(سلسلہ نمبر: 826)
حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے زندہ نازل ہونگے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسںٔلہ ذیل کے بارے میں:
کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے نبی تھے اور اللّہ پاک نے انہیں ایک خاص واقعہ کی وجہ سے آسمان پر اٹھالیا تھا جس پر خود قرآن شاہد ہے
تو سوال ہیکہ کیا حضرت عیسی علیہ السلام قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہونگے یا جس طرح ایک عام انسان کی پیدائش ہوتی ہے اسی طرح پیدا ہونگے؟
کیونکہ جس طریقے سے ملعون غلام احمد قادیانی ان کے آسمان سے نازل ہونے کا انکار کرتا تھا اسی طرح صوبہ بہار میں پیدا ہونے والا ( شکیل بن حنیف خان ) نامی شخص نے بھی اپنے آپ کو نعوذ باللہ حضرت عیسی ہونے کا دعوی کیا ہے اور نزول کے الفاظ کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے
اسی طرح ایسے عقیدہ رکھنے والوں کا کیا حکم ہے واضح فرمادیں کہ وہ مسلمان باقی رہا یا نہیں اگر نہیں تو ان سے لین دین سلام و کلام اور ان نکاح و مناکحت جا کیا حکم ہے، اسی طرح اگر کوئی ایسا بد عقیدہ انسان مرجاۓ تو کیا اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاۓ گا یا نہیں؟
ان تمام کا حکم از روۓ شرع واضح فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی: مفتی محمد سلطان منیری مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بتیا بہار۔
الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ قرب قیامت آسمان سے زندہ اتاریں گے، قرآن کریم کی بعض آیات میں اشارۃً اور احادیث مبارکہ میں صراحتاً اس کا تذکرہ موجود ہے، جو شخص خود کو عیسی علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے، اور جو لوگ اس کو سچا مان کر اسے امام مہدی اور مسیح موعود عیسی علیہ السلام مانتے ہیں یا اس عقیدہ پر اُس کے ہاتھ پر بیعت ہوتے ہیں، وہ بھی بلا شبہہ کافرو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، چنانچہ دار الافتاء دار العلوم دیوبند نے شکیل بن حنیف کو مرتد وکافر قرار دیا اور اس کو مہدی یا عیسی علیہ السلام ماننے والوں کو بھی کافر قرار دیا ہے، چونکہ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں؛ اس لئے ان سے سلام وکلام اور نکاح ومناکحت جیسے معاملات کرنا درست نہیں ہے، نیز وہ مرجائیں تو ان کی نہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور نہ ہی ان کو مقابر مسلمین میں دفن کیا جائے گا۔
الدلائل
قال الله تعالى: وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا. {النساء:159}،
قال ابن كثير في تفسيره: قال ابن جرير: وأولى هذه الأقوال بالصحة القول الأول، وهو أنه لا يبقى أحد من أهل الكتاب بعد نزول عيسى عليه السلام إلا آمن به قبل موته، أي قبل موت عيسى عليه السلام، ولا شك أن هذا الذي قاله ابن جرير رحمه الله هو الصحيح، لأنه المقصود من سياق الآي في تقرير بطلان ما ادعته اليهود من قتل عيسى وصلبه وتسليم من سلم لهم من النصارى الجهلة ذلك، فأخبر الله أنه لم يكن الأمر كذلك، وإنما شبه لهم فقتلوا الشبيه وهم لا يتبينون ذلك، ثم إنه رفعه إليه، وإنه باق حي، وإنه سينزل قبل يوم القيامة، كما دلت عليه الأحاديث المتواترة. (تفسير ابن كثير).
وقال تعالى: وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ. {الزخرف:61}
أي نزول عيسى عليه السلام، قال العلامة الشنقيطي في أضواء البيان: التحقيق أن الضمير في قوله: وإنه راجع إلى عيسى لا إلى القرآن، ولا إلى النبي صلى الله عليه وسلم.
ومعنى قوله (لعلم للساعة) على القول الحق الصحيح الذي يشهد له القرآن العظيم، والسنة المتواترة، هو أن نزول عيسى في آخر الزمان حيا علم للساعة أي علامة لقرب مجيئها لأنه من أشراطها الدالة على قربها. (أضواء البيان).
وقد نقل القرطبي عن أبي العباس أنه قال: كلمهم في المهد حين برأ أمه فقال: إني عبد الله، وأما كلامه وهو كهل فإذا أنزله الله تعالى من السماء أنزله على صورة ابن ثلاث وثلاثين سنة وهو الكهل. انتهى. (تفسير القرطبي: سورة آل عمران: 46).
وعن أبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا ، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ). (صحيح البخاري ، الرقم: 2222، وصحيح مسلم، الرقم: 155).
وعن جَابِر بْن عَبْدِ اللَّهِ قال : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ : فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ : تَعَالَ صَلِّ لَنَا . فَيَقُولُ : لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ ، تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ . (صحيح مسلم ، الرقم: 156).
وعن أبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ. (صحيح البخاري ، الرقم: 3449، وصحيح مسلم، الرقم: 155).
“(وشرطها) أي شرط الصلاة عليه (إسلام الميت وطهارته) أما الإسلام فلقوله تعالى {ولا تصل على أحد منهم مات أبدا} [التوبة: 84] يعني المنافقين، وهم الكفرة؛ ولأنها شفاعة للميت إكراما له وطلبا للمغفرة، والكافر لا تنفعه الشفاعة، ولا يستحق الإكرام.” (تبيين الحدائق: کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ج:1 ص:239، ط:المطبعة الکبری الأمیریه).
والله أعلم.
حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.
27- 7- 1446ھ 28-1- 2025م الثلاثاء


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


