Surah Al Lail With Urdu Translation

Surah Al Lail With Urdu Translation

(شروع) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿1﴾

قسم رات کی جب چھا جائے

 وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿2﴾

اور قسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہوجائے

 وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ ﴿3﴾

اس ذات کی قسم جس نے نر اور مادہ پیدا کئے

 إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ ﴿4﴾

حقیقت یہ ہے کہ تمہاری کوششیں مختلف ہیں

 فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ ﴿5﴾

پھر بہرحال جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور وہ اللہ سے ڈرا

 وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿6﴾

اور بھلائی کی ہر بات کی تصدیق کی

 فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ ﴿7﴾

ہم اس کو آسانیاں عطا کردیں گے

 وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿8﴾

اور جس نے کنجوسی اور بے پروائی اختیار کی

 وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿9﴾

اور بھلائی کی بات کو جھٹلایا

 فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ ﴿10﴾

تو ہم تکلیف دینے والی چیز کے لیے اس کو سامان مہیا کردیں گے۔

 وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ ﴿11﴾

اور جب وہ ہلاک ہونے لگے گا تو اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا۔

 إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ ﴿12﴾

بیشک ہمارے ہی ذمہ راہ بتانا ہے،

وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ ﴿13﴾

اور بیشک دنیا اور آخرت ہمارے اختیار (قبضہ) میں ہے

 فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ ﴿14﴾

پھر ہم نے تمہیں ایک بھڑکتی آگے سے آگاہ کردیا ہے

 لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ﴿15﴾

اس میں سوائے اس بدنصیب شخص کے اور کوئی داخل نہ ہوگا

 الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿16﴾

جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا

 وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿17﴾

اور اس سے پرہیزگار دور ہی رکھا جائے گا ،

 الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ﴿18﴾

جس نے اپنا مال اپنے آپ کو پاک کرنے کے لیے دیا

 وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَىٰ ﴿19﴾

اور اس پر کسی کو کوئی احسان نہیں تھا جس کا بدلہ اسے دینا تھا

 إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿20﴾

سوائے اس کے کہ وہ اپنے بلندو برتر رب کی رضا و خوشنودی چاہتا ہے

 وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ ﴿21﴾

اور البتہ وہ بہت جلد (آخرت کی نعمتیں پا کر) خوش ہوجائے گا

تعارف سورة الیل

ترتیب کے لحاظ سے یہ سورة مبارکہ 92 ویں نمبر پر آتی ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی اس میں ایک رکوع اور 21 آیات ہیں۔

سوره شمس میں نیکی و بدی کا فرق بیان کیا گیا تھا جب کہ یہ سورت نیک اور بد انسان کا فرق واضح کر رہی ہے اس لحاظ سے ہم اس کو اخلاقیات کا سبق سکھانے والی سورت کہہ سکتے ہیں۔ ہر انسان اپنی اخلاقی خصوصیات کے مطابق ہی اس دنیا میں عمل کر رہا ہے ان میں سے کچھ تو مخیر ہیں۔ اللہ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے پرہیزگار ہیں اور بھلائی کو بھلائی مانتے ہیں اس کے برعکس دوسرے لوگ ایسے بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں اپنے رب سے بےخوف ہیں اور بھلائی کو جھٹلاتے ہیں پہلی قسم کے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نیکی کی طرف ان کی راہیں آسان کردیتا ہے جبکہ دوسرے گروہ کو بدی کا راستہ آسان دکھائی دے گا اللہ تعالیٰ تو دنیا وآخرت دونوں کا مالک ہے جو دنیا مانگے گا اسے دنیا ملے گی اور جو آخرت کا طلب گار ہوگا وہ آخرت میں فلاح حاصل کرلے گا ۔

 البتہ اس زندگی کے دوران اس کے کئے گئے اچھے یا برے فیصلہ کا رجسٹر جو اس نے ترتیب دے رکھا تھا وہ ضرور اس کے ساتھ جائے گا۔ اس لیے کہ اسی کے مطابق تو اسے اگلی زندگی میں بدلہ ملے گا جنت یا جہنم۔ یہ پیغام ہمیں سورة الیل میں دیا گیا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ اس سورت میں دئیے گئے پیغام کو پڑھیں ‘ سمجھیں اور پھر اس پر پوری طرح عمل کریں۔

شان نزول

حاکم اور ابن جریر میں عامر بن عبداللہ بن الزبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں مکہ میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) ضعیف مسلمان مردوں اور عورتوں کو خرید کر آزاد کردیا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ان کے والد حضرت ابوقحافہ نے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا بیٹا تم جو ان کمزور لوگوں کو آزاد کراتے پھرتے ہو اس سے اچھا تو یہ ہے کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں ، تمہاری مدد کریں اور تمہارے دشمنوں سے لڑیں ۔ حضرت ابوبکر (رض) نے جواب دیا کہ میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں ، میں تو صرف رضائے الٰہی چاہتا ہوں ۔ اس پر آیت نازل ہوئی ۔ فاما من۔۔ السیریٰ (ابن کثیر :4/52)

تشریح

اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔

ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لیے اپنا مال خر کرتا ہے۔ ہر نافرمانی سے دور رہ کر فرمان برداری کا پیکر ہے۔ جو ہر ایک بھلائی اور سچائی کی تصدیق کرتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف سے ہر طرح کی سہولتیں عطا کی جاتی ہیں۔

دوسرا وہ شخص ہے جو اللہ کے بندوں پر اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی اور بخل سے کام لیتا ہے۔ اپنے پیدا کرنے والے اللہ سے منہ پھیر کر چلتا ہے اور ہر بھلائی اور سچائی کو جھٹلانا جس کا مزاج بن چکا ہے، جس کی وجہ سے اس سے بھلائی کے راستے پر چلنے کی توفیق چھین لی جاتی ہے۔ کیا یہ دونوں ایک جیسے ہیں کیا ان کا انجام یکساں ہے ؟ کبھی نہیں۔ ان دونوں کا انجام یکساں اور برابر نہیں ہوسکتا یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے رات کو دن اور نر کو مادہ کہہ دیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے ایسے نافرمان شخص سے پوچھا ہے کہ دنیا کی زیب وزینت، مال و دولت اسی وقت تک کام آسکتے ہیں جب تک زندگی کی یہ ڈور بندھی ہوئی ہے لیکن جب موت آجائے گی اور دنیا سے ہر سلسلہ کٹ جائے گا اس وقت یہ سب چیزیں تیرے کیا کام آئیں گی ؟

اللہ جو دونوں جہانوں کا مالک ہے اس نے اپنے پاکیزہ نفس پیغمبروں کے ذریعہ خیر وشر کے ہر راستے کی وضاحت کردی ہے۔ ان دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا اب یہ انسان کا کام ہے کیونکہ دونوں راستوں کا انجام بتا دیا گیا ہے۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے سچائیوں سے انکار کیا اور ان سے اپنا منہ پھیرا اس کے لیے اللہ نے ایسی جہنم کی بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے جس میں ہر شخص جھلس کر رہ جائے گا۔

اور جس نے پاکیزگی نفس کے لیے اللہ کے بندوں پر اپنا مال خرچ کیا جس میں محض اللہ کی رضا و خوشنودی مقصود تھی وہ اپنا مال اس لیے خرچ نہیں کرتا تھا کہ اس پر لوگوں کا کوئی احسان تھا جس کا وہ بدل چکا رہا ہے بلکہ اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لیے خرچ کرتا تھا اس کو نہ صرف جہنم کی آگ سے دور رکھا جائے گا بلکہ اس کو اللہ اپنی رضا عطا فرمائیں گے اور دونوں جہانوں میں تنا کچھ دیں گے جس سے وہ خوش ہوجائے گا۔

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply