Surah Adiyat Translation In Urdu

Surah Adiyat Translation In Urdu

ترجمہ اور مختصر تفسير سورہ عاديات

مرتب: محمد ہاشم بستوى، استاذ جامعہ اسلاميہ مظفرپور اعظم گڑھ يوپى انڈيا۔

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا ﴿1﴾

قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپ ہانپ کر دوڑتے ہیں۔

 فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا ﴿2﴾

پھر جو (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں اڑاتے ہیں۔

 فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا ﴿3﴾

پھر صبح کے وقت یلغار کرتے ہیں۔

 فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا ﴿4﴾

پھر اس موقع پر غبار اڑاتے ہیں۔

 فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا ﴿5﴾

پھر اس کے ساتھ وہ (دشمن کی) جمعیت کے اندر گھس جاتے ہیں۔

 إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ ﴿6﴾

بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے

 وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ ﴿7﴾

ہے اور وہ بیشک اپنی ناشکری پر خودشاہدہے

 وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ ﴿8﴾

اور وہ بیشک مال و دولت سے شدید محبت کرتا ہے

 أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ

بھلا کیا وہ وقت اسے معلوم نہیں ہے جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے باہر بکھیر دیا جائے گا۔

﴿9﴾ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴿10﴾

اور سینوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کردیا جائے گا۔

 إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ ﴿11﴾

>

یقینا ان کا پروردگار اس دن ان (کی جو حالت ہوگی اس) سے پوری طرح باخبر ہے۔

تعارف سورة عادیات

ترتیب کے لحاظ سے یہ سورة مبارکہ 100 ویں نمبر پر آتی ہے۔ اس میں ایک رکوع اور گیارہ آیات ہیں۔ یہ مکہ کے قیام کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی اس میں انسان کو اللہ اپنے مالک و خالق سے فرمان برداری کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اسے گھوڑے کی فرمان برداری کی مثال دے کر اور قسم کھا کر سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ گھوڑا بڑا وفادار جانور ہے اپنے مالک کا انتہائی فرمان بردار اور وفادار جانور ہے۔ آخر میں قیامت کا ذکر کیا گیا ہے یوم الحساب ہونے کا اور الہ العلمین کے علیم وخبیر اور انصاف کرنے والا بتایا گیا ہے کہ اسی کی طرف انسان کو لوٹ کر جانا ہے اور یہ خبر بالکل سچ ہے۔

حلِ لغات

العدیت. دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح. ہانپتے ہوئے۔ الموریت. چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح. آگ جھاڑ کر۔ المغیرات. حملہ کرنے والے ہیں۔ أثرن. اٹھاتے ہیں۔ نقع. گردوغبار۔ وسطن.جو بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود . ناشکرا۔ شہید. گواہ۔ الخیر.مال و دولت۔ بعثر. باہر نکالا گیا۔ حصل. حاصل کیا گیا۔

تشریح

 انسان کے چاروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے رک جانا چاہیے جس سے اسے منع کیا گیا ہے۔ شکر کا یہی وہ انداز ہے جسے اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتے ہیں۔ جو اللہ ورسول کے فرمان بردار ہیں وہ اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت پر شکر ادا کرتے ہیں۔ انھیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ انھیں موت آئے گی پھر وہ ایک دن اٹھ کر میدان حشر کی طرف جائیں گے ان کے تمام نیکیوں اور برائیوں کی جانچ ہوگی اور ان کے تمام وہ اعمال جو پوشیدہ تھے کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے اور پھر جزا یا سزا کا فیصلہ سامنے آئے گا۔

لیکن وہ لوگ جو اللہ و رسول کی فرمان برداری سے محروم، آخرت کے یقین سے عاری، مال و دولت کی محبت میں غرق ہوتے ہیں وہ یہ بات کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ ان کو کس ذات نے وجود بخشا، چاند، سورج، ستارے، فضائیں ہوائیں کس کے اشارے پر اس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی نعمتوں کو کس نے بکھیر رکھا ہے ؟ دن کی روشنی اور رات کا سکون کس نے عطا کیا ہے۔ ایسا آدمی یہ نہیں سوچتا کہ اس کو ایک دن مر کر قبر میں جانا ہے پھر اس کو دوبارہ زندہ ہوکر میدان حشر میں پہنچ کر زندگی بھر کے معاملات کا حساب دینا ہے۔ ایسے ناشکرے لوگوں کو گھوڑے جیسے جانور کی مثالیں دے کر فرمایا گیا ہے کہ انسان تو جانوروں سے بھی گیا گزرا ہوگیا۔

انسان ایک گھوڑے کو دانہ اور گھاس ڈالتا اور اسے رہنے کے لیے چھت مہیا کرتا ہے تو وہ گھوڑا اپنے مالک کے احسان کو پہچان کر صبح و شام اس کی فرمان برداری میں دوڑتا بھاگتا ، ہانپتا، پاؤں سے چنگاریاں اور گرد و غبار اڑاتا اس منزل کی طرف پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جہاں اس کا مالک اسے پہنچانا چاہتا ہے۔ اگر وہ دشمن کی صفوں میں گھسنا چاہتا ہے تو گھوڑا اپنی جان کی پر واکئے بغیر صفوں کو چیرتا ہوا درمیان میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ اپنے مالک کی وفاداری میں اپنی جان تک دے ڈالتا ہے مگر اپنے مالک پر آنچ نہیں آنے دیتا۔ فرمایا کہ ایک گھوڑا تو ذرا سے دانے اور گھاس کا شکر اس طرح اپنی وفاداریوں کے ذریعہ پیش کرتا ہے۔

لیکن انسان جس کو اللہ نے بیشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ اپنے مالک کا احسان تک نہیں مانتا اور اپنی ناشکریوں اور نافرمانیوں میں لگا رہتا ہے۔ اسے مال و دولت اور دنیا کی چکاچوندے نے اتنا اندھا کردیا ہے کہ وہ اپنی آخرت اور اس کے انجام تک کو بھول جاتا ہے۔ وہ اس ابتکو بھول رہا ہے کہ اس دنیا میں اس کا ہر عمل اور ہر حرکت ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ اللہ کو اس کے ظاہر و باطن اور اچھے برے سب اعمال کا پوری طرح علم ہے لیکن جب قیامت کے دن اس کے اعمال کا ریکارڈ اس کے سامنے رکھا جائے گا تو اسے کسی بات سے انکار کی گنجائش نہ ہوگی اور اس کے سینے میں چھپے ہوئے راز جو دنیا میں ہر ایک سے چھپایا کرتا تھا وہ سارے پوشیدہ راز کھل کر سامنے آجائیں گے۔ وہ نتیجہ کا وقت ہوگا پھر عمل کرنے کا موقع نہیں ہوگا۔

وہ لوگ یقینا خوش نصیب ہیں جو ہر وقت فکر آخرت کرتے اور اللہ کے احسانات کو یاد رکھتے اور شکر ادا کرتے ہیں۔ جنت کی ابدی راحتیں ان کی منتظر ہیں لیکن ناشکرے اور اللہ کے احسانات کو نہ ماننے والوں کا عبرت ناک انجام ہوگا اور ان کو ایسی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا جس میں انھیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply