سیاست اور خدمتِ خلق: قرآنی تعلیمات، اسوۂ نبوى اور عصری المیہ
بقلم محمد ہاشم قاسمى بستوى، جامعہ اسلاميہ مظفر پور اعظم گڑھ
انسانی معاشرت کا ارتقاء جن بنیادی ستونوں پر قائم ہے ان میں سیاست اورقیادت کو ایک مرکزی اور ناگزیر حیثیت حاصل ہے۔ لغوی اور اصطلاحی اعتبار سے دیکھا جائے تو سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ”س-و-س” ہے۔ اس کے بنیادی معنی عوام کے معاملات کو درست کرنے، ان کی فلاح و بہبود کا انتظام کرنے، نظامِ عدل قائم کرنے اور معاشرے کی مثبت خطوط پر تربیت کرنے کے ہیں۔ گویا سیاست کی اصل روح اور اس کا خمیر ہی ‘خدمتِ خلق’ اور ‘مفادِ عامہ’ ہے۔
مگر دورِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاست اپنے اصل مفہوم اور مقدس مقصد سے کوسوں دور ہو چکی ہے۔ آج گاؤں کی پنچایت سے لے کر ملکی ایوانوں اور بین الاقوامی سطح تک، سیاست محض حصولِ اقتدار، ذاتی مفادات کے تحفظ، اقربا پروری اور دولت جمع کرنے کا دوسرا نام بن گئی ہے۔ یہ ایک ایسی عالمی وبا بن چكى ہے جس نے انسانیت کو فلاح کے راستے سے ہٹا کر طمع، حرص اور خود غرضی کی تاریک پگڈنڈیوں پر دھکیل دیا ہے۔ اقتدار کی اس ہوس نے انسان سے اس کی انسانیت چھین لی ہے۔ مرزا غالبؔ نے انسانیت کے اسی زوال اور انسان بننے کی مشقت کو کیا خوب بیان کیا ہے:
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
تاہم، ایک باشعور انسان اور بالخصوص ایک مسلمان کی حیثیت سے مایوسی ہمارے مسلک میں حرام ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس تاریکی میں قرآن و سنت کی روشنی سے امید کے چراغ روشن کریں اور سیاست کے اس بگڑے ہوئے دھارے کو اس کے اصل رخ یعنی خدمتِ خلق کی جانب موڑنے کی شعوری کوشش کریں۔
قرآنِ مجید اور امانتِ اقتدار کا تصور
قرآنِ کریم سیاست اور اقتدار کو کوئی ذاتی جاگیر، وراثت یا عیاشی کا ذریعہ نہیں مانتا، بلکہ اسے اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک بھاری امانت اورآزمائش قرار دیتا ہے۔ منصبِ حکمرانی یا کسی بھی سطح کی نظامت دراصل نیابتِ الٰہی کا نام ہے، جس کا مقصد زمین پر عدل و انصاف کا قیام اور بندگانِ خدا کی بے لوث خدمت ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (سور النساء: 58)
ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ بے شک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ میں اقتدار، منصب اور اختیار کو واضح طور پر امانت کہا گیا ہے۔ جب قیادت کو امانت سمجھ کر سنبھالا جائے گا تو اس میں ذاتی مفاد کا شائبہ تک نہیں آ سکتا۔ علامہ اقبال نے سیاست کے اس الہٰی تصور اور موجودہ مادی سیاست کے تضاد کو بڑی دردمندی کے ساتھ بیان کیا ہے:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
جب سیاست سے دین کی روح (یعنی خدمت، دیانت، اخلاص اور خوفِ خدا) نکل جاتی ہے تو وہ محض ایک سفاکانہ کھیل اور چنگیزی بن کر رہ جاتی ہے، جہاں عوام کے دکھ درد کو پسِ پشت ڈال کر صرف اپنے محلات تعمیر کیے جاتے ہیں۔
احادیثِ نبویؐ، اسلاف کا کردار اور «سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ» کا عملی نمونہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور ریاستِ مدینہ کا ماڈل ہمارے لیے سیاست اور حکمرانی کا کامل ترین نمونہ ہے۔ آپؐ نے سیاست کو جبر و استبداد کے بجائےرحمت اور خدمت بنا کر پیش کیا۔ آپؐ کا فرمانِ عالی شان ہے: سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ.
ترجمہ: قوم کا سردار دراصل ان کا خادم ہوتا ہے۔
یہ ایک مختصر مگر جامع ترین اصول ہے جس نے سیاست کی پوری تاریخ کا رخ ہی بدل دیا۔ آج کے دور میں لیڈر خود کو حاکم، آقا اور عوام کو محکوم سمجھتا ہے، جبکہ اسلامی سیاست میں لیڈر عوام کا نوکر، خادم اور جوابدہ ہوتا ہے۔
ہمارے اسلاف نے اس آفاقی اصول کو محض کتابوں کی زینت نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کر کے دکھایا۔ اس کی ایک نہایت روشن اور چشم کشا مثال دارالعلوم دیوبند کے مشہور اساتذہ میں سے حضرت شيخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب امروہوی (رحمۃ اللہ علیہ) کی ہے۔ آپ طبعی طور پر نام و نمود سے دور رہنے والے بزرگ تھے، جن کی ساری تگ و دو اللہ سے رابطہ استوار رکھنے میں صرف ہوتی تھی۔ وہ اپنے شاگردوں کے لئے ایک ناقابل فراموش شخصیت تھے، دن رات پڑھنے پڑھانے میں غرق ،اور اپنے ایک ایک شاگرد کے ذاتی حالات تک سے واقف، وہ پابندیِ وقت کے ساتھ درس و تدریس میں اس طرح مشغول رہتے تھے کہ ان کو درسگاہ کے دروازے پر دیکھ کر گھڑی ملائی جاسکتی تھی۔ دارالعلوم دیوبند سے تعلق رکھنے والا ہر شخص تو انہیں جانتا تھا، لیکن عوام میں ان کی شہرت اس لئے زیادہ نہیں ہوئی کہ نہ وہ تقریر و خطابت کے آدمی تھے، نہ سیاست کے۔ ایک مرتبہ حضرت مولانا اعزاز علی صاحب دار العلوم كے كچھ اساتذہ اور شاگردوں کے ساتھ جن میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ بھی شامل تھے کسی سفر پر روانہ ہوئے۔ ریلوے اسٹیشن پر ریل کا انتظار کرتے ہوئے مولانا نے ساتھیوں سے فرمایا کہ شریعت کے مطابق سفر پر جاتے ہوئے اپنے میں سے کسی کو امیر منتخب کر لینا چاہیے۔ سب حضرات نے یک آواز ہو کر حضرت مولانا ہی کو امیر منتخب کر لیا۔ مولانا نے فرمایا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں لیکن سب کو ان کے احکام ماننے ہوں گے، جس پر سب نے بخوشی اقرار کر لیا۔
تھوڑی دیر میں جب ریل گاڑی آئی تو مولانا بجلی کی سی پھرتی سے اپنی جگہ سے اٹھے اور جلدی جلدی اپنے ساتھیوں کا سامان سمیٹ کر اٹھانے لگے؛ ایک عدد ہاتھ میں، ایک بغل میں اور جتنا خود اٹھا سکتے تھے اٹھا لیا۔ ساتھی شاگرد یہ دیکھ کر بے تاب ہو گئے اور سامان چھیننا چاہا، لیکن مولانا نے سختی سے سامان سنبھالے رکھا اور بحیثیتِ امیر انہیں حکم دیا کہ مجھے سامان اٹھانے دیں اور چھیننے کی کوشش نہ کریں۔ پورے سفر کے دوران مولانا کا یہی معمول رہا کہ جب بھی کوئی محنت یا مشقت کا کام آتا، وہ خود آگے بڑھ کر کرتے اور ساتھیوں کے اصرار پر انہیں امیر کا حکم ماننے کا وعدہ یاد دلا دیتے۔ یہاں تک کہ ایک بے تکلف شاگرد نے کہہ دیا کہ حضرت! ہم تو آپ کو امیر بنا کر پچھتائے، جس پر مولانا مسکرا دیے، گویا وہ عملی طور پر سمجھا رہے تھے کہ امیر کا صحیح مطلب کیا ہوتا ہے۔
یہ تھا قیادت اور امارت کے صحیح مفہوم كا عملى مصداق جو ارشادِ نبوى پر عين مطابق تھا، لیکن بعد میں ہم اسے بھول کر قیصر و کسریٰ کے راستے پر چل پڑے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم ہی یہ ہے کہ سب سے بہتر شخص وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور ایثار سے کام لے کر دوسروں کو آرام پہنچائے۔ خواجہ میر دردؔ نے انسانیت اور خدمتِ خلق کی اسی معراج کو اپنے ایک لازوال شعر میں یوں سمویا ہے:
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
انتخابی عمل، رشوت ستانی کی وبا اور سرمایہ کاری
اس شاندار اور بے لوث ماضی کے برعکس، موجودہ دور کی سیاست کا ایک تاریک ترین پہلو، جس نے مفادِ عامہ کا گلا گھونٹ دیا ہے، وہ انتخابی عمل کے دوران رشوت کی گرم بازاری ہے۔ آج گاؤں کے چھوٹے سے الیکشن سے لے کر ملکی سطح کے بڑے انتخابات تک، ووٹ کی خریدو فروخت ایک عام وبا بن چکی ہے۔ امیدواروں کی جانب سے نقدی، کپڑے، وقتی راشن یا دیگر مادی مفادات کا لالچ دے کر ووٹروں کے ضمیروں کا سودا کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس نے خدمتِ خلق کے مقدس تصور کو ایک غلیظ تجارتی کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے، افسوس كى بات يہ كہ ہمارے اپنے بھى اس ميدان ميں غيروں سے بڑھ كر ہيں، خبردار اسلامی شریعت نے اس طرزِ عمل کو سختی سے مسترد کیا ہے اور اسے کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح اور دو ٹوک فرمان ہے:
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ.سنن ابی داود: 3580
ترجمہ: “اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی ہے۔”
قرآنِ مجید نے بھی مال کے ذریعے حکام اور نظام کو متاثر کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے:
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ : سورۃ البقرۃ: 188
ترجمہ: اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو، اور نہ ان مالوں کو (بطور رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہ جان بوجھ کر ظلم کے ساتھ کھا جاؤ۔
عقل اور منطق کا سیدھا سا اصول ہے کہ جو امیدوار الیکشن جیتنے کے لیے کروڑوں روپے پانی کی طرح بہاتاہے، وہ دراصل سیاست نہیں کر رہا، بلکہ ‘سرمایہ کاری’ (Investment) کر رہا ہے۔ جب وہ کرسیِ اقتدار پر بیٹھتا ہے، تو اس کا اولین مقصد عوام کی خدمت ہرگز نہیں ہوتا، بلکہ اس کی ترجیح اپنی لگائی گئی رقم کو منافع سمیت واپس نکالنا ہوتی ہے۔ جس شخص نے ووٹروں کے ضمیر خریدے ہوں، وہ مفادِ عامہ کے کاموں(جیسے غریبوں کے لیے معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنا، مستحقین میں راشن، ادویات اور گرم کپڑوں کی تقسیم کا منظم انتظام کرنا، یا بیماروں کے لیے ایمبولینس جیسی سہولیات فراہم کرنا) کو کیوں ترجیح دے گا؟ اکبرؔ الہ آبادی نے دورِ حاضر کے ان مفاد پرست رہنماؤں کی حقیقت کو بڑے طنزیہ اور حکیمانہ انداز میں یوں طشت از بام کیا ہے:
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ
ووٹرز کی منافقت اور شرعی ذمہ داری
اس پوری کہانی کا سب سے افسوسناک پہلو خود عوام کا متضاد رویہ ہے۔ الیکشن کے دن جو ووٹر چند روپوں، ایک وقت کی دعوت، یا محض برادری اور ذات پات کے تعصب میں آکر ایک بددیانت اور نااہل شخص کو ووٹ دیتا ہے، وہ دراصل اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتا ہے۔ پھر یہی ووٹر اگلے پانچ سال تک چوک چوراہوں پر بیٹھ کر شکایت کرتا ہے کہ “ہمارا نیتا کام نہیں کرتا، ہمارے علاقے میں سڑکیں خراب ہیں، غریبوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں!” سچ تو یہ ہے کہ جس لیڈر نے پيسوں سے اپنے عہدے كو خريدا ہو اس سے وفا کی امید رکھنا ہی دیوانگی ہے۔
ع بوئے پيڑ ببول كا تو آم كہاں سے كھائے
عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلامی نقطہ نظر سے”ووٹ” محض کاغذ کی ایک پرچی نہیں، بلکہ ایک ‘شہادت’ (گواہی) ہے۔ آپ ووٹ دے کر یہ گواہی دیتے ہیں کہ فلاں شخص امانت دار، دیانت دار اور اس منصب کا اہل ہے۔ اگر آپ لالچ میں آ کر کسی کرپٹ انسان کو ووٹ دیتے ہیں، تو آپ ‘جھوٹی گواہی’ (شہادتِ زور) کے مرتکب ہوتے ہیں، جو کہ اسلام میں بدترین گناہوں میں سے ہے۔ قرآنِ مجید کا واضح حکم ہے:
وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ . سورۃ الطلاق: 2 ترجمہ: اور اللہ کے لیے سچی گواہی قائم کرو۔
جب کوئی قوم اجتماعی طور پر اس قرآنی حکم کی خلاف ورزی کرتی ہے اور سچی گواہی یعنی درست قیادت کا انتخاب کے بجائے وقتى مفادات کی خاطر جھوٹی گواہی کا راستہ چنتی ہے، تو اس پر نااہل اور کرپٹ حکمران ہی مسلط کیے جاتے ہیں۔ ہم اپنا ووٹ بیچ کر یا غلط انسان کو چن کر یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ ہمارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ حالات کی تبدیلی کا آغاز اسی دن سے ہوتا ہے جب ووٹر اپنے ضمیر کا سودا کرنا بند کر دے اور سچی گواہی دے۔ جب تک ہم خود اپنی اس انفرادی اور اجتماعی خامی کی اصلاح نہیں کریں گے، اوپر سے فرشتے اتر کر ہمارے حالات نہیں بدلیں گے۔ قرآنِ مجید کے اسی اصول کی ترجمانی مولانا ظفر علی خاں نے کیا خوب کی ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اس گمبھير صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں تنقید کے بجائے تعمیر کی طرف آنا ہوگا۔ سیاست کی اصلاح اوپر سے نیچے نہیں، بلکہ نیچے سے اوپر کی طرف ہوتی ہے۔ جب تک عوام اپنے حقِ رائے دہی کے تقدس کو پہچان کر نااہل لوگوں کا بائیکاٹ نہیں کرےگى، تبدیلی نہیں آئے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان باکردار لوگوں اور فلاحی اداروں کو آگے لائیں اور ان کا ساتھ دیں جو خاموشی سے مفادِ عامہ اور انسانیت کی فلاح کے لیے کوشاں ہیں۔ معاشرے کی اصل طاقت وہی مخلص لوگ ہیں جو زمین پر اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمت کرتے ہیں، سیاست درحقیقت ایک عظیم عبادت بن سکتی ہے اگر اس کی نیت مفادِ عامہ ہو۔ جب ایک منتظم، چاہے وہ ایک چھوٹی سی فلاحی تنظیم اور ٹرسٹ کا نگراں ہو، تعلیمی ادارے کا سربراہ ہو، یا کسی ملک کا حاکم، اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دیتا ہے، تو وہ اللہ کے ہاں بہترین اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ نے سچی سیاست، خدمت اور دین داری کا خلاصہ اپنے ان اشعار میں کمال خوبصورتی سے کیا ہے:
یہی ہے عبادت، یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
خداوندِ عالم ہمیں حقیقی معنوں میں انسانیت کا خادم بنائے، ہمیں سچی گواہی دینے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے کو ایسے رہبر اور خادم عطا فرمائے جن کا ظاہر و باطن ایک ہو، اور جن کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف مفادِ عامہ ہو۔ آمین۔


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

