Surah E Shams With Urdu Translation

Surah E Shams With Urdu Translation

ترجمہ اور مختصر تفسير سورہ شمس

مرتب: محمد ہاشم بستوى، استاذ جامعہ اسلاميہ مظفرپور اعظم گڑھ يوپى انڈيا

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ﴿1﴾

قسم ہے سورج کی اور اس کی پھیلی ہوئی دھوپ کی۔

 وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا ﴿2﴾

اور چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے پیچھے آئے۔

 وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا ﴿3﴾

اور دن کی جب وہ سورج کا جلوہ دکھا دے۔

 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا ﴿4﴾

اور رات کی جب وہ اس پر چھا کر اسے چھپالے۔

 وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا ﴿5﴾

اور قسم ہے آسمان کی، اور اس کی جس نے اسے بنایا۔

 وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا ﴿6﴾

اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے بچھایا۔

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿7﴾

اور انسانی جان کی، اور اس کی جس نے اسے سنوارا۔

 فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿8﴾

پھر اس کے دل میں وہ بات بھی ڈل دی جو اس کے لیے بدکاری کی ہے، اور وہ بھی جو اس کے لیے پرہیزگاری کی ہے۔

 قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ﴿9﴾

فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے۔

 وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا ﴿10﴾

اور نامراد وہ ہوگا جو اس کو (گناہ میں) دھنسا دے۔

 كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا ﴿11﴾

قوم ثمود نے اپنی سرکشی سے (پیغمبر کو) جھٹلایا۔

 إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا ﴿12﴾

جب ان کا سب سے سنگدل شخص اٹھ کھڑا ہوا۔

 فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا ﴿13﴾

تو اللہ کے پیغمبر نے ان سے کہا کہ : خبردار ! اللہ کی اونٹنی کا اور اس کے پانی پینے کا پورا خیال رکھنا۔

 فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا ﴿14﴾

پھر بھی انھوں نے پیغبر کو جھٹلایا، اور اس اونٹنی کو مار ڈالا (٣) نتیجہ یہ کہ ان کے پروردگار نے ان کے گناہ کی وجہ سے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر سب کو برابر کردیا۔

 وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا ﴿15﴾

اور اللہ کو اس کے کسی برے انجام کا کوئی خوف نہیں ہے۔

تشريح

سورہ والشمس كى فضیلت

حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عشاء میں سورة الشمس اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے ۔حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور نے انھیں نماز فجر میں ﴿وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى﴾ اور﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ پڑھنے کا حکم فرمایا (طبرانی) حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں حضور نماز اشراق کی دو رکعتوں میں والشمس اور والضحی واللیل اذا سجی، پڑھنے کا حکم فرماتے تھے (بہیقی شعب الایمان) ۔

اور حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ حضور سرور کونین عید کی نماز میں سبح اسم ربک الاعلی ، اور ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ پڑھا کرتے تھے (طبرانی ، درمنثور ، جلد 8)

﴿كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ قوم ثمود کى سركشى اور ان كا انجام

تشریح : دنیا میں ایسے بہت سے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے احکام الٰہی اور شریعت کو چھوڑ کر ہلاکت وتباہی کی روش اختیار کی، اور اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود ایسے طور طریقے اختیار کئے کہ جانوروں سے بھی زیادہ ذلیل ہوگئے ۔ تاریخ عالم ایسے لوگوں کے عبرت ناک انجام کی مثالوں سے بھری پڑی ہے ۔ انہی میں سے ایک مثال قوم ثمود کی ہے، ان کے خاص شہر کا نام حجر تھا جو وادی القریٰ میں مدینے اور شام کے درمیان تبوک سے چار میل کے فاصلے پر تھا، یہ نہایت سرسبز و شاداب تھا ۔ یہاں چشموں اور باغات کی کثرت تھی ۔

 یہ مقام اب تک ویران موجود ہے ۔ ان کے پاس مال و دولت کی بہتات تھی اور پتھروں کو تراش کر پہاڑوں کے اندر بڑے بڑے عالیشان مکان بناتے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بت پرست ، بدکار ، رہزن سفاک اور نہایت بےرحم تھے ۔ خدا پرستی، رحم دلی اور پرہیزگاری کا ان میں شائبہ تک نہ تھا ۔ قیامت اور جزا وسزا کے منکر تھے۔

 ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے انہی میں سے حضرت صالح (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ تمہیں ان دنیاوی نعمتوں میں، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہیں جیسے باغات، چشمے، کھیتیاں اور کھجور کے درخت جن کے خوشے کھجوروں سے خوب گندھے ہوئے ہوتے ہیں وغیرہ، میں یونہی بےفکری کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا، اور تم پر کوئی آفت نہ آئے گی اور نہ تمہیں موت آئے گی ۔

 حالانکہ ان نعمتوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم ان نعمتوں پر منعم حقیقی کا شکر ادا کرو، اور اس کے احکام پر عمل کرو، کیا تم اس لیے بےفکر ہو کہ تم پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو اور پھر اس پر اتراتے ہو ۔ یہ مضبوط اور پتھروں کے مکانات تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے ہيں؟ وہ اللہ اس پر قادر ہے کہ تمہارے امن وامان کو خاك میں ملادے، سو تم اللہ کے عذاب سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اپنے سرداروں کی بات نہ مانو جو بندگی کی حد سے تجاوز کرگئے ہیں ۔

 حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی اصلاح اور وعظ ونصیحت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی مگر قوم کسی طرح نہ مانے اور کہنے لگی تم پر تو کسی نے جادو کردیا ہے اسی لیے بہکی بہکی باتیں کررہے ہو ۔ تم اپنے آپ کو اللہ کے رسول کہتے ہو حالانکہ تم ہمارے ہی جیسے ایک آدمی ہو ۔ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہیں آتی ، پھر تم پر کیسے آتی ہے؟ اللہ کا رسول تو فرشتے کو ہونا چاہیے تم ہم جیسے ہو کہ رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہو ۔ یہ تو بےعقلی کی دلیل ہے ۔ سو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ہماری آنکھوں کے سامنے اس خاص چٹان میں سے ایک اونٹنی پیدا کرکے دکھاؤ جو ایسی ایسی ہو ۔

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعا سے اسی وقت پتھر کی چٹان کے اندر سے ان کی مطلوبہ اونٹنی برآمد فرمادی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ: یہ ہے تمہاری مطلوبہ اونٹنی اور اس کے کچھ حقوق ہیں، ان حقوق میں سے یہ ہے کہ پانی کا حصہ مقرر ہے، ایک دن یہ اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک دن تمہارے جانور پئیں گے، تم اس کی باری کے دن اپنے جانوروں کو پانی نہ پلانا اور تمہارے جانوروں کی باری کے دن یہ اونٹنی پانی نہیں پیئے گی ، اس کا دوسرا حق یہ ہے کہ تکلیف پہنچانے کی نیت سے تم اس کو ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ تمہیں یوم عظیم کا عذاب آپکڑے گا ۔

حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم اپنا مطلوبہ معجزہ دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لائی، اورنہ انھوں نے حضرت صالح کی تصدیق کی، اور نہ اس اونٹنی کے حقوق ادا کئے، بلکہ ان میں سے ایک بدبخت نے کھڑے ہوکر اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں ۔ حالانکہ وہ اونٹنی خود اس بدبخت قوم کی فرمائش پر معجزے کے طور پر ایک پہاڑ کی چٹان سے نکلی تھی، مگر یہ لوگ ایمان لانے کی بجائے اللہ کی اونٹنی کے دشمن بن گئے ۔ پھر اللہ نے بھی ان کے گناہوں کے سبب ان پر اپنا قہرنازل فرمایا، اور جب عذاب کے آثار نمودار ہوئے تو اپنے کئے پر نادم ہوئے لیکن اس ندامت کا کوئی فائدہ نہ تھا ۔

 آخر جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا اس نے ان کو آپکڑا، اور وہ ایسے ہلاک ہوئے کہ ان کا نام ونشان تک باقی نہ رہا اللہ تعالیٰ اپنی عظمت وکبریائی کے سبب کسی مجرم کو سزادینے یا کسی قوم کی ہلاکت و بربادی کے انجام سے قطعاً نہیں ڈرتا اور نہ اس کو اس کی پروا ہے کہ کوئی مجرم قوم اس کا تعاقب کرے گی ۔

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply