمت انجام دی، اور گذشتہ ماہ ذی الحجہ میں وہ اپنے ضعف و علالت اور بڑھتے ہوئے اعذار و عوارض كی بنا پر مستعفی ہوگئے، ایک طویل عرصہ تک خدمت انجام دینے كے بعد مدرسہ شاہی سے ان كی یہ جدائی ان كے رفقائے كار اور اہل تعلق كے لیے تكلیف دہ تھی، اور اب ان كے استعفاء كے ٹھیک دوماہ بعد دنیا سے ان كی رحلت جملہ اہل تعلق كو ایک بار پھر سوگوار كرگئی۔
راقم آثم كی حضرت مولانا كے ساتھ سولہ سال تدریسی رفاقت رہی، مدرسہ شاہی سے راقم كی وابستگی كے وقت مولانا كی صحت قابل رشک تھی، وہ بھرپور توانائی كے مالک تھے، اور اس تعلق سے اپنے ہم عمروں سے بہتر محسوس ہوتے تھے؛ مگر جلد ہی گوناگوں معذوریوں نے انھیں اس طرح گھیرلیا كہ وہ بالكل مجبور اور بے بس سے ہوگئے، ایک بار بڑی حسرت سے كہنے لگے كہ “میں جانتا ہی نہیں تھا كہ بیماری اور اعذاری ہوتی كیاہے؟ مگر اب بیماریوں نے كمرے میں قید كر دیا ہے، مسجد جانے سے بھی مجبور ہوگیاہوں۔” ان كی بیماری و اعذاری كا زمانہ دس سال كے آس پاس ہوگا، اس تكلیف دہ اور ہمت شكن مرحلے كو انہوں نے جس صبر و ہمت اور جذبۂ تسلیم رضا سے گذارا ہے وہ انہیں كا حصہ ہے، جوڑوں كے درد كی وجہ سے بسا اوقات حركت كرنا مشكل، آنكھوں كی تكلیف اس پر مستزاد، فیملی ساتھ نہ ہونے كی وجہ سے تیمار داری اور خدمت كا كوئی معقول نظم نہیں؛ مگر ان حالات میں بھی وہ ہمت سے كام لیتے، جیسے تیسے بن پڑتا اسباق كی تیاری كرتے اور طلبہ كو سبق پڑھاتے۔ صحیح تو یہ ہے كہ وہ اپنی معذوریوں كی وجہ سے ایک عرصہ سے درس وتدریس كے لائق نہیں رہے تھے؛ مگر ان كی ہمت انہیں اس محنت طلب فریضہ كی ادائیگی كا حوصلہ دیتی رہی۔
حضرت مولانا سادگی پسند، كفایت شعار، قناعت كے خوگر، منكسر المزاج، صابر و جفا كش، ہمتی، نڈر اور سخت جان تھے، انہوں نے اپنی پوری زندگی گوشۂ گمنامی میں گذاری، نام ونمود كی ان میں كوئی لَلَک نہیں تھی، مدرسین میں اہم اور بڑی كتابیں پڑھانے كی خواہش ہوتی ہی ہے اور وہ اس سلسلے میں كوشش بھی كرتے ہیں؛ مگر مولانا كا معاملہ جدا گانہ تھا، ایک بار كہنے لگے كہ “میرا مزاج نہیں ہے كہ اپنی طرف سے كوئی كتاب یا خدمت طلب كی جائے، اور جو اَز خود مل جائے اس سے معذرت بھی نہیں كرتا، جیسا بن پڑتا ہے كرتا ہوں۔” انتظامیہ كے بعض فیصلے مدرس كی اپنی چاہت اور مرضی كے خلاف بھی ہوجاتے ہیں، ایسے وقت میں شكوہ سنج ہونا اور بات چیت كركے اس میں ممكنہ تبدیلی كی كوشش كرنا عام سی بات ہے؛ مگر مولانا ایسے وقت میں نہ شكوہ سنج ہوتے تھے، اور نہ ہی تبدیلی كی كوشش كرتے، جو بھی فیصلہ ہوتا خاموشی سے اسے قبول كر لیتے تھے۔
مولانا كی زندگی زاہدانہ تھی، تھوڑے ساز وسامان جو بسہولت میسر آجائیں ان ہی میں بخوشی گذر بسر كرلیتے تھے، نہ تو ان كے یہاں كوئی ٹیپ ٹاپ تھا، نہ خوب سے خوب تر کی تلاش، اور نہ ہی اسبابِ راحت وعیش جمع كرنے كا اہتمام۔ قلیل المال اور كثیر العیال تھے؛ مگر بایں ہمہ مہمان نواز تھے، جب تک ان كی فیملی مرادآباد میں ان كے ساتھ رہی جو بھی اہل تعلق آتا، یا وطن سے آنے والے كسی شخص سے ملاقات ہوتی، مولانا اس كی ضیافت كا اہتمام كرتے، جو اساتذہ فیملی كے بغیر مدرسہ میں مقیم ہوتے مولانا ان كو بھی اپنے دسترخوان پر گاہے بگاہے مدعو كرتے، راقم كو بھی حضرت كے دسترخوان سے بارہا فیض یاب ہونے كا موقع ملا۔ مولانا كو گوشت بے حد مرغوب تھا، ان كے بقول وہ كئی كئی وقت بغیر اكتائے چاہت كے ساتھ صرف گوشت كھاسكتے تھے، كس حصے كا گوشت كیسا ہوتا ہے اور كس پكوان كے لیے كون سے حصے كا گوشت مناسب ہوتاہے، انہیں اس كا خوب اندازہ تھا، گوشت شوق سے خریدتے، اس كو مختلف انداز سے پكواتے اور موقع بموقع احباب كو بھی شریکِ ذائقہ كرتے۔
مولانا قدیم وضع كے آدمی تھے، قدیم طور و طریق ہی فطرتاً انہیں محبوب اور دل پسند تھا، كھانے پینے، كپڑا لباس، رہن سہن اور دوا علاج ہر چیز میں ان كا یہ مزاج جھلكتا تھا، آخر تک انہوں نے كبھی اسمارٹ فون استعمال نہیں كیا، سادہ موبائل سے ہی كام چلاتے رہے، ڈاكٹری علاج سے دور ونفور تھے، پریشانیاں اٹھاتے، تكلیفیں برداشت كرتے؛ مگر ان كی كوشش آخر تک یہی رہتی كہ یونانی یا ہومیوپیتھک سے ہی علاج ہو، بہت مجبوری میں ہی وہ ایلوپیتھک علاج كی طرف جاتے، انہوں نے صحت كے تعلق سے جو پریشانیاں اور مجبوریاں اٹھائیں، بظاہر ان میں خاصا دخل ان كے اس مزاج كا بھی تھا، ویسے توہر چیز منجانب اللہ ہی مقدر ہے۔
مولانا كی طبیعت میں سكون اور دھیما پن تھا، ہر كام نہایت اطمینان سے انجام دیتے، وقت خواہ كیسی ہی عجلت كا متقاضی ہو وہ اپنی روش نہیں چھوڑتے تھے، آہستہ خرامی سے چلتے، آہستہ آواز میں بولتے، البتہ غصہ آجائے یا دورانِ خطابت جوش میں آجائیں تو برق تپاں ہوجاتے اور آواز میں بجلی كی كڑک سماجاتی۔
مولانا نہایت بے تكلف اور سہل الحصول تھے، آپ امامت كے لیے كہیں، بلا تكلف تیار ہوجاتے، تقریر كے لیے كہیں، آمادہ ہوجاتے، اور بروقت انہیں كسی پرواگرام میں شركت كرنے كو كہیں تو لیت لعل كے بغیر شریک ہوجاتے، طلبہ انجمن كے مسابقوں میں انہیں حَكم مقرر كرتے، پروگراموں میں بطورِ مہمان شركت كے طالب ہوتے، مولانا بآسانی انہیں دستیاب ہوتے۔
مولانا كی ایک قابلِ ذكر خوبی ان كا ذوقِ عبادت ہے، وہ نماز باجماعت كا بہت اہتمام كرتے تھے، عموماً مسجد میں جماعت سے كافی پہلے پہنچ جاتے، اور ٹھیک امام كے مصلے پیچھے سنتیں ادا فرماتے اور پھر جماعت تک وہیں ذكر واذكار میں مشغول رہتے، امام كسی وجہ سے موجود نہ ہوتا تو مؤذن كی درخواست پر بلا تكلف نماز پڑھادیتے، دھیمی لے میں قراءت كرتے، انداز پرانا تھا؛ مگر ادائیگی اور پڑھنا مناسب تھا۔ مولانا كے یہاں نماز باجماعت اور جلدی مسجد پہنچنے كا جو اہتمام تھا اس پر راقم كو بہت رشک آتا تھا، جب تک مولانا كے اندر چلنے كی سكت رہی، مسجد كی حاضری نہیں چھوڑی؛ لیكن جب معذوری زیادہ ہوگئی تو پھر كمرے میں ہی نماز ادا كرنے لگے، پرسشِ احوال پر ایک مرتبہ كہنے لگے كہ “بیماری كی وجہ سے متنوع پریشانیاں ہیں؛ مگر مسجد نہیں پہنچ پاتا اس كا بہت قلق رہتا ہے۔”
نفل نمازوں کا اہتمام تو آپ کو بہتوں کے یہاں ملے گا؛ مگر نفلی روزوں کا اہتمام کرنے والے خال خال ہی ملیں گے، مولانا كے یہاں نفلی روزوں كا بھی اہتمام تھا۔ اس كے علاوہ ذكر وتلاوت بھی اہتمام اور پابندی سے کرتے تھے۔ مولانا نے اپنے ہم وطن بزرگ اور جید عالم دین عظیم محدث حضرت مولانا عبدالجبار صاحب اعظمی سابق صدر المدرسین و شیخ الحدیث مدرسہ شاہی و خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زكریا صاحب كاندہلوی رحمہم اللہ جمیعا كی طویل صحبت اٹھائی تھی، ان كی مجلسوں كے دائمی حاضر باشوں اور ان كے خدمت گزاروں میں سے تھے، اور حضرت شیخ اعظمی کی وفات کے بعد حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ سے وابستہ ہوگئے تھے ،عجب نہیں كہ یہ ذوقِ عبادت انہیں اکابر کی صحبت و خدمت كا فیضان واثر ہو۔
مولانا نے پینتیس سال مدرسہ شاہی میں تدریسی خدمت انجام دی، اس طویل عرصے میں انہوں نے فارسی كی پہلی، تیسرالمبتدی، گلستاں، مالابدمنہ، آسان منطق، تاریخ اسلام، میزان ومنشعب، ہدایۃ النحو، القراءة الواضحہ، نورالایضاح، شرح تہذیب، قدروی، قطبی، اصول الشاسی، شرح وقایہ، ترجمہ قرآن مكمل، كنزالدقائق، مختصرالمعانی، نورالانوار، حسامی، ہدایہ ثانی وثالث ورابع، موطا امام محمد جیسی كتابیں پڑھائیں۔ بعض كتابیں مولانا كی طرف سے راقم كے پاس آئیں، اور بعض راقم كے پاس سے مولانا كے پاس گئیں، اور مولانا كی علالت كی وجہ سے بارہا ان كی كتابیں بھی پڑھانے كا موقع ملا، ایسی كتابوں كے بارے میں كئی بار ان سے تبادلہ خیال كا موقع ملا، جس سے اندازہ ہوا كہ كتابوں كے مباحث مولانا كو اچھی طرح مستحضر ہیں، اور وہ ان كے نشیب وفراز، مشكل مقامات اور ان كے حل سے بخوبی واقف ہیں، مولانا كے بقول انہیں فقہ سے زیادہ مناسبت رہی؛ لیكن طلبہ میں ان كی شہرت منطق سے حوالہ سے زیادہ تھی، اور شاید تدریس كے طویل دورانیہ میں منطق كبھی ان سے جدا بھی نہیں ہوئی۔
مولانا مدرس ہونے كے ساتھ ایک خوش نویس كاتب بھی تھے، مدرسہ شاہی میں “كاتب صاحب” كے لقب سے جانے پہچانے جاتے تھے، فن كتابت كی تحصیل انہوں نے مشہور خوش نویس كاتب منشی محمد عتیق صاحب سے كی تھی، انہوں نے مختلف كتابوں اور رسائل كی كتابت كی، دس سال ماہنامہ ندائے شاہی كی كتابت كا فریضہ بھی انجام دیا، ایک بار فرمایا كہ “مختصر القدروی كی معروف عربی شرح “الجوہرة النیرة” كا موجودہ نسخہ انہیں كا كتابت كردہ ہے۔”
فن كتابت ہی مدرسہ شاہی میں ان كے تقرر كا سبب بنا، ان كے بقول “مدرسہ شاہی میں ندائے شاہی کی كتابت كے لیے كاتب كی فوری ضرورت تھی اور میں مدرسہ جامع الہدی مرادآباد میں تدریس كی خدمت انجام دے رہا تھا، مدرسہ شاہی كے سابق مہتمم حضرت مولانا رشید الدین حمیدی صاحب رحمہ اللہ كی طرف سے پیغام ملا، چنانچہ حضرت سے ملاقات كی، حضرت چاہتے تھے كہ صرف كتابت کا كام ہی مجھ سے متعلق ہو؛ مگر میری طبیعت تدریس سے علاحدگی پر آمادہ نہیں ہوئی، چنانچہ میں اس ملازمت كو قبول نہ كرسكا، كچھ دنوں كے بعد حضرت نے پھر بلایا، میں نے پھر وہی بات ركھی كہ میں تدریس كے ساتھ كتابت كی خدمت انجام دینے كے لیے حاضر ہوں، حضرت نے اس بار منظور فرمالیا، چنانچہ دس سال تک تدریس كے ساتھ كتابت بھی كرتارہا، پھر جب كمپیوٹر آگیا تو میں مستقل تدریس كے لیے ہی ہوگیا۔” فرمایا كہ “اللہ كا یہ بڑا كرم ہوا كہ میں نے تنہا كتابت كی ملازمت قبول نہیں كی، ورنہ كمپیوٹر آنے كے بعد میں نہ كتابت كا رہتا اور نہ تدریس كا۔”
فن كتابت كا ذكر آیا تو مولانا كے ایک تجربہ كا ذكر یہاں مناسب معلوم ہوتاہے، فرمانے لگے: “لوگ كہتے ہیں كہ مولوی كو مولویت كے ساتھ ساتھ كوئی ہنر بھی سیكھ لینا چاہیے، چنانچہ میں نے اسی لیے كتابت سیكھی؛ لیكن فن كتابت سے میں كوئی خاص فائدہ نہیں اٹھاسكا، ہاں اس كے پیچھے میرا وقت بہت برباد ہوا، جس سےمیرا علمی نقصان رہا، میں اس فن كی وجہ سے كبھی علم كے لیے یكسو نہ ہوسكا۔” كہنے لگے: “میں نے مولانا وحیدالزماں كیرانوی رحمہ اللہ كے یہاں ایک سال عربی ادب وانشا كی تعلیم بھی حاصل كی تھی، اور مجھے عربی زبان سے خاصی مناسبت بھی ہوگئی تھی؛ مگر سب ضائع ہوگیا، ہمارے جو ساتھی صرف پڑھنے پڑھانے میں لگے وہ آگے بڑھ گئے، اور ہم پیچھے رہ گئے۔” فرمایا: “میرا تو تجربہ یہی ہے كہ عالم كو ہرفن مولا بننے اور ہنر سیكھنے كے بجائے بس علم ہی كے لیے یكسو رہنا چاہیے، اسی میں اس كی ترقی اور بھلائی ہے۔” غالباً یہی احساس تھا جس کی وجہ سے انہوں نے بہت سے معاصر کاتبوں کی طرح اپنے بچوں کو کتابت میں نہیں لگایا، اور ان کی خواہش یہی رہی کہ بچے یکسو ہوکر دینی خدمت میں لگیں، حالانکہ جن لوگوں نے کمپیوٹر وغیرہ سیکھ کر اپنے کو اپڈیٹ کرلیا ہے کتابت ان کے لئے آج ایک بہترین ذریعۂ معاش ہے۔
مولانا نے مدرسہ شاہی میں ایک طویل عرصہ دار الاقامہ كی خدمت بھی انجام دی، وہ اس خدمت كے ذریعہ طلبہ كی تربیت بھی كرتے، اور تذكیر كے ساتھ تادیب سے بھی كام لیتے۔ اپنی نیکی، خلوص اور طلبہ کی ہمدردی کی وجہ سے وہ ان کے نزدیک قابل احترام رہے۔
حضرت مولانا صدرالدین صاحب موضع كوئریا پار ضلع اعظم گڑھ (موجودہ ضلع مئو) میں پیداہوئے، تاریخ شاہی كے مطابق ان كا سن پیدائش1957ء ہے، والد كا نام محمد صابر تھا، ابتدائی تعلیم اپنے وطن اور مدرسہ اشاعت العلوم پورہ معروف میں حاصل كی، اس كے بعد 1394ھ میں مدرسہ شاہی میں داخل ہوئے، یہاں انہوں نے عربی چہارم و پنجم كی كتابیں پڑھیں، پھر دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا، وہاں چار سال تعلیم حاصل كی، سن 1399ھ مطابق 1980ء میں دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے، اور سن 1400ھ میں تكمیل ادب كیا۔
اس كے بعد انہوں نے تدریسی سفر كا آغاز كیا، چنانچہ مدرسہ رحمانیہ رڑکی میں ایک سال، درسگاہ عالیہ شریف نگر میں تین سال، مدرسہ كاشف العلوم بریلی میں ایک سال، اور مدرسہ جامع الہدی مرادآباد میں سات سال تدریسی خدمت انجام دی، پھر مدرسہ شاہی كے دفتر تعلیمات كے ریكارڈ كے مطابق 15 ربیع الاول1411ھ مطابق 25 ستمبر 1991ء میں بصیغۂ كتابت وتدریس آپ كا تقرر ہوا، دو تین گھنٹے تدریس کے ہوتے، بقیہ میں ماہنامہ ندائے شاہی كی كتابت كرتے، بعد میں جب ندائے شاہی كی كتابت كمپیوٹر سے ہونی طے پائی تو 1421ھ مطابق2001ء میں آپ كل وقتی مدرس ہوگئے، مدرسہ شاہی میں انہوں پینتیس سال تدریسی خدمت انجام دی،اور ترقی کرتے کرتے دورۂ حدیث تک پہنچے۔
بالآخر اپنی علالت اور اعذار كی وجہ سے 15 ذی الحجہ 1446ھ مطابق 12جون 2025ء تدریس سے مستعفی ہوگئے۔
وہ لمبے عرصے سے مختلف عوارض و اعذار سے دوچار تھے، سال گذشتہ انہوں نے مرادآباد میں گردے كی پتھری كا آپریشن كرایا؛ لیكن آپریشن كامیاب نہ ہوسكا، اور طبیعت ایسی خراب ہوئی كہ صحت كی امید جاتی رہی، بہر حال وطن جاكر علاج ہوا اور وہ صحت یاب ہوكر شوال میں مدرسہ تشریف لے آئے، عید الاضحی تک تدریسی خدمت بھی انجام دی؛ لیكن انہیں اندازہ ہوگیا كہ شاید وہ تدریسی ذمہ داریوں كو كماحقہ انجام دینے سے قاصر ہیں؛ اس لیے مستعفی ہوكر وطن چلے گئے، گھر طبیعت حسب معمول تھی؛ مگر وقتِ موعود آچكا تھا، چنانچہ بروز اتوار بتاریخ 15 صفر 1447ھ مطابق 10 اگست 2025ء بوقتِ سحر چار بجے عارضۂ قلب میں اس دارِ فانی سے رحلت فرماگئے۔ اور وطن میں ہی مدفون ہوئے۔ اللہ تعالی ان كی خدمات كو قبول فرمائے، بال بال ان كی مغفرت فرمائے، اور اپنی رضا سے نوازے آمین!
آپ كے پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹے: مفتی محمد راشد، مفتی محمدحذیفہ، حافظ عمر فاروق، اور چار بیٹیاں ہیں، بڑے صاحب زادے مفتی محمد راشد مدرسہ عربیہ حیات العلوم مرادآباد میں شعبۂ عربی میں استاذ ہیں، تدریس كے فریضہ كی ادائیگی كے ساتھ ساتھ والد محترم كی خدمت اور تیماری كی ذمہ داری بھی ایک لمبے عرصے تک كے لیے ان كے حصہ میں آئی، جس كو انہوں نے نہایت سعادت مندی سے انجام دیا، اللہ تعالی اپنی شایانِ شان اجر سے نوازے آمین، مفتی محمد حذیفہ دہلی میں امامت كے فرائض انجام دے رہے ہیں، اللہ تعالی سب كے ساتھ سہولت عافیت اور اپنے خصوصی فضل و كرم كا معاملہ فرمائے آمین!


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


