Surah At Tin Translation

Surah Wateen With Urdu Translation, Surah Tin translation In Urdu

ترجمہ اور مختصر تفسير سورہ تين

مرتب: محمد ہاشم بستوى

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ﴿1﴾

قسم ہے انجیر اور زیتون کی ،

 وَطُورِ سِينِينَ ﴿2﴾

اور طور سینا کی

 وَهَٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ ﴿3﴾

اور اس امن والے شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم

 لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ﴿4﴾

ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ،

 ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ ﴿5﴾

پھر رفتہ رفتہ اس کی حالت کو بدل کر پست سے پست کردیا

 إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ ﴿6﴾

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے ۔ تو ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجرو ثواب ہے

 فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ ﴿7﴾

(اے انسان ان کھلی دلیلوں کے بعد) وہ کون سی چیز ہے جو تجھے قیامت کو جھٹلانے پر آمادہ کر رہی ہے۔

 أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ ﴿8﴾

کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے۔

تعارف سورة تین

یہ سورت 95 ویں نمبر پر آتی ہے اس میں آٹھ آیات اور ایک رکوع ہے۔ یہ بھی مکی سورت ہے۔ اس میں چار بہترین چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ یہ یقین دلاتے ہیں کہ یوم الحساب ضرور آئے گا۔ کیا یہ ماننے کی بات ہے کہ ایک ایسی تخلیق جو دنیا کی بہترین تخلیق ہے اور جس کے لیے کائنات بنادی گئی تو اس کی تخلیق کا نہ کوئی مقصد ہو اور نہ انصاف ؟ اس کا انصاف کرنا ضروری ہے کہ کس نے اللہ کی تابعداری کی اور کس نے نافرمانی ؟ اسی کے لیے یوم الحساب مقرر کیا گیا ہے۔

لغات:

التین: انجیر۔ الزیتون: زیتون، طور سنیین: طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الأمین: امن والا شہر۔ أحسن: بہترین۔ تقویم: بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا: ہم نے لوٹا دیا۔ أسفل: زیادہ نیچے۔ غیر ممنون: نہ ختم ہونے والا۔

تشریح:

اس سورت سے پہلے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔

 سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبروں کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے نوازا ہے۔ مسجود ملائکہ بنایا یعنی جس کے سامنے تمام فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ جب وہ انسان للہ اور اس کے رسلو کے بتائے ہوئے طریقوں کو اپنا کر نیک راہوں کا انتخاب کرتا ہے اور ایمان، عمل صالح کا پیکر، اخلاق کو بلندیوں پر فائز اور شدید سے شدید تر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ وہ اخلاق کی بلند سطح سے نیچے نہیں اترتا اور اس بات کا یقین کامل رکھتا ہے کہ یہ دنیا عارضی اور وقتی ہے۔ ایک دن اس پوری کائنات کے نظام کو درہم برہم کردیا جائے گا۔ میدان حشر میں اچھے یا برے تمام کاموں کا حساب دینا ہوگا۔ کسی کے ساتھ بےانصافی نہ ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے آدمی کو ایسا بدلہ اور جزا دی جائے گی اور ایسی راحتیں دی جائیں گی جس کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوگا۔

اس کے برخلاف وہ آدمی جو ایمان اور عمل صالح سے دور، خود غرضیوں اور دنیاوی لالچ کا پیکر، خوف آخرت اور قیامت کے دن سے بےنیاز اور لاپرواہ اور اخلاقی اعتبار سے اس قدر پستی کی انتہا تک پہنچا ہوا جہاں انسانیت بھی شرما جائے۔ ایسا آدمی آخرت کر ہر حمت اور کرم سے محروم رہے گا۔ یعنی اللہ نے تو اس کو بہترین ساخت پر پیدا کیا تھا لیکن اس نے خود اپنے آپ کو ذلتوں تک پہنچا دیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے بعد کون جزا اور سزا کے معاملے میں آپ کو جھٹلا سکتا ہے۔ اللہ نے پوچھا کہ کیا اللہ ہی سب حاکموں اور حکمرانوں سے بڑھ کر حاکم اور حکمراں نہیں ہے۔

سورة تین کی آیات کی مزید وضاحت:

والتین والزیتوں: انجیر اور زیتون کی قسم۔ انجیر اور زیتون شام و فلسطین کے علاقے میں پائے جانے والے وہ دو مشہور پھل ہیں جن کے فائدے سے سارا عرب واقف تھا۔ آج بھی انجیر اور زیتون عربوں کے کھانے کا ایک جزو ہے جسے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں یہ پھل پایا جاتا ہے کیونکہ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ جو پھل یا چیز کسی علاقے میں کثرت سے پائی جاتی تھی اس پر اس علقے کا نام رکھ دیا کرتے تھے۔

 زیتون اور انجیر فلسطین اور شام کے اس زرخیر علاقے میں پایا جاتا ہے جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے لے کر حضرت عیسیٰ تک بنی اسرائیل کے سیکڑوں نبیوں اور رسولوں کا مرکز تبلیغ رہا ہے۔ اس نے اس مقام کی قسم کھائی ہے۔ بعض علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں۔ ایک پہاڑ پر دمشق (ملک شام) اور دوسرا زیتون پہاڑ ہے جس پر بیت المقدس واقع ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون یا ان علاقوں کی جہاں انبیاء کرام پیدا ہوئے اور انھوں نے اپنا فریضہ تبلیغ دین ادا فرمایا قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اللہ نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے۔

 طور سینا:

طور سینا جزیرہ نمائے سینا کا دوسرا نام ہے اسی کو قرآن کریم میں سینا اور سنین فرمایا ہے۔ اللہ نے اس صحرائے سینا کی قسم کھائی ہے جہاں سے پوری قوم بنی اسرائیل فرعون کے ظلم سے نجات پا کر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ اس صحرا گے گزری تھی۔ اسی میں طور پہاڑ بھی واقع ہے جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا اور توراۃ جیسی کتاب عطا فرمائی دوسری قسم اس طور سنین کی کھائی ہے۔

وھذا البلد الامین۔ اور امن وامان والے شہر ( مکہ مکرمہ) کی قسم۔ یعنی مکہ مکرمہ وہ مبارک سرزمین ہے جہاں سے دنیا کی ابتدا ہوئی۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلے فرشتوں کی مدد سے اس شہر میں بیت اللہ کی تعمیر فرمائی۔ پھر طوفان نوح میں جب خانہ کعبہ کی دیواریں منہدم ہوگئیں تو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) نے پھر سے بیت اللہ کی دیواریوں کو اٹھاتے ہوئے بہت سی دعائیں کیں ان ہی میں سے ایک دعا یہ تھی ” الٰہی اس شہر کو امن وامان والا شہر بنا دیجئے “ اللہ نے ان کی دعاؤں کو قبول و منظور کرتے ہوئے اس طرح امن وامان والا شہر بنادیا کہ جب عرب میں ہر طرف بدامنی اور قتل و غارت گری عام تھی اس وقت بھی یہ شہر امن وامان کا مرکز تھا۔ اس شہر کی بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس شہر میں سردار انبیاء حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے۔

 آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچپن، جوانی اور ادھیڑ عمری کی زندگی یہیں گزری۔ یہیں وہ پہاڑ جبل نور ہے جس کے غار حرا میں اللہ کا وہ کلام نازل ہونا شروع ہوا جو قیامت تک ساری انسانیت کے لیے مینارہ نور اور رہبر و رہنما ہے۔ آپ نے دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا آغاز اسی شہر سے کیا۔ یہی وہ شہر ہے جس میں آپ نے اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام (رض) نے کفار کی اذیتوں کے باوجود صبر و استقلال کا وہ عظیم مظاہرہ کیا جو اپنی جگہ ایک مثال ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحاہ کرام (رض) نے اللہ کے حکم سے اس شہر سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کو اپنے لیے پسند فرمایا۔ اللہ نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر اس شہر کی قسم کھائی ہے۔ یہیں فریضہ حج ادا کیا جاتا ہے۔ اللہ نے تیسری قسم اس ”بلد امین“ کی کھائی ہے اور فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت اور بہترین سانچے میں ڈھال کر بنایا ہے۔ یہ خود اپنی اس حیثیت کو بھلا کر اخلاقی پستیوں میں جا گرتا ہے ورنہ اللہ نے تو اس کو اعلیٰ ترین مقام عطا فرمایا تھا۔

فما یکذبک بعد بالدین: یعنی اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کے بعد انصاف کے دن کے معاملے میں کون آپ کو جھٹلا سکتا ہے۔ الیس اللہ باحکم الحکامین۔ کیا وہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے۔ کیا اس کی حکومت و سلطنت، بادشاہت و شہنشاہیت تمام حکمرانوں اور بادشاہوں سے بڑھ کر نہیں ہے۔ جب معمولی بادشاہ اور حکمران بھی اپنے ملک میں بسنے والے اچھے اور نیک لوگوں کو انعام او اکرام سے نوازتے ہیں اور مجرموں کو سخت سزائیں دیتے ہیں۔ کیا اللہ احکم الحاکمین نہیں ہے جو گناہ گاروں کو سزا اور نیکوکاروں کو ان کے بہترین اعمال پر جزا دے سکے اور ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کرسکے۔ یقینا اللہ ہی سب حاکموں کا حاکم ہے اور اسی کی سلطنت زمین اور آسمانوں پر چھائی ہوئی ہے۔ وہی سب کو انصاف عطا فرمائے گا۔

حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ”سورة التین“ کی تلاوت فرماتے۔ چونکہ اسمیں اللہ نے بندوں سے پوچھا ہے کہ کیا میں تمام حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہوں ؟ تو آپ اس کا جواب دیتے۔۔۔(کہ میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں) ۔

علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ہم سب کے لیے یہ مستحب اور باعث اجر ہے کہ ہم بھی اس کی تلاوت کرنے کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ان الفاظ کو دھرائیں۔

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply