hamare masayel

دعا میں وسیلہ اختیار کرنا

(سلسلہ نمبر: 755)

دعا میں وسیلہ اختیار کرنا

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص کہتا ہے کہ اے اللہ میری دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں قبول فرما، اسی طرح کہتا ہے اپنے اولیا ودوستوں کے صدقے میں، کبھی کہتا ہے نیک اعمال کے صدقے میں قبول فرما، کیا اس طرح سے دعا مانگنا درست ہے؟ شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں. کرم ہوگا۔

المستفتی: عبد الحمید چماواں پھول پور۔

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب: جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، بزرگانِ دین اور اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اس عقیدہ کے ساتھ دعاء مانگنا درست اور ثابت ہے کہ اس وسیلے ہماری دعاء بارگاہِ ایزدی میں شرفِ قبولیت حاصل کرنے کی زیادہ مستحق ہوگی. بخاری شریف میں روایت ہے کہ جب قحط سالی ہوتی تو سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے بارش کی دعاء مانگا کرتے تھے۔ اسی طرح بخاری شریف میں تین حضرات کا واقعہ لکھا ہے کہ بارش کی وجہ سے ایک غار میں بند ہوگئے تھے پھر ان سب نے اپنے اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بناکر دعا کی تو اس مصیبت سے چھٹکارا پاگئے۔

الدلائل

عن عثمان بن أبي حنیف أن رجلاً ضریر البصر أتی النبي صلی اللّٰه علیه وسلم فقال: أدعوا الله أن یعافیني، قال: إن شئت دعوت وإن شئت صبرت فهو خیر لك، قال: فادعه، قال: فأمرہ أن یتوضأ فیحسن وضوءہ ویدعو بهذہ الدعاء: ’’اللّٰہم إني أسئلك وأتوجه إلیك بنبیک محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلی ربي في حاجتي هذہ لتقضي لي، اللّٰهم فشفعخ في‘‘ هذا حدیث حسن صحیح. (سنن الترمذي ۲؍۱۹۸).

وبعد هذا کله أنا لا أری بأسا في التوسل إلی اللّٰه تعالیٰ بجاہ النبي صلی اللّٰه علیه وسلم عند اللّٰہ تعالیٰ حیاً ومیتاً – إلی قوله – وإن التوسل بجاہ غیر النبي صلی اللّٰه علیه وسلم لا بأس به أیضاً إن کان المتوسل بجاهه مما علم أن له جاهاً عند اللّٰه تعالیٰ کالمقطوع بصلاحه وولایته. (روح المعاني:4/ 184).

اعلم أنه یجوز ویحسن التوسل والاستغاثة والتشفع بالنبي صلی اللّٰه علیه وسلم إلی ربه سبحانه وتعالیٰ وجواز ذٰلک وحسنه من الأمور المعلومة لکل ذي دین والمعروفة من فعل الأنبیاء والمرسلین وسیر السلف الصالحین والعلماء والعوام من المسلمین، ولم ینکر أحد ذٰلک من أہل الأدیان، ولا سمع بہ زمن من الزمان حتی جاء ابن تیمیۃ فتکلم في ذٰلک۔ (شفاء السقام: 133، خلاصۃ الوفاء: 51).

وقال السبکي: یحسن التوسل بالنبي صلی اللّٰه علیه وسلم إلی ربه ولم ینکرہ أحد من السلف والخلف إلا ابن تیمیة فابتدع ما لم یقله عالم قبله. (رد المحتار: 6/ 397، زكريا).

والله أعلم. حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

10- 11- 1444ھ 31-5- 2023م الأربعاء

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply