surah saad with urdu translation

Surah Saad With Urdu Translation, Surah Sad With Urdu Translation

ترجمہ اور تفسير سورہ ص

مرتب: محمد ہاشم قاسمى بستوى، استاذ جامعہ اسلاميہ مظفر پور اعظم گڑھ۔

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ ﴿1﴾

صاد ۔ قسم ہے نصیحت سے بھر پور قرآن کی

 بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ﴿2﴾

اصل یہ ہے کہ (یہ) کافر ہی تعصب ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔

 كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ ﴿3﴾

ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ( ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے) ہلاک کیا وہ چیختے چلاتے فریاد کرتے رہے لیکن اب ( عذاب سے ) چھٹکارے کا وقت نہیں رہا تھا

 وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ ﴿4﴾

اور یہ اس پر حیرت کررہے ہیں کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھیں میں سے آیا، اور (یہ) کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص ساحر ہے کذاب ہے۔

 أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ﴿5﴾

کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک کردیا۔ یہ تو بڑی ہی عیب بات ہوئی !

 وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ ﴿6﴾

ان کے ( قریشی ) سردار یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو بیشک اس میں اس شخص کی ضرور کوئی غرض (لالچ) شامل ہے۔

 مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ﴿7﴾

ہم نے تو اس سے پہلے مذہب و ملت میں ایسی بات نہیں سنی تھی (ایسا لگتا ہے کہ) یہ محض ایک من گھڑٹ بات ہے۔

 أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْ ذِكْرِي ۖ بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ ﴿8﴾

کہنے لگے کہ کیا ہم میں سے صرف یہی شخص رہ گیا تھا جس پر کلام نازل کیا گیا ہے۔ ( اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) !) دراصل یہ میری طرف سے بھیجی گئی نصیحت سے شک میں پڑے ہوئے ہیں کیونکہ انھوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔

 أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ ﴿9﴾

کیا آپ کا وہ رب جو زبردست اور بہت عطاء کرنے والا ہے اس کی رحمت کے خزانے ( ان کفار) کے پاس ہیں۔

 أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ ﴿10﴾

اور کیا آسمانوں ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب چیزوں پر ان کو اختیار حاصل ہے تو ( وہ آسمانوں) پر چڑھ جائیں۔

 جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ ﴿11﴾

اس مقام پر یوں ہی ایک بھیڑ ہے منجملہ گروہوں کے جس کو شکست ہوگی۔

 كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ ﴿12﴾  وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ ۚ أُولَٰئِكَ الْأَحْزَابُ ﴿13﴾

ان سے پہلے بھی قوم نوح ، قوم عاد ، میخوں والے فرعون، قوم ثمود ، قوم لوط اور بن کے رہنے والوں نے ( انبیاء کرام کو جھٹلایا۔

 إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ﴿14﴾

ان سب ہی نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر نازل ہو کے رہا

 وَمَا يَنْظُرُ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ ﴿15﴾

اور یہ لوگ تو بس ایک چیخ کے منتطر ہیں جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی

 وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ ﴿16﴾

وہ ( مذاق اڑاتے ہوئے) کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں یوم الحساب ( قیامت) سے پہلے ہی ہمارا حصہ دے دیا جائے ( عذاب نازل کردیا جائے) ۔

 اصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿17﴾

یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد، زور و قوت والے کا، حال سناؤ، بیشک وہ اللہ کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے الا تھا۔

 إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ ﴿18﴾

جس کے لیے ہم نے پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام اس کے ساتھ تسبیح ( حمد و ثنا) کرتے رہتے تھے۔

 وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ ﴿19﴾

اور پرندوں کو بھی جھنڈ کے جھنڈ ۔۔ سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے

 وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ﴿20﴾

ہم نے اس کی سلطنت مستحکم کردی تھی اور اس کو حکمت اور معاملات کے فیصلہ کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔

 وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ﴿21﴾

کیا تمہیں فریقوں کے معاملہ کی خبر پہنچی ہے جب کہ وہ دیوار پھاند کر محراب میں داخل ہوگئے۔

 إِذْ دَخَلُوا عَلَىٰ دَاوُودَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَىٰ سَوَاءِ الصِّرَاطِ ﴿22﴾

داؤد کے پاس آگئے اور وہ ان سے گھبرا گئے تھے، وہ لوگ بولے آپ ڈریں نہیں، (ہم) دو اہل مقدمہ ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، سو آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کردیجیئے اور بےانصافی نہ کیجیئے، اور ہمیں سیدھی راہ بتا دیجیئے۔

 إِنَّ هَٰذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ ﴿23﴾

یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے (99) دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک نبی ہے۔ پھر اس نے مجھ سے کہا کہ وہ اپنی دنبی میرے حوالے کر دے اور اس نے مجھے گفتگو میں دبا لیا ہے۔

 قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩ ﴿24﴾

(داؤد عليہ السلام) نے کہا کہ اس نے تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کرکے واقعی تجھ پر ظلم کیا اور اکثر شرکا Partners (یوں ہی) ایک دوسرے پر زیادتی کیا کرتے ہیں مگر ہاں وہ لوگ نہیں جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل بھی کئے، اور ایسے لوگ نہایت ہی کم ہیں، اور داؤد (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ ہم نے ان کا امتحان کیا ہے، سو انھوں اپنے پروردگار کے سامنے توبہ کی اور وہ جھک پڑے اور رجوع ہوئے۔

 فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ﴿25﴾

تو ہم نے اس کو معاف کردیا اور بیشک اس کے لیے ہمارے پاس خاص مقام قرب اور اچھا انجام ہے۔

 يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ ﴿26﴾

(اللہ نے ارشاد فرمایا کہ) اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ (نائب) بنایا ہے تو لوگوں کے درمیان حق ( و انصاف) کے ساتھ فیصلہ کر اور تو اپنی خواہش کی پیروی نہ کرنا ورنہ وہ خواہش تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی ۔ بیشک جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے کیونکہ انھوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔

 وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ﴿27﴾

اور ہم نے آسمان ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے بیکار پیدا نہیں کیا ۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ایسے انکار کرنے والے کے لیے بربادی اور جہنم کی آگ ہے۔

 أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ ﴿28﴾

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کئے ان کے برابر کردیں گے جو زمین میں فساد مچانے والے ہیں اور کیا ہم پرہیز گاروں کو اور بد کاروں کو برابر کردیں گے ( ہرگز نہیں) ۔

 كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿29﴾

یہ (قرآن) ایک بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل فہم نصیحت حاصل کریں۔

 وَوَهَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَيْمَانَ ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿30﴾

اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطا کیا جو (اللہ کے) بہترین بندے اور (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔

 إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ ﴿31﴾

(وہ قصہ بھی قابل ذکر ہے) جب ایک شام ان کے سامنے تیز رفتار اور عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے

فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ﴿32﴾

تو کہنے لگے میں اس مال کی محبت میں اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ (آفتاب) پردہ میں چھپ گیا۔

 رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ ﴿33﴾

(پھر سلیمان (علیہ السلام) نے کہا ذرا) ان  گھوڑوں کو میرے پاس تو لاؤ۔ پھر سلیمان (علیہ السلام) نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا ( یعنی ان کو پیار سے دیکھا)

 وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ﴿34﴾

اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان تخت پر ایک ادھورا جسم لا ڈالا پھر انھوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ﴿35﴾

دعا مانگی اے میرے پروردگار میرا قصور معاف کر اور مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو، بیشک تو بڑا ہی دینے والا ہے۔

 فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ ﴿36﴾

(اللہ نے فرمایا) تو ہم نے اس طرح ہوا کو ان کے تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے نرم اور خوش گوار رفتار سے چلتی تھی۔

 وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ ﴿37﴾

اور سرکش جنوں کو بھی (ان کا تابع کردیا) وہ جنات جو عمارت بنانے والے ( سمندروں میں) غوطے لگانے والے

 وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ﴿38﴾

اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے رہتے۔

 هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿39﴾

(اللہ نے فرمایا کہ) یہ تمہارے لیے ہمارا عطیہ ہے آپ جس پر چاہیں احسان کریں یا اپنے ہی پاس روک کر رکھ لیں ، اس کا کوئی حساب ( نہ لیا جائے گا)

 وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ﴿40﴾

اور ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور بہترین انجام ہے۔

 وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ﴿41﴾

اور آپ ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کو یاد کیجیے۔ جب کہ انھوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ (میرے پروردگار ) شیطان نے مجھے رنج وآزار پہنچایا ہے۔

 ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ ﴿42﴾

(ہم نے کہا کہ) اپنا پاؤں زور سے زمین پر مارو غسل کرنے اور پینے کے لیے میٹھا اور ٹھنڈا پانی (نکل آئے گا)

 وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿43﴾

اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اسی جیسے ( اور بھی اہل خانہ) عطاء کئے۔ یہ ہماری طرف سے خاص رحمت اور عقل و فہم رکھنے والوں کے لیے نصیحت تھی۔

 وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿44﴾

اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھاسینکوں کا لے لو، اور اسی سے مارو، اور اپنی قسم نہ توڑو، ف ٤٤۔ ہم نے ان کو (بڑا) صابر پایا کیا اچھے بندے تھے، اور بڑے رجوع کرنے والے تھے۔

 وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ ﴿45﴾

( اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے بندے ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جو قوت والے اور بصارت رکھنے والے تھے۔

 إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ ﴿46﴾

ہم نے ان کو ایک خاص صفت کے ساتھ مخصوص کیا تھا اور وہ ( صفت) آخرت کے گھر کو یاد کرنا تھا۔

 وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ ﴿47﴾

اور وہ ہمارے ہاں برگزیدہ اور بہتر بندوں میں سے ہیں۔

 وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِنَ الْأَخْيَارِ ﴿48﴾

اور آپ اسماعیل (علیہ السلام) ، السیع (علیہ السلام) اور ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیجئے جو بہترین منتخب لوگوں میں سے تھے۔

 هَٰذَا ذِكْرٌ ۚ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ ﴿49﴾

یہ ( ان کا ذکر) ایک نصیحت ہے اور پرہیز گاروں کے لیے اچھا ٹھکانا ہے،

 جَنَّاتِ عَدْنٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ ﴿50﴾

یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے۔

 مُتَّكِئِينَ فِيهَا يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ وَشَرَابٍ ﴿51﴾

وہ اس میں ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے

 وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌ ﴿52﴾

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن حوریں ہوں گی۔

 هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ ﴿53﴾

یہ ہیں وہ نعمتیں جن کا حساب والے دن میں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا

 إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ ﴿54﴾

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

 هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ ﴿55﴾

ایک طرف یہ ہے اور (دوسری طرف) سرکشوں کے لیے نہایت برا ٹھکانا ہوگا۔

 جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴿56﴾

یعنی جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے ۔ پس کیا ہی بری جگہ ہے !

 هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ ﴿57﴾

یہ (موجود) ہے کھولتا ہوا پانی اور پیپ سو یہ لوگ اس کو چکھیں

 وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ ﴿58﴾

اور اسی قبیل کی دوسری اور چیزیں بھی ہوں گی۔

 هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ ﴿59﴾

یہ بھیڑ بھی تمہارے ساتھ ہی جہنم میں پڑنے والی ہے۔ ان پر خدا کی مار ! یہ تو دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔

 قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا ۖ فَبِئْسَ الْقَرَارُ ﴿60﴾

وہ کہیں گے نہیں بلکہ تمہارے ہی اوپر خدا کی مار ہو تمہیں تو یہ مصیبت ہمارے آگے لائے۔

 قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ ﴿61﴾

وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! جن لوگوں نے ہمارے لیے اس کا سامان کیا ان کو دگنا عذاب دیجیو، جہنم میں

 وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ ﴿62﴾

اور وہ کہیں گے، کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو یہاں جنہیں دیکھ رہے ہیں جن کو ہم اشرار میں سے شمار کرتے تھے۔

 أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ ﴿63﴾

ہم ہی نے ان کی ہنسی کر رکھی تھی یا ان (کے دیکھنے) سے نگاہیں چکرا رہی ہیں۔

 إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ ﴿64﴾

یہ یعنی اہل دوزخ کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل سچی بات ہے۔

 قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ ۖ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ﴿65﴾

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) !) آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف (برے انجام سے) ڈرانے والا ہوں۔ اللہ جو ایک ہے اور ہر چیز پر غالب ہے اس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔

 رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ ﴿66﴾

(وہی) پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان کی درمیانی چیزوں کا، وہ بڑا زبردست ہے، بڑا بخشنے والا ہے۔

 قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ ﴿67﴾

آپ کہہ دیجئے کہ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے

 أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ ﴿68﴾

جس سے تم غفلت برت رہے ہو۔

 مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ﴿69﴾

مجھ کو عالم بالا کی کچھ خبر نہ تھی جبکہ وہ (یعنی فرشتے) گفتگو کررہے تھے

 إِنْ يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿70﴾

میرے پاس وحی تو صرف اس لیے آتی ہے کہ میں بس ڈرانے والا (بنا کر بھیجا گیا) ہوں۔

 إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ ﴿71﴾

اس وقت کو یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں گیلی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں

 فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ ﴿72﴾

پھر جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنے (طرف سے) جان ڈال دوں تو تم اس کے روبرو سجدہ میں گر پڑنا۔

فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ﴿73﴾

چنانچہ سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا

 إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ﴿74﴾

لیکن ابلیس نے غرور وتکبر کی وجہ سے سجدہ نہیں کیا اور کافروں میں سے ہو گیا

 قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ ﴿75﴾

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس ( شیطان) جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے ( اپنی قدرت سے ) بنایا ہے اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا ؟ کیا تو غرور وتکبر میں آگیا ( یا تو یہ سمجھنے لگا کہ) میں بڑے درجے والوں میں سے ہوں

 قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ ﴿76﴾

کہنے لگا کہ میں آدم (علیہ السلام) سے بہتر ہوں کیونکہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔

 قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ﴿77﴾

حکم ہوا تو یہاں سے نکل کیونکہ تو راندہ درگاہ ہوا

 وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ ﴿78﴾

اور بیشک تجھ پر میری لعنت رہے گی قیامت کے دن تک۔

 قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿79﴾

کہنے لگا تو پھر مجھے قیامت تک مہلت دے دیجئے۔

 قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ ﴿80﴾

ارشاد ہوا جا تجھے مہلت دے دی گئی

 إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ﴿81﴾

ایک متعین وقت تک ( قیامت کے دن تک)

 قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿82﴾

شیطان نے کہا مجھے آپ کی عزت کی قسم کہ میں انھیں گمراہ کر کے رہوں گا

 إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿83﴾

بجیز تیرے ان بندوں کے جن کو تو نے خاص کرلیا ہو۔

 قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ ﴿84﴾

ارشاد ہوا کہ سچ یہ ہے اور سچ تو میں (ہمیشہ) کہتا ہی ہوں

 لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿85﴾

کہ میں تجھ سے اور ان تمام لوگوں سے، جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے، جہنم کو بھر دوں گا۔

 قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ﴿86﴾

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) !) آپ کہہ دیجئے کہ میں اس قرآن ( کا پیغام پہنچانے میں) نہ تو کچھ معاوضہ چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔

 إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ ﴿87﴾

یہ قرآن تو ( اللہ کا کلام ہے) دنیا بھرکے لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔

 وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ ﴿88﴾

اور تم جلد اس کی دی ہوئی خبر کو جان لو گے۔

 سورة صٓ كا تعارف

اس سورت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے جو معتبر روایتوں میں بیان کیا گیا ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابوطالب اگرچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے تھے، لیکن اپنی رشتہ داری کے حق کو نبھانے کے لیے آپ کی مدد بہت کرتے تھے، ایک مرتبہ قریش کے دوسرے سردار ابوطالب کے پاس وفد کی شکل میں آئے اور کہا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑدیں تو ہم انھیں ان کے اپنے دین پر عمل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، حالانکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے بتوں کو اس کے سوا کچھ نہیں کہتے تھے کہ ان میں کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کی کوئی طاقت نہیں، اور ان کو خدا ماننا گمراہی ہے، چنانچہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجلس میں بلاکر آپ ک سامنے یہ تجویز رکھی گئی تو آپ نے ابو طالب سے فرمایا کہ چچا جان کیا میں انھیں اس چیز کی دعوت نہ دوں جس میں ان کی بہتری ہے، ابوطالب نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: میں ان سے ایک ایسا کلمہ کہلانا چاہتا ہوں جس کے ذریعے سارا عرب ان کے آگے سرنگوں ہوجائے، اور یہ پورے عجم کے مالک ہوجائیں، اس کے بعد آپ نے کلمہ توحید پڑھا، یہ سن کر تمام لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے کہ کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک کو اختیار کرلیں، یہ تو بڑی عجیب بات ہے، اس موقع پر سورة صٓ کی آیات نازل ہوئیں

اس بیان کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم عاد، فرعون، ثمود، قوم لوط اور اصحاب ایکہ کا انجام بتلایا گیا ہے۔ سورت کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے پیش ہونے والے مقدمے کی تفصیل اور سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کی گئی ہے کہ انسان میں حد سے زیادہ مال کی ہوس پیدا ہوجائے تو اس کے سامنے کسی اصول اور رشتہ کا احترام باقی نہیں رہتا۔پھر آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کا اختصار پیش کرتے ہوئے بتلایا کہ شیطان نے معذرت پیش کرنے کی بجائے اپنے گناہ پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ میرے رب مجھے قیامت تک مہلت دے تاکہ میں لوگوں کو گمراہ کردوں۔ اللہ تعالیٰ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ تجھے قیامت تک کے لیے مہلت دی جاتی ہے۔ شیطان نے کہا اے رب تیری عزت کی قسم ! میں تیرے مخلص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تجھے اور تیرے ساتھیوں کے ساتھ جہنم کو بھردوں گا۔

چوتھے رکوع میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری اور ان کے صبر وشکر کا ذکر ہوا ہے۔

 سورت کے آخر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ اعلان کروایا گیا کہ آپ اس بات کا برملا اعلان فرمائیں کہ میں نبوت کے کام پر کسی اجر کا طالب نہیں اور نہ ہی میں کسی قسم کا تکلف کرنے والا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن لوگوں کے لیے خیر خواہی اور رہنمائی ہے جو لوگ اس رہنمائی اور خیر خواہی کا انکار کریں گے ایک مدت کے بعد ان کے انکار کا انجام ان کے سامنے آجائے گا۔

خلاصہ سورة ص

 یہ سورت بھی رشد و ہدایت کی بڑی خوبصورت سورة مبارکہ ہے۔ انسان کو جس قدر بڑا مرتبہ دیا گیا ہے اسی قدر زیادہ اس کی ذمہ داریاں اور امتحان بھی سخت ہے۔ دنیا نفسانی خواہشات سے بھری پڑی ہے اور شیطان کا دعوی ” کہ اے اللہ تیری عزت کی قسم میں قیامت تک انسان کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ “ اور پھر اللہ کا یہ فرمان کہ ” میں تم سے اور گمراہ لوگوں سے دوزخ کو بھر دوں گا “۔ محمد منظور الحق ڈار صاحب نے بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے لکھتے ہیں :

 ” اسلام ایک دین یعنی نظام زندگی ہے اور شرک بھی ایک نظام حیات ہے۔ کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا یہ تقاضا نہیں کہ ہم دین حق کو دین باطل یعنی شرک پر غالب کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں خواہ مشرکوں کو یہ سخت ناگوار گزرے۔ شرک کرنے والوں کی پروا کیوں کی جائے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے صاف صاف کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کریں۔ تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی الہ قرار دیتے ہیں۔ عنقریب انھیں معلوم ہوجائے گا “۔ ( سورة حجر آیات 94, 95, 96)

کیونکہ بعثت کے بعد کفار نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام مسلمانوں کے ساتھ بڑا سخت رویہ رکھا ہوا تھا تو آپ انسان ہونے کے ناطے پریشان ہوجاتے تو آپ کی ہمت افزائی کے لیے پچھلے انبیاء کی زندگیوں اور مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ سلسلہ تو ہمیشہ سے ہی چلتا آ رہا تھا اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ ڈٹے رہو۔ پروا نہ کرو اور اللہ، رسول اور آخرت کا خیال ہر دم رکھو۔ ہمت مرداں مدد خدا۔

﴿كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ﴾

مفسرین نے اس کے حسب ذیل محامل ذکر کیے ہیں، انھوں نے نداء کرتے ہوئے کہا :

١) انھوں نے فریاد کی کہ ان سے یہ عذاب دور کردیا جائے۔

٢) جب انھوں نے عذاب دیکھا تو انھوں نے بہ آواز بلند اپنے کفر، شرک اور تکبر سے توبہ کرلی اور ایمان لے آئے۔

٣) وہ اپنے غم اور اندوہ کو ظاہر کرنے کے لیے اور درد اور بےچینی کی وجہ سے محض چیخ و پکار کررہے تھے، جیسا کہ درد اور بےچینی میں مبتلا شخص اس طرح کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولات حین مناص یعنی یہ وقت عذاب سے فرار اور نجات کا نہ تھا۔

خلیل اور سیبویہ نے کہا : اس آیت میں لات، لا مشابہ  بلیس ہے اور اس میں تازائدہ ہے اور اس تاکو زیادہ کرنے کی وجہ سے اس میں دو خصوصی حکم آگئے، ایک یہ کہ لات صرف ان اسماء پر داخل ہوگا جن میں احیان اور اوقات کا معنی ہو، جیسے مناص کا معنی مدد کا وقت ہے یا نجات کا وقت ہے اور دوسری خصوصیت یہ ہے کہ ویسے تو لا مشابہ بلیس دو جزؤں یعنی اسم اور خبر پر داخل ہوتا ہے لیکن لات صرف ایک جز پر داخل ہوگا، صرف اسم پر یا صرف خبر پر جیسا کہ اس آیت میں ہے۔

الاخفش نے کہا : لات میں لانفی جنس کا ہے اور اس پر تا کا اضافہ کیا گیا ہے اور یہ نفی احیان اور اوقات کی نفی کے ساتھ مخصوص ہے اور اس آیت کا معنی ہے ” اور یہ ان کی نجات کا وقت نہ تھا “ اور مناص کا معنی ہے نجات اور مدد کی جگہ۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٣٦٧۔ ٣٦٦، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

حسن بصری نے کہا : انھوں نے توبہ کے ساتھ نداء کی اور یہ وقت توبہ کے قبول ہونے کا نہ تھا کیونکہ عذاب آنے کے بعد عمل نفع نہیں دیتا۔

القشیری نے کہا : جس چیز کی وہ نداء کررہے تھے، وہ وقت اس کی نداء کا نہ تھا، ہرچند کہ انسان اسی وقت چیخ و پکار اور فریاد کرتا ہے جب اس پر مصیبت آتی ہے لیکن یہ وقت اس مصیبت سے نجات کا نہ تھا۔

الجرجانی اور افراء نے کہا : انھوں نے ایسے وقت میں عذاب سے فرار اور نجات کو طلب کیا جب عذاب سے ان کی نجات نہیں ہوسکتی تھی۔

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی متوفی ٤٦٨ ھ  اپنى تفسير ميں لكھتے:

مفسرین نے کہا ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اسلام قبول کرلیا تو قریش پر یہ واقعہ بہت دشوار گزرا اور مسلمان اس سے بہت خوش ہوئے، ولید بن مغیرہ نے قریش کی ایک جماعت سے کہا، جن میں ان کے صنادید اور اشراف موجود تھے : ابو طالب کے پاس چلو، پھر انھوں نے ابوطالب سے کہا: آپ ہمارے شیخ اور بزرگ ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ ان نادان لڑکوں نے کیا کیا ہے، ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان کوئی معتدل راہ نکال دیں، ابوطالب نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلوایا اور آپ کے آنے کے بعد آپ نے کہا: اے بھتیجے ! یہ تمہاری قوم ہے، یہ چاہتی ہے کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی قابل عمل فیصلہ ہوجائے اور تم اپنی قوم سے ذرہ برابر بھی زیادتی نہ کرو، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ کفار قریش نے کہا: آپ ہمیں اور ہمارے معبودوں کے ذکر کو چھوڑ دیں، ہم آپ کو اور آپ کے معبود کو چھوڑ دیں گے۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ایک کلمہ پڑھ کر مان لو، تمام عرب تمہارے زیر نگیں ہوجائے گا اور عجم بھی تمہارے ماتحت ہوجائے گا۔ ابوجہل نے کہا : اللہ تمہارا بھلا کرے، ایسا کلمہ تو ہم دس بار پڑھنے پر بھی تیار ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پڑھو لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے) یہ بات سن کر وہ متوحش ہوئے اور اس مجلس سے اٹھ گئے اور کہنے لگے : یہ تمام معبودوں کو ملا کر ایک معبود قرار دے رہے ہیں، تمام لوگ یہ بات کیسے مان لیں گے کہ ان کا معبود صرف ایک معبود ہے، تب اللہ تعالیٰ نے سورت ص ٓ کی یہ آیات نازل فرمائیں۔ (اسباب النزول ص ٣٨١، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر ومشقی متوفی ٧٧٥ ھ اپنى تفسير ميں  سدی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار قریش سے کہا : اگر تم میرے ہاتھ میں سورج لاکر رکھدو پھر بھی میں تم سے یہی مطالبہ کروں گا کہ تم لا الہ الا اللہ پڑھو۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٣١، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، ٤١٩ ھ)

﴿وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓي اٰلِـهَتِكُمْ ښ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ﴾

مطلب یہ ہے کہ مشرکین کہتے ہیں یہ شخص جو ہماری جماعت سے نکل کر نئی نئی باتیں کر رہا ہے اس کا کوئی مقصد ہے اور وہ یہ کہ اسے عرب و عجم کی سرداری مل جائے اور سب سے اوپر ہو کر رہے اور بعض مفسرین نے اس کا دوسرا مطلب یہ بتایا ہے کہ اس شخص کا جو کچھ دعوی ہے اور اس پر اس کا جماؤ ہے اس سے اس کو ہٹایا نہیں جاسکتا اس کی طرف سے کسی طرح کی جھکاؤ کی امید نہیں۔ اور تیسرا مطلب یہ بتایا ہے کہ اس شخص کا وجود اور اس شخص کی دعوت اور اس کا دعوی یہ بھی زمانہ کی لائی ہوئی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے ہمارے پاس کوئی ایسی تدبیر نہیں کہ اس شخص کو روک دیں صبر کے گھونٹ پینے کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ (روح المعانی : ص : ٢٢٣،ج : ٢٣)

﴿مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ ښ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ

ھذا سے مسئلہ توحید کی طرف اشارہ ہے اور الملۃ الآخرۃ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دین یا آباء و اجداد کا دین مراد ہے۔ ہم نے آج تک یہ مسئلہ توحید نہ تو دین عیسوی کے عالموں سے سنا ہے بلکہ اس کے برعکس تمام پوپ اور پادری تثلیث کے قائل ہیں اور نہ اپنے باپ دادا ہی سے ہم نے مسئلہ توحید سنا ہے۔ اس لیے لامحالہ یہ مسئلہ توحید خدا کی طرف سے نہیں بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا ساختہ پرداختہ ہے۔ فی ملۃ عیسیٰ التیھی اخر الملل لان النصاری مثلثۃ غیر موحدۃ او فی ملۃ قریش التی ادرکنا علیہا آباءنا (مدارک ج 4 ص 27) ۔

﴿ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا   ۭ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ﴾

یہ  ان کے بض وحسد اور عناد پر مبنی ہے۔ کیا ہم سب میں سے یہی اس لائق تھا کہ اس کو نبوت دی جاتی اور اس پر قرآن نازل کیا جاتا۔ ہم ایسے اشراف اور عظماء میں سے کوئی بھی اس مرتبے کے لائق نہ تھا ؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا انکار محض حسد اور عناد کی وجہ سے تھا۔ وامثال ھذہ المقالات الباطلۃ دلیل علی ان مناط تکذیبہ لیس الا الھسد و قصر النظر علی حطام الدنیا (روح ج 23 ص 168) ۔

بل ھم الخ: یہ ماقبل مذکورہ امور سے اضراب ہے یعنی ان کی تکذیب کے اصل وجوہ وہ نہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ وہ تو محض تکذیب کے لیے جھوٹے بہانے ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ اس قرآن ہی کے بارے میں شک میں سرگرداں ہیں جو دلائل توحید سے لبریز ہے یہی وجہ ہے کہ کبھی اسے جادو کہتے ہیں اور کبھی شعر سے تعبیر کرتے ہیں (روح) ۔ بل لما یذوقوا عذاب : یہ دونوں سے اضراب ہے یعنی ان کو نہ حسد مانع ہے نہ شک، بلکہ ابھی تک انھوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ جب عذاب کا مزہ چکھ لیں گے تو نہ حسد رہے گا نہ شک بلکہ پورا پورا یقین آجائے گا لیکن بےسود ای لما یذوقوا عذابی بعد فاذا ذاقوہ زال عنہم ما بہم من الحسد والشک حینئذ (روح) ۔

﴿اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا    ۣ فَلْيَرْتَقُوْا فِي الْاَسْبَابِ﴾

کیا رحمت کے خزانوں اور زمین و آسمان کی حکومت کے تم مالک و مختار ہو جو اس قسم کے لغو اعتراضات کرتے ہو۔ اگر ہو تو اپنے تمام اسباب و وسائل کو کام میں لے آؤ۔ اور رسیاں تان کر آسمان پر چڑھ جاؤ۔ تاکہ وہاں سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کا آنا بند کرسکو اور علویات پر قابض ہو کر اپنی مرضی و منشاء کے موافق آسمان و زمین کے انتظام و تدبیر کا انجام دے سکو۔ اگر اتنا نہیں کرسکتے تو آسمان و زمین کی حکومت اور خزائن رحمت کی مالکیت کا دعویٰ عبث ہے۔ پھر خدائی انتظامات میں دخل دینا بجز بےحیائی یا جنون کے اور کیا ہوگا۔ ایاذ قدر خود بشناس۔

﴿كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ، وَثَمُــوْدُ وَقَوْمُ لُوْطٍ وَّاَصْحٰبُ لْــــَٔـيْكَةِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الْاَحْزَابُ﴾

گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا تذکرہ

اس کے بعد گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا ذکر فرمایا جس میں مشرکین مکہ کے لیے عبرت ہے ارشاد فرمایا کہ ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور قوم عاد نے اور فرعون نے جو ذی الاوتاد تھا اور ثمود نے اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے اور اصحاب الایکہ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کو اپنا شیوہ بنایا اور اس کی سزا پائی، مزید فرمایا (اِنْ کُلٌّ اِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ) یہ سب وہی ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا، ان لوگوں کے عذاب کی تفصیلات قرآن مجید میں جگہ جگہ مذکور ہیں جنہیں عام طور سے عوام اور خواص جانتے ہیں۔

 أصحاب الأیکة: سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی ایک امت مراد ہے جو ایکہ یعنی جھاڑیوں اور جنگلوں میں رہتے تھے ان پر ظلہ کا عذاب آیا یہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے ایک بادل کے سایہ میں کھڑے ہوگئے تھے اور وہیں ہلاک کردئیے گئے۔ (دیکھو انوار البیان تفسیر سورة شعراء)

ذو الأوتاد کا معنی

ذُو الْاَوْتَادِ: (میخوں والا) یہ لفظ فرعون کی صفت ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ وہ میخوں یعنی کیلوں کے ذریعہ لوگوں کو سزا دیتا تھا، چاروں ہاتھ پاؤں چار ستونوں سے باندھ دیتا تھا اور چاروں میں ایک ایک کیل ٹھوک دیتا تھا پھر اسی طرح چھوڑ دیتا تھا جس کی جہ سے وہیں پڑے پڑے آدمی مرجاتا تھا، اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اس کی حکومت مضبوط تھی، اور ایک قول یہ ہے کہ اوتاد سے لشکر مراد ہے مطلب یہ ہے کہ فرعون کے بہت سارے لشکر تھے چونکہ لشکر جہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں اپنے خیمے نصب کرنے کے لیے کیلیں گاڑتے ہیں اس لیے لشکروں کو اوتاد سے تعبیر کیا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ (ذکر ہذہ الاقوال صاحب الروح)

﴿وَمَا يَنْظُرُ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ﴾

تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ یہ لوگ بس اسی انتظار میں ہیں کہ ایک چیخ آجائے یعنی صور پھونک دیا جائے گا اس وقت جو چیخ ہوگی وہ رکنے والی نہ ہوگی سمجھداری اسی میں ہے کہ قیامت آنے سے پہلے ہی ایمان قبول کرلیں اور اپنا حال درست کرلیں۔ اور علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جسے سورة یٰسین میں فرمایا ہے، (مَا یَنظُرُونَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ) (یہ لوگ ایک ایسی سخت آواز کے منتظر ہیں جو انھیں آکر پکڑے گی اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے ) (فَلاَ یَسْتَطِیعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّلاَ اِلٰی اَھْلِہِمْ یَرْجِعُوْنَ) (سو نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف جاسکیں گے) علامہ قرطبی سورة ص کی آیت کا مطلب بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب غزوہ بدر کے واقعہ کے بعد انھیں یہی انتظار ہے کہ قیامت قائم ہوجائے ان کو چاہیے تھا کہ بدر کے واقعہ سے عبرت حاصل کرلیتے اور اہل ایمان کے غلبہ سے سے سبق لے کر خود بھی مومن ہوجاتے قیامت قائم ہوگی تو دم مارنے کی گنجائش نہ ہوگی اور ذرا سی بھی مہلت نہ دی جائے گی، قیامت کو مانتے بھی نہیں اور ڈھنگ ایسا ہے جیسے وہاں کے لیے بہت کچھ کیا ہو اور عذاب کی بھی بد دعاء کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب حساب کے دن سے پہلے ہمارا حصہ ہمیں دیدے۔

اس آیت میں ”فواق“ کا لفظ ہے، فواق اسم فعل واحد ہے، اس کی جمع افوقہ اور اٰفقہ ہے، اس کا معنی ہے درمیانی وقفہ، دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان جو وقفہ ہوتا ہے اس کو فواق کہتے ہیں، دودھ دوہنے والا ایک مرتبہ دودھ دوہ چکتا ہے پھر بچے کے پینے کے لیے دہنا چھوڑ دیتا ہے، بچے کے پینے سے جانروں کے تھنوں میں دوبارہ دودھ اتر آتا ہے، دودھ دوہنے والا بچہ کو ہٹا کر خود دوبارہ دودھ دوھ لیتا ہے، اس درمیانی وقفہ کا نام اصل لغت میں فواق ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٥٠٢، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ٤١٨ ھ)

لفظ فواق کا ذکر  حدیث میں

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک شخص پہاڑوں کی گھاٹیوں میں سے گزرا جن میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا، اس پانی کی لذت کی وجہ سے اس کو وہ چشمہ اچھا لگا، اس نے دل میں کہا : کاش ! میں لوگوں کے درمیان سے نکل جاؤں اور اسی گھاٹی میں رہوں اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت حاصل کیے بغیر ہرگز ایسا نہیں کروں گا، پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو، کیونکہ تم میں سے کسی ایک شخص کا اللہ کی راہ میں ٹھہرنا، اپنے گھر میں ستر سال نمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔ کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کردے اور تم کو جنت میں داخل کردے، اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جس شخص نے اونٹنی کے فواق (دودھ دوہنے کے وقت) کے برابر بھی اللہ کی راہ میں قتال کیا اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦٥٠، مسنداحمد ج ٢ ص ٤٤٦، مسند احمد رقم الحدیث : ٩٧٦٢، مؤسستہ، السنۃ لابی العاصم رقم الحدیث : ١٣٥، مسند البزار رقم الحدیث : ١٦٥٢، المستدرک ج ٢ ص ٦٨، سنن بیہقی ج ٩ ص ١٦٠، اس حدیث کی سند حسن ہے)

﴿وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ﴾

قَطَّ یَقُطُّ قَطًّا (ن) قلم وغیرہ کا سرا کاٹنا۔ ”قِطٌّ“ حصے کو کہتے ہیں، کیونکہ ہر ایک کو اس کا حصہ کاٹ کردیا جاتا ہے۔ انعام کے لیے کاغذ کا جو ٹکڑا لکھ کردیا جاتا ہے اسے بھی ” قِطٌّ“ کہتے ہیں۔ مراد عذاب میں سے ان کا حصہ ہے، بعض نے اعمال نامہ مراد لیا ہے۔ یعنی کفار قیامت کو ناممکن سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے جرات کی اس حد تک پہنچ گئے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ربوبیت کے واسطے سے دعا کرتے ہوئے کہنے لگے، اے ہمارے رب ! عذاب میں سے ہمارا جو حصہ ہے وہ ہمیں یوم حساب سے پہلے ابھی جلدی دے دے، جیسا کہ ابوجہل وغیرہ نے نہایت دیدہ دلیری سے کہا تھا : (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) [ الأنفال : ٣٢ ]  اے اللہ ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔ “

حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب وعدہ قیامت کا سنتے تو کہتے ہمارا حصہ ابھی ہم کو دیدے یہ ٹھٹھے تھے ان کے۔

خلاصہ: یہ کہ قیامت کا عذاب سن کر کہتے کہ قیامت تو آنے والی نہیں کافروں کو جو عذاب اس دن ہونے والا ہے اس میں سے ہمارا حصہ ہو وہ ہم کو یہیں مل جائے اور ہماری سر نوشت ہم کو یہیں دیدی جائے تاکہ ہم کو اپنا انجام معلوم ہوجائے تو ہم کو ہماری چھٹی اور پروانہ یا نامہ اعمال اسی دنیا میں دیدیا جائے۔

﴿اِصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَيْدِ ۚ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ﴾

حضرت داؤد کی زندگی سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین

آيتِ مباركہ ميں مخالفین کی دل آزاریوں پر حضرت داؤد کی زندگی سے تسلی حاصل کرنے کی تلقین وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ “أیدي” جمع ہے “ید” کی۔ جس کے معنیٰ ہاتھ کے آتے ہیں۔ مگر یہاں یہ کنایہ ہے قوت سے۔ کیونکہ ہاتھ قوت کا ذریعہ اور مظہر ہوتا ہے۔

اور داؤد (علیہ السلام) کو واقعۃً اللہ پاک نے عقیدہ و ایمان، عمل و اخلاق، دولت و سلطنت اور دین و دنیا کی بہت سی قوتوں سے خاص طور پر نوازا تھا۔ سو یہاں پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کو اپنے مخالفین کی دلآزار باتوں پر صبر و برداشت سے کام لینے کیلئے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے حالات کو یاد کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو حضرت داؤد کے ذکر و تذکرہ اور آپ کی حیات طیبہ میں اہل حق کے لیے بھی عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں اور اہل کفر و باطل کے لیے بھی۔ اہل حق کے لیے یہ کہ وہ اتنی قوت اور طاقت رکھنے کے باوجود کس طرح لوگوں کے ناگوار رویے کو برداشت کرتے۔ کس حلم وتحمل کے ساتھ ان سے برتاؤ کرتے اور کس طرح کمال عدل وانصاف اور لطف و عنایت سے کام لیتے۔ ان سے نرمی اور مہربانی کا معاملہ کرتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنے زندگی کے لیے سبق لیتے تھے۔ اور منکرین کے لیے آنجناب کی زندگی میں یہ درس عظیم ہے کہ حضرت داؤد اس قدر شان و شوکت عزت و عظمت اور دنیا و دولت سے سرفرازی کے باوجود ایسے عاجزی کرنے والے تھے تو تم لوگ اتنا تکبر کیوں اور کیسے کرتے ہو ؟۔ اللہ حق کو سمجھنے اور اپنانے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔

حضرت داؤد کی شان اوابیت کا ذکر

 حضرت داود علیہ السلام ہمیشہ اللہ پاک کی یاد اور اس کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے۔ جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں وارد و منقول ہے کہ سب سے بہتر نماز حضرت داؤد کی نماز ہے۔ اور سب سے بہتر روزہ حضرت داؤد کا روزہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) آدھی رات آرام فرماتے پھر ایک تہائی رات نماز میں گزارتے اور پھر آخری چھٹا حصہ آرام فرماتے۔ اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار فرماتے۔ اسی لیے بخاری شریف کی روایت کے مطابق آپ کو “أَعْبَدُ الْبَشَر” ۔ یعنی ” سب سے بڑا عبادت گزر انسان ” فرمایا گیا۔ روایات کے مطابق آپ کے گھر کا نظام اس طرح تھا کہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں وہاں پر لگاتار عبادت ہوتی رہتی تھی۔ سو بےمثال بادشاہی و حکمرانی میں عبادت کا ایسا عظیم الشان نظام قائم کرنا حضرت داؤد کی ایک عظیم الشان اور بےمثال امتیازی شان تھی جو اور کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ بہرکیف آنجناب کی شان اوابیت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اپنے رب کی طرف بڑے ہی رجوع رہنے والے بندے تھے۔ دوسرے مختلف مقامات پر حضرت داؤد اور حضرت سلیمان دونوں کی شکر گزاری کے اس وصف خاص کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ۔

﴿اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ﴾

بعض لغات کی تشریح

 امام راغب اصفہانی (رح) فرماتے ہیں: العشي: زوال آفتاب کے بعد سے صبح تک کے وقت کو ”عشی“ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے : إلا عشیة أو ضحھا (سورة النزعت۔ ٤٦)

 الإشراق: عربی میں کہا جاتا ہے: شرقت الشمس شروقاً طلعت. یعنی سورج کا طلوع ہوجانا۔ اشرقت (باب افعال سے) اس کے معنی ہیں روشن ہوجانا۔ آیت میں فرمایا گیا: بالعشي والإشراق یعنی وقت اشراق۔ (مفردات القرآن امام راغب: ص: 451)

 اشراق اور چاشت کی نماز ایک ہیں یا الگ الگ؟ زمخشری اپنی تفسیر ”الکشاف“ میں فرماتے ہیں: وقت اشراق وہ وقت ہوتا ہے جب سورج خوب روشن ہوجائے اور اس کی کرنیں پھیل جائیں اور یہی وقت ضحی (چاشت کا وقت) ہے۔ جہاں تک شروق کا تعلق ہے تو اس سے سورج کا طلو ع ہونا مراد ہے۔ یقال شرقت الشمس ولما تشرق : یعنی سورج طلوع ہوگیا یا ابھی تک طلوع نہیں ہوا۔ (الکشاف)

 ثعلب (رح) فرماتے ہیں: شرقت الشمس کے معنی ہیں طلعت الشمس اور أشرقت (باب افعال سے) اس وقت بولا جاتا ہے جب سورج کی شعاعیں خوب پھیل جائیں اور روشن ہوجائے۔ “ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اشراق کا وقت سورج کے مشرق افق سے اونچا اور بلند ہوجانا اور اس کی شعاعوں کو خوب چمکدار اور روشن ہوجانے کا وقت ہے اور یہی ”ضحوۃ صغری“ ہے۔ (روح المعانی ص: ٢٣٢، جلد: ٢٣)

 بہرحال اس آیت کریمہ سے صلوٰۃ الإشراق اور یہی صلوٰۃ الضحیٰ بھی ہے کا استحباب معلوم ہوتا ہے۔ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب فرماتی ہیں کہ: أن النبی صلی الله عليه وآله وسلم صلی صلوٰۃ الضحیٰ وقال: ھذہ صلوٰۃ الإشراق نیز عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں اور عبدبن حمید نے اپنی مسند میں عطاء الخراسانی سے نقل کیا ہے کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا: ” میرے دل میں صلوٰۃ الضحیٰ کے متعلق کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ حتیٰ کہ میں نے یہ آیت یسبحن بالعشي والإشراق پڑھی۔ “

 ان عباس (رض) ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ: میں نے صلوٰۃ الضحیٰ کی مشروعیت اسی آیت سے پہچانی۔ “ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں: ھي من أحب ما أحدث الناس إلي. (ذکرہ الجصاص (رح)) ۔ (احکام القرآن ص: ٤٩٨، جلد ٣)

 اس آیت سے صلوٰۃ الضحیٰ پر استدلال کی صورت یہ ہے کہ ابن عباس (رض) کے نزدیک قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ ”تسبیح“ یعنی یہ مادہ اور باب استعمال ہوا ہے اگر وہ حق تعالیٰ کی تنزیہہ کے طور پر نہیں لایا گیا تو اس سے مراد ”صلوٰۃ“۔ نماز “ ہے۔ پس جب آیت مذکورہ میں ”یسبحن“ کا لفظ آیا تو معلوم ہوا کہ اس سے شام اور اشراق کے وقت داؤد (علیہ السلام) کی نماز مراد ہے اور جب یہ داؤد (علیہ السلام) کی نماز تھی اور قرآن کریم نے علی طریق المدح اسے ہمارے لیے بیان فرمایا تو اس سے اس کی مشروعیت ثابت ہوئی۔

 حلبی نے اس بارے میں فرمایا کہ: ” خصوصیت کے ساتھ ان دو وقتوں کا ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان اوقات کی دوسرے اوقات کی بہ نسبت شرف و فضیلت زیادہ ہے اور وہ شرف ان دونوں وقتوں کے نماز اور عبادت کے لیے متعین ہونے کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیونکہ مختلف ازمان واماکن کو ان میں کی جانے والی عبادات کی فضیلت میں تاثیر حاصل ہوتی ہے۔ “

 بہرحال ! عام علماء کے نزدیک صلوٰۃ الضحیٰ مسنون ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں متعدد احادیث مروی ہیں۔ حتی کہ شیخ ولی الدین ابن العراقی (رح) نے فرمایا کہ : احادیث کثیرۃ صحیحۃ مشھورۃ “ اور محمد بن جریر الطبری نے فرمایا کہ : انھا بلغت مبلغ التواتر “ انہی روایات میں سے ایک روایت ام ہانی (رض) بھی ہے جو صحیحین میں مذکور ہے۔

اگرچہ ایک حدیث سے صلوٰۃ الضحیٰ کی عدم سنیت بھی ثابت ہوتی ہے اور وہ حضرت عائشہ (رض) کی حدیث ہے کہ:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ العَمَلَ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ، وَمَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا» (صحيح البخاري: 1128، صحيح مسلم: 718)

 یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض اوقات کوئی عمل محبوب ہونے کے باوجود اس خدشہ کے پیش نظر ترک ٍفرما دیتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع میں لوگ بھی اس عمل کی پابندی کریں گے تو کہیں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی صلوٰۃ الضحیٰ نہیں پڑھی لیکن میں پڑھتی ہوں۔

 اس حدیث سے صلوٰۃ الضحیٰ کی عدم سنیت ثابت ہوتی ہے۔ لیکن جو علماء اس کی سنیت کے قائل ہیں وہ اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ ام المومنین (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت میں نماز پڑھتے نہیں دیکھا ہوگا۔

 اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ خود ام المومنین (رض) سے اس کا ثبوت بھی مروی ہے۔ چنانچہ فرماتی ہیں:

عَنْ مُعَاذَةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، كَمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: «أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ». (صحيح مسلم: 719)

 لہٰذا اس کی یہ توجیہہ زیادہ قرین قیاس لگتی ہے کہ پہلے ام المومنین (رض) کو اس بارے میں علم نہ تھا اس وقت پہلے والی حیثیت بیان فرمائی اور بعد میں جب آپ (رض) کو صحیح اطلاع ملی تو دوسری بات ارشاد فرمائی اور صلوٰۃ الضحیٰ کا اعتراف فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھا کرتے تھے۔

 دوسری بات یہ کہ صلوٰۃ الضحیٰ کا اثبات بہت سارے صحابہ کرام (رض) کی روایات سے ہوتا ہے۔ چنانچہ بقول حاکم : حضرت ابو ذر غفاری، حضرت ابو سعید الخدری، زید بن ارقم ، ابوہریرہ، بریدۃ الاسلمی، ابوالدرداء ، عبداللہ بن ابی اوفی ، عتبہ ابن مالک ، عتبہ بن عبد السلمی ونعیم بن ہمام الغطفانی، ابو امامہ الباہلی، ام ھانی اور سلمہ (رض) اجمعین سے صلوٰۃ الضحیٰ کی

روایات ثابت ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھا کرتے تھے۔

 فقہ کے معروف قواعد میں سے ہے کہ مثبت ، نافی پر مقدم ہوتا ہے۔ مزید برآں یہ کہ اثبات کی روایات ، نفی کی روایت کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہیں۔ علماء شافعیہ کے ہاں تو صلوٰۃ الضحیٰ ، فرائض کے بعد سب سے زیادہ افضل تطوع (نوافل ) ہیں۔ اگرچہ نووی (رح) نے شرح مہذب میں نماز تراویح کو صلوٰۃ الضحیٰ پر مقدم قرار دیا ہے۔ گویا انھوں نے رواتب (فرائض) اور صلوٰۃ الضحیٰ کے درمیان، صلوٰۃ التراویح کو فاصل قرار دیا ہے۔

 حافظ الامہ حافظ ابن حجر العسقلانی (رح) نے فرمایا ہے کہ : ” صلوٰۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کی کم از کم رکعات دو ہیں۔ جیسا کہ ابوہریرہ (رض) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ : انہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) او صاہ بھما وان لا یدعھما۔ (بخاری)

 اور یہ کہ کم از کم کامل درجہ چاررکعات ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں صحیح روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ : کان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یصلی الضحیٰ اربعاً ویزید ماشاء۔

 چنانچہ آپ (علیہ السلام) کبھی چھ اور کبھی آٹھ اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعات تک پڑھا کرتے تھے۔ جیسا کہ بعض روایات ضعیفہ سے معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فضائل کے بارے میں ضعیف روایات بھی قابل عمل ہوتی ہیں۔

 اس تمام تفصیل سے یہ ظاہر ہوا کہ اشراق اور چاشت دو الگ الگ نمازیں نہیں بلکہ ایک ہی ہیں، چونکہ طلوع شمس کے بعد ادا کی جاتی ہیں۔ اس لیے بعض نے صلوٰۃ الاشراق کے عنوان سے بیان کردیں اور چونکہ سورج کے بلند ہونے کے بعد ادا کی جاتی ہیں جیسا کہ لغۃً اشراق کے لفظ سے بھی یہی مفہوم نکلتا ہے تو اکثر نے صلوٰۃ الضحیٰ کے عنوان سے بیان کردیں۔ البتہ ابن حجر الہیثمی (رح) نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ صلوٰۃ الاشراق اور صلوٰۃ الضحیٰ الگ الگ نمازیں ہیں، وہ فرماتے ہیں : ومما لا یسن جماعۃ رکعتان عقب الاشراق بعد خروج وقت الکراھۃ وھی غیر الضحیٰ ۔

 یعنی وہ نمازیں جن کے لیے جماعت مسنون نہیں دو رکعتیں اشراق کے فوراً بعد ہیں۔ طلوع شمس کے وقت مکروہ کے ختم ہونے کے بعد۔ اور یہ دو رکعتیں ضحی (چاشت) کے علاوہ ہیں۔

 جب کہ وہ روایات جن سے دونوں کا ایک ہونا معلوم ہوتا ہے ، وہ اکثر ہیں اور وہ ماقبل میں گزر چکی ہیں۔

﴿وَالطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً   ۭ كُلٌّ لَّهٗٓ اَوَّابٌ﴾

حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت آواز دی تھی جب آپ اپنی پیاری آواز کے ساتھ شام کو اور دن چڑھے اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کہتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح کہتے اور آپ ان کی تسبیح سنتے اور پرندے آپ کی آواز پر آپ کے گرد جمع ہوجاتے اور آپ کے ساتھ مصروف تسبیح ہوتے اور وہ آپ کا ہر حکم بجا لاتے تھے۔

یہاں سے نماز اشراق کی فضیلت معلوم ہوئی: کیونکہ دن چڑھے تسبیح کہنا حضرت داود (علیہ السلام) کی فضیلت بتائی گئی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی جب دن خوب چڑھ آتا تھا تو اشراق کی نماز پڑھتے۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” جس نے نماز فجر پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا تا آنکہ سورج بلند ہوگیا پھر اس نے دو رکعت (نیت نماز اشراق) پڑھیں تو وہ اس کے لیے ایک حج اور ایک عمرے کے برابر ہیں “ (ترمذی کتاب الجمعۃ باب 59 حدیث 586) نماز اشراق کا وقت طلوع آفتاب کے 20 منٹ بعد سے لیکر زوال سے قبل تک ہے۔

﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ﴾

سلطنت داؤدی

 دنیا میں اس کی سلطنت کی دھاک بٹھلا دی تھی اور اپنی اعانت و نصرت سے مختلف قسم کی کثیر التعداد فوجیں دے کر خوب اقتدار جمادیا۔ (عثمانی ) وفضل الخطاب : کمال خطاب کا طریقہ : مراد زور بیان و قوت خطابت ہے، اور خطبوں میں حمد و صلوٰۃ کے بعد اما بعد بھی انھوں نے کہنا شروع کیا تھا۔

 سیدنا داؤد (علیہ السلام) کے امتیازی خصائص بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ : ہم نے انھیں ان کی سلطنت میں قوت دی اور انھیں حکمت و تدبیر اور امور کا فیصلہ کرنے کی قوت عطا کی۔ ابن العربی (رح) فرماتے ہیں : الشد عبارۃ عن کثرۃ القدرۃ “ یعنی شد کے معنی ہیں زیادہ قدرت و قوت۔ اس سے کیا مراد ہے؟ اس کی تعیین میں دو قول ہیں۔ (احکام القرآن جصاص : ص : ٣٤، جلد ٤)

 ایک یہ کہ ہیبت و جلال مراد ہے اور دوسرا یہ کہ کثرت جیش و لشکر اور سپاہی مراد ہیں۔ لیکن حضرت مفتی محمد شفیع

فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک  راجح یہ ہے کہ یہاں مدد اور نصرت الہٰیہ کے ذریعہ قوت مراد ہے۔ کیونکہ اگر خدائی مدد و نصرت ساتھ نہ ہو تو بڑے لشکر بھی انسان کے لیے بےفائدہ اور حقیر ثابت ہوتے ہیں۔

 ”فصل الخطاب“ سے مراد کیا ہے ؟

 اس میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے علم القضاء مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد (علیہ السلام) کو علم القضاء عطا فرمایا تھا ۔ جب کہ ایک قول یہ ہے کہ معانی و مضامین کثیرہ کو مختصر اور قلیل الفاظ میں سمو دینا فصل الخطاب کہلاتا ہے۔ جب کہ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ” اما بعد “ کے الفاظ ہیں (جو حمد وثناء کے بعد اصل کلام شروع کرنے سے قبل بولا جاتا ہے)

 قاضی شیخ ابوبکر بن العربی مالکی (رح) نے فرمایا کہ : ” تمہارے رب کی قسم ! علم القضاء علوم کی ایک موکد اور بڑی قسم جو حلال و حرام کے احکام کے علاوہ ایک مستقل علم ہے۔ “ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :  ”أقضاکم علي، وأعلمکم بالحلال والحرام معاذبن جبل“. (احکام القرآن ابن العربی : ص : ٣٥، جلد ٤)

 (اس حدیث سے یہ واضح ہوا کہ علم القضاء اور علم حلال و حرام (فقہ) الگ الگ ہیں)

 خطاء مقتول میں حضرت علی (رض) کا فیصلہ

چنانچہ حضرت علی (رض) کے اعلم بالقضاء ہونے کی عجیب مثال یہ واقعہ ہے کہ خود حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ: ” جب مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن (کا گورنر اور حاکم بنا کر) بھیجا تھا تو وہاں یہ واقعہ پیش آیا کہ کچھ لوگوں نے ایک گڑھا کھودا شیر کو شکار کرنے کے لئے۔ اس گڑھے میں شیر گرگیا تو لوگوں کا ایک جم غفیر گڑھے کے کنارہ جمع ہوگیا اژدھام کی وجہ سے ایک آدمی گڑھے میں گرگیا (گرتے گرتے اس نے قریب کھڑے شخص سے سہارا لینے کی کوشش کی) اور اسے بھی لے کر گرپڑا، دوسرے نے تیسرے سے سہارا لیا تو تیسرا بھی گرپڑا۔ اس طرح چار آدمی گڑھے میں گرگئے۔ شیر (جو گڑھے میں گرنے کے باوجود زندہ تھا) نے انھیں زخمی کردیا۔ حتی کہ چاروں مرگئے “۔

 اس پر ایک کے قبیلہ نے اسلحہ اٹھا لیا اور قریب تھا کہ ان مقتولین کے قبائل کے درمیان باہم جنگ چھڑ جاتی کہ میں ان کے پاس پہنچا اور ان سے کہا : ” کیا تم لوگ چار آدمیوں کی وجہ سے دو سو آدمی قتل کرنا چاہتے ہو ؟ آؤ ! میں تمہارے درمیان ایک فیصلہ کرتا ہوں۔ اگر تم، اس پر راضی ہو تو وہی فیصلہ نافذ کردوں گا اور اگر تم اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہو تو میں یہ مقدمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں پیش کروں گا۔ وہی سب سے بہتر اور برحق فیصلہ فرمانے والے ہیں۔ پس انھوں نے پہلے مقتول کے لیے ربع دیت، دوسرے مقتول کے لیے ثلث دیت، تیسرے مقتول کے لیے نصف دیت اور چوتھے مقتول کے لیے پوری دیت کا فیصلہ فرمایا۔ اور یہ ساری دیات گڑھے کھودنے والے کے عاقلہ پر لازم کیں۔ اس فیصلہ کو سن کر بعض لوگ تو راضی ہوگئے اور بعض ناراض۔ چنانچہ وہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا (لیکن حضرت علی (رض) کے فیصلہ کا ذکر نہیں کیا) ۔

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ تو ایک شخص نے کہہ دیا کہ حضرت علی (رض) ہمارے مابین فیصلہ فرما چکے ہیں اور حضرت علی (رض) کا فیصلہ بتلا دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” القضاء کما قضاہ “ وفی روایۃ ” فامضی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضاء علی (رض) “ یعنی فیصلہ وہی ہے جو حضرت علی (رض) نے فرمایا (سبحان اللہ)

 اس کی تفصیل و تحقیق یہ ہے کہ یہ چاروں خطاء مقتول تھے کیونکہ گڑھے میں گرنے سے مدافعت کی وجہ سے سارے مارے گئے۔ لہٰذا حافر بئر (گڑھا کھودنے والے ) پر ان کے قتل خطا کی دیت واجب ہوتی تھی۔ لیکن چونکہ پہلا مقتول ، دوسرے اور دوسرا تیسرے اور تیسرا چوتھے کو کھینچنے کی وجہ تین آدمیوں کا خطاء قاتل بھی ہوا تو اس کے قتل کی دیت تو کنوان کھودنے والے پر پوری واجب ہوئی لیکن خود اس پر ان تین مقتولوں کی تین ربع دیت واجب ہوئی۔

 اور دوسرے قتل پر ایک دیت کا تہائی اس کے حق میں واجب ہوا اور دو ثلث (دو تہائی) ان دو مقتولوں کی دیت اس پر واجب ہوئی جن کو اس نے کھینچ کر گرایا اور تیسرے کو نصف دیت مل گئی اپنے قتل کی وجہ سے اور خود اس پر بھی نصف دیت واجب ہوئی اس چوتھے شخص کو کھینچ گرانے کی وجہ سے کیونکہ اس نے اسے خطا قتل کیا (اور چوتھے کو کامل مل گئی کیونکہ وہ خود تو خطاء قتل ہوا اور کسی کو اس نے خطا قتل نہیں کیا) ۔ یہ حضرت علی (رض) کا ایک عجیب مجتہدانہ فیصلہ اور استنباط تھا۔

 قاضی ابن ابی لیلی کا چھ اعتبار سے غلط فیصلہ : اسی طرح مروی ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ النعمان (رح) کی خدمت میں ایک شخص آیا اور کہا کہ قاضی ابن ابی لیلی (رح) نے (جو کوفہ کے قاضی تھے) ایک مجنونہ عورت کو حد قذف جاری کی ہے جس نے ایک آدمی کو یوں کہا تھا : یا ابن الزانیین۔

 توقاضی ابن ابی لیلی (رح) نے اس عورت کو مسجد میں دو مرتبہ حد قذف جاری کی اور اس حال میں کہ عورت کھڑی ہوئی تھی امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : ابن ابی لیلی نے چھ اعتبار سے غلط فیصلہ کیا ہے۔

 (١) : پہلی بات یہ ہے کہ عورت مجنون تھی اور مجنون پر حد شرعی جاری نہیں ہوتی۔ کیونکہ جنون کی وجہ سے تکلیف (احکام شرعیہ کا مکلف ہونا) ساقط ہوجاتا ہے۔ یہ اس وقت ہے جب کہ قذف جنون کی حالت میں ہوا ہو۔ (٢) دوسری بات یہ ہے کہ انھوں نے اس پر دوبارحد جاری کی۔ ہر باپ کے اعتبار سے علیحدہ علیحدہ حد۔ جب کہ اگر ایک ہی جنس کو دو حدیں جمع ہوجائیں تو (امام صاحب (رح) کے مذہب کے مطابق) تداخل ہوجاتا ہے، کیونکہ حد قذف، حد خمر اور حدزنا کی طرح حق اللہ ہے (امام صاحب کے نزدیک)

 (٣) : تیسری وجہ یہ ہے کہ قاضی ابن ابی لیلی (رح) نے مقذوف کے مطالبہ کے بغیر حد جاری کی جب کہ اجراء حد کے لیے بالا جماع مطالبہ مقذوف ضروری ہے۔ (٤) چوتھی یہ کہ دو حدیں اکٹھی جاری کیں۔ حالانکہ اصول یہ ہے کہ اگر کسی پر دو حدیں جاری کرنی ہوں تو پہلی حد جاری کرنے کے بعد اسے چھوڑ دیا جائے تاکہ اس کے زخم مندمل ہوجائیں ۔ پھر کچھ مناسب مدت کے بعد دوسری حد جاری کی جائے۔ (٥) پانچویں یہ کہ کھڑا کر کے حد جاری کی۔ جب کہ عورت پر بٹھا کر حد جاری کرنا لازمی اصول ہے۔ (٦) مسجد میں حد قائم کی۔ جبکہ بالاجماع مسجد میں حد جاری نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہ ہے وہ فصل الخطاب جس کا ذکر آیت میں ہے۔ (ملخصاً از احکام القرآن : ص : ٣٦، ٣٧، جلد ٤: ابن العربی (رح))

﴿وَهَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ﴾

اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے كه: مفسرین نے اسرائیلیات جمع کی ہیں اور اس باب میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں جس کا اتباع ضروری ہو۔ اسی طرح حافظ ابن حزم (رح) نے بھی بڑی شدت سے ان قصوں کی تردید کی ہے تفسیر رازى میں ہے:

عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: «مَنْ حَدَّثَكُمْ بِحَدِيثِ دَاوُدَ عَلَى مَا يَرْوِيهِ الْقَصَّاصُ جَلَدْتُهُ مِائَةً وَسِتِّينَ» وَهُوَ حَدُّ الْفِرْيَةِ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (26/ 379)

 حضرت داؤد (علیہ السلام) کے واقعہ کی تحقیقی روایت حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے جو مستدرک حاکم میں ہے اس کو شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) خاتم المحدثین حضرت سید محمد انور شاہ کشمیری (رح) اور صاحب کمالین اور دوسرے علماء حق نے اختیار کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ایک دفعہ اپنے حسن انتظام پر کچھ نازہوا کہ میں نے چوبیس میں کوئی گھڑی ایسی نہیں رکھی جس میں میرا عبادت خانہ خالی رہتا ہو بلکہ میرے اہتمام کی وجہ سے ہر وقت آل داؤد میں کوئی نہ کوئی مشغول عبادت رہتا ہے اللہ تعالیٰ کو خودستائی پسند نہ آئی ارشاد ہوا کہ اے داؤد یہ سب کچھ ہماری توفیق سے ہے ورنہ تم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ قسم ہے مجھے اپنے جلال کی ایک دن اپنی توفیق سے ہٹا کر تمہیں تمہارے نفس کے حوالے کر دوں پھر دیکھوں گا تم کس طرح عبادت کرتے ہو چنانچہ اسی دن آزمائش ہوگی۔ (مستدرک حاکم : ص : ٤٣٣، ج : ٢)

 وقال: صحیح الإسناد، وأقرہ الذھبي: اس پر ان کا کچھ دیر کے لیے قلبی سکون متزلزل ہو کر رہ گیا پھر فرشتوں کے اطمینان دلانے سے کچھ سانس میں سانس آیا اسی کو فتنہ فرمایا الغرض حضرت داؤد (علیہ السلام) کے اس ناز کو ناپسند کر کے اس تنبیہ سے اس کا تدارک اور اصلاح مقصود تھی۔

 قولہ: تسوروا المحراب“ اس کے معنی ہیں کہ محرب کے اوپر کی سمت سے آئے۔ سورشہر کے بلند حصہ کو کہا جاتا ہے۔

قولہ: إذ دخلوا علی داودایک قول یہ ہے کانے والے انسانوں میں سے تھے (کما قال النقاش) جب کہ ایک قول یہ ہے کہ آنے والے فرشتے تھے، یہی علماء کی اکثریت کا قول ہے۔ جب کہ بعض نے ان کی تعیین بھی کی ہے اور فرمایا کہ آنے والے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) تھے اور اصل حقیقت سے رب العالمین ہی واقف ہیں۔

 ابن العربی مالکی (رح) فرماتے ہیں کہ داؤد (علیہ السلام) کی جس محراب کا یہاں ذکر ہے وہ بڑی بلندی اور اونچائی پر واقع تھی جس کی دیواریں اور فصیلیں اتنی بلند تھیں کہ کسی انسان کا عام حالات میں انھیں پھلانگ کر اندر پہنچنا دشوار ترین تھا۔ خود قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ اس نے فرمایا : تسوروا المحراب ، اس سب سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے فرشتے ہی تھے انسان نہیں تھے۔ (ملخصا و بتغییر یسیر)

 روح المعانی میں ہے کہ: ”مروی ہے کہ ان دونوں (خصمان) نے داؤد (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تھی تو وہ ان کی عبادت کا دن تھا۔ پہرے داروں نے منع کردیا تو وہ محراب پھلانگ کر داخل ہوئے اور داؤد (علیہ السلام) کو اس وقت پتہ چلا جب دونوں کو سامنے بیٹھا ہوا پایا “۔

 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ سیدنا داؤد (علیہ السلام) نے اپنے وقت کی تقسیم چار حصوں میں کر رکھی تھی۔ ایک دن عبادت کے لئے، ایک دن فیصلوں اور قضاء مقدمات کے لیے ایک دن اپنی نجی مصروفیات کے لیے اور ایک دن پوری بنی اسرائیلی قوم کے لئے، اس دن وہ انھیں جمع کر کے وعظ و نصیحت کرتے اور انھیں رلاتے۔ (کذافی روح المعانی : ص : ٢٣٧: جلد ٢٣)

 طبعی خوف نبوت کے منافی نہیں : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ففزع منھم۔ یعنی داؤد (علیہ السلام) انھیں اپنے سامنے دیکھ کر گھبرا گئے کہ یہ انسان ہیں یا کوئی اور مخلوق، بےوقت بغیر اجازت کیوں اور کیسے آئے ؟ دربانوں اور پہرے داروں نے روکا کیوں نہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ گھبرانا اور خوف طبعی امر تھا اور طبعی خوف جو کسی ایذاء رساں چیز سے ہوتا ہے یا گھبراہٹ نبوت کے منافی نہیں۔ اور بھی کیسے ہوسکتی ہے ؟ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) خود اپنے عصا سے ہی خوفزدہ ہوگئے تھے۔ جب وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” لا تخف سنعیدھا سیرتھا الاولیٰ “

 حضرت داؤد (علیہ السلام) کا خوف بھی اسی نوعیت کا تھا۔ جب انھوں نے فریقین کو اچانک سامنے دیکھا تو گھبرا گئے۔

 جہاں تک اللہ تعالیٰ کا ارشاد : لایخشون أحداً إلا الله“ کا تعلق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اس سے مراد خشیت ہے خوف نہیں۔ خشیت کا اطلاق مطلق خوف پر نہیں ہوتا۔ خشیت کا اطلاق اس خوف پر ہوتا ہے جو کسی ذات کی عظمت و جلال کی وجہ سے پیدا ہو۔ امام راغب اصفہانی (رح) نے مفردات القرآن میں اس کی صراحت فرمائی ہے کہ خشیت کا اطلاق اس خوف پر ہوتا ہے جو ناشيء من العظمة والجلال “ ہو۔

 لہٰذا حضرات انبیاء کرام (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی خشیت سے منزہ اور پاک ہیں (کسی ذات کی خشیت ان میں نہیں پائی جاسکتی) البتہ موذی اشیاء وغیرہ سے جو طبعی خوف ہوتا ہے اس سے منزہ اور پاک ہونے کی تصریح قرآن و حدیث میں نہیں ملتی۔

 یہاں کسی کو یہ اشکال نہ ہونا چاہیے کہ حق تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ : وتخشی الناس والله أحق أن تخشاه. (سورة الاحزاب : آیت۔ ٣٧) تو یہ تو آپ کو مذکورہ تفصیل کے منافی ہے۔

 اس لیے کہ غور سے دیکھا جائے تو ہمارے قول کے منافی نہیں کیونکہ یہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عتاب آمیز انداز میں کلام کیا جا رہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت زینب (رض) کے معاملہ میں ان سے نکاح کرنے سے جس وجہ سے متذبذب ہیں وہ وجہ لوگوں کا خوف ہے لیکن وہ حقیقتا خود نہیں بلکہ صورتاً خوف ہے۔ جسے حق تعالیٰ نے خشیت کے لفظ سے تعبیر فرمادیا۔

 مگر چونکہ خاتم الانبیاء والمرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آلہ اجمعین کی شان اس سے بھی زیادہ بلند تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں ایسی چیز پائی جائے جو صورتاً بھی خوف کے مشابہہ ہو۔

 لہٰذا اس معنی کے اعتبار سے یہ عتاب آمیز خطاب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ : وتخشی الناس والله أحق أن تخشاه (سورة الاحزاب : آیت ٣٧)

 معلمین اور ارباب تربیت کے لیے اہم رہنما اصول

 یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا داؤد (علیہ السلام) نے ان آنے والے افراد کو محراب سے باہر کیوں نہیں نکالا ؟ حالانکہ وہ بغیر اجازت، غلط طریقہ سے اور بےوقت اندر آئے تھے تو انھیں ان کی غلطی پر تادیب کیوں نہیں فرمائی ؟

 اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے سوچا ہوگا کہ پہلے ان سے وہ بات معلوم ہوجائے جس کی وجہ سے یہ اس طریقہ سے اندر داخل ہوئے ہیں اور ساری بات معلوم کرنے کے بعد ہی فیصلہ کریں گے کہ انھیں اس بےادبی پر سرزنش کرنی چاہیے یا نہیں ؟ کیونکہ اگر یہ کسی عذر کی بناء پر اس طرح بغیر اجازت داخل ہوئے ہیں تو انھیں معذور سمجھا جائے گا اور بلا عذر داخل ہوئے ہیں تو انھیں تادیب کی جائے۔ چنانچہ بعد ازاں جب ساری تفصیل معلوم ہوئی کہ اسے کسی کو ڈانٹنے، ڈپٹنے یا زجروتوبیخ میں جلدی نہ کرنی چاہیے بلکہ پہلے معاملہ کی اچھی طرح چھان بین کر کے پھر کسی کی زجرو توبیخ کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ آج کل کے معلمین و مصلحین کا معاملہ عجیب ہے کہ وہ ذرا سی غلطی پر بغیر تحقیق وتفتیش کئے اور یہ جانے بغیر کہ اس غلطی کے پیچھے کوئی عذر تو نہیں تھا، سخت زجروتوبیخ بلکہ ضرب عجیب ہے بلکہ ضرب و شتم سے بھی کام لیتے ہیں۔ جس سے شاگردوں کی اصلاح و تربیت تو کم ہوتی ہے اور استاذ و معلم سے بعد اور دوری بلکہ تنفر زیادہ پیدا ہوتا ہے۔

 مفتی اور قاضی کے لیے عوام کی بدزبانی برداشت کرنے کا حوصلہ ضروری ہے : اس واقعہ میں آنے والے افراد نے جب داؤد (علیہ السلام) کے سامنے اپنے مقدمہ بیان کیا تو یہ بھی کہا کہ : ولا تشطط واھدنا الیٰ سواء الصراط. (سورة ص : آیت : ٢٢)

 یعنی ہمارے درمیان فیصلہ کرنے میں زیادتی نہ کیجئے اور سیدھا اور ٹھیک بتا دیجئے۔ دیکھئے ! یہ الفاظ ایک حاکم وقت جس سے فیصلہ کروانے کے لیے اس طرح بےجا مداخلت کا ارتکاب کیا ہے کو اشتعال اور غیظ میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن سیدنا داؤد (علیہ السلام) نے اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ فرمایا۔

 صاحب روح المعانی فرماتے ہیں: ”ان الفاظ میں جو تندی وسختی ہے وہ ظاہر ہے اور ان پر داؤد (علیہ السلام) کا تحمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حاکم اور اس جیسے منصب پر فائز شخص (مثلاً قاضی، مفتی وغیرہ ) کے لیے یہی طرز عمل قابل تقلید ہے۔

 تعجب ہے اس حاکم یا اس شخص پر جو لوگوں کے لیے مرجع ہو مثلا ! مفتی (اور شیخ) کہ وہ اس عظیم مودب نبی (داؤد (علیہ السلام)) کی تقلید نہیں کرتا بلکہ ذرا سی بات اور ادنیٰ کلمہ پر بری طرح غصہ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اگر وہ اپنے طرز عمل کا جائزہ لے تو اسے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ طرز عمل اس نبی مودب داؤد (علیہ السلام) کے طرز عمل سے کوئی مطابق نہیں رکھتا۔ (روح المعانی : ص : ٢٣٨: جلد : ٢٣)

 قاضی کے لیے روزانہ قضاء کے لیے بیٹھنا ضروری نہیں : ماقبل میں گزرا کہ سیدنا داؤد (علیہ السلام) نے اپنے ایام کی تقسیم اس طرح رکھی تھی کہ قضاء اور مقدمات کے فیصلوں کے لیے ایک دن مقرر فرمایا تھا۔ چنانچہ امام ابوبکر الجصاص (رح) نے اپنی سند سے حضرت حسن (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ” وھل اتک نبؤا الخصم ۔ اذتسوروا المحراب “۔ کے بارے میں انھوں نے فرمایا کہ ” داؤد (علیہ السلام) نے اپنے وقت کی چار ایام میں تقسیم کر رکھی تھی۔ ایک دن اپنی عورتوں کے لئے، ایک دن مقدمات کے فیصلوں کے لئے، ایک دن خلوت گاہ میں اللہ رب العالمین کی عبادت کے لیے اور ایک دن بنی اسرائیل کے لیے کہ ان سے علم حاصل کریں “

 جصاص (رح) فرماتے ہیں : ” یہ ترتیب اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قاضی کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مقدمات اور جھگڑوں کے فیصلوں کے لیے روزانہ بیٹھے بلکہ ایک محدود وقت متعین کر کے بیٹھنا بھی جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ شوہر پر لازم نہیں کہ روزانہ اپنی بیوی کے جائے بلکہ جائز ہے کہ چار ایام میں سے ایک یوم اس کے لیے مختص کر دے۔ (احکام القرآن ص : ٤٩٨: جلد ٣: جصاص (رح) )

 اوقات کی ترتیب وضبط کا مستحب ہونا : مفتی محمد شفیع فرماتے ہیں ” داؤد (علیہ السلام) کی یہ ترتیب ضبط و ترتیب اوقات کے مستحب ہونے کا بھی پتہ دیتی ہے کہ جو شخص خدمت خلق کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ دیگر مشاغل میں بھی لگا ہوا ہو تو اسے اپنے اوقات کا نظم اور ترتیب قائم کرنا مستحب اور پسندیدہ ہے۔ (احکام القرآن ص : ٤٦٥، ج ٢)

 مسجد میں قضا كى مجلس

 شیخ ابن العربی مالکی نے احکام القرآن میں فرمایا : ہمارے علماء نے فرمایا کہ : اذ تسوروا المحراب میں اس امر پر دلیل ہے کہ قضا کی یہ مجلس مسجد میں تھی۔ اگر مسجد میں مجلس قضا ناجائز ہوتی (جیسا کہ امام شافعی کا قول ہے) تو داؤد (علیہ السلام) اس کو برقرار نہ رکھتے اور فریقین سے کہتے کہ مجلس قضاء میں جاؤ۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ مسجد میں قضا کرنا قدیم سے متوارث ہے۔ البتہ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ قاضی اپنے الگ کمرہ میں بیٹھے تاکہ کمزور، مشرک اور حائضہ عورتیں بھی اس کی مجلس قضا میں حاضر ہو سکیں۔ (جس میں ہونے کی صورت میں ممکن نہیں) ۔ اشہب (رح) فرماتے ہیں : قاضی اپنے گھر میں قضا کی مجلس قائم کرے یا جہاں چاہے۔ حضرت مفتی شفیع (رح) فرماتے ہیں : احناف کا بھی یہی مذہب ہے کہ مسجد میں قضا جائز ہے، عام کتب احناف میں اسی کی تصریح ہے۔ (احکام القرآن ص : ٤٦٦: جلد : ٢)

 یہ ساری تفصیل اس تقدیر پر ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے فریقین کے درمیان فیصلہ فرمایا تھا۔ معاملات میں شرکت عام طور پر ظلم و دشمنی کا سبب بنتی ہے آیات مذکورہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ معاملات میں شرکت عام طور پر ظلم و دشمنی کا ذریعہ بنتی ہے لہٰذا جہاں شراکت داری ہو وہاں ہر شریک کو اس معاملہ میں متنبہ اور محتاط رہنا چاہیے تاکہ وہ ایمان واعمال صالحہ والے افراد میں سے ہوں۔

﴿اِنَّ ھٰذَآ اَخِيْ ۣ لَهٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِيَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ ۣ فَقَالَ اَكْفِلْنِيْهَا وَعَزَّنِيْ فِي الْخِطَابِ﴾

فریقین کے جھگڑے کی تفصیل کا ذکر

 دو شخص حضرت داود عليه السلام كے پاس آئے، دونوں فریقوں میں سے ایک نے جھگڑے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ” یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دے۔ اور اس نے مجھے دبا لیا اپنی گفتگو میں “۔ اور اپنی چرب لسانی کی وجہ سے یہ میری ایک نہیں چلنے دیتا۔ آگے رہ جاتی ہے یہ بات کہ آیا یہ مقدمہ فرضی تھا یا واقعی۔ اور یہ دونوں شخص دو آدمی تھے یا آدمیوں کی صورت میں دو فرشتے ؟ اس بارے میں حضرات اہل علم سے دونوں قول منقول ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ دو انسان ہی تھے جو ایسا مقدمہ لے کر آئے تھے جو ان کے یہاں واقعتہً پیش آیا تھا۔ جبکہ بعض کے نزدیک یہ دو فرشتے تھے جو انسانی شکل میں آئے تھے۔ اور یہی زیادہ مشہور ہے۔ سو یہ مقدمہ واقعتہً پیش نہیں آیا تھا بلکہ یہ ایک تمثیل تھی حق اور حقیقت کی توضیح کے لئے۔ (قرطبی، مدارک، خازن اور روح وغیرہ) ۔ سو انھوں نے یہ مقدمہ حضرت داؤد کی خدمت میں پیش کیا۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ اس زمانے میں اس علاقے کی اصل دولت بھیڑوں اور دنبیوں ہی سے عبارت تھی۔ اور خود حضرت داؤد کی زندگی بھی بادشاہی سے پہلے بھیڑسالے اور بھیڑوں کے چرانے ہی میں گزری تھی۔ یہاں تک کہ تاریخی روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے سکے پر بھی دنبی کی تصویر تھی۔ بہرکیف اس شخص نے اپنا مقدمہ پیش کردیا۔

ایک مشہور قصہ کی تردید

حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس جو دو شخص فیصلہ لے کر آئے تھے جن کا یہ فیصلہ ان کے امتحان کا سبب بنا اس کے بارے میں بعض کتابوں میں ایک ایسا قصہ لکھ دیا گیا ہے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شان کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک عورت پر ان کی نظر پڑگئی تھی جس سے نکاح کرنے کا خیال پیدا ہوگیا اور اس خیال کے پیچھے ایسے پڑے کہ اس کے شوہر کو جہاد میں بھیج کر شہید کروانے کا راستہ نکالا اور جب وہ شہید ہوگیا تو آپ نے اس عورت سے نکاح کرلیا، یہ قصہ جھوٹا ہے جسے اسرائیلی روایات سے لیا گیا ہے حد یہ ہے کہ محدث حاکم نے بھی مستدرک (مستدرک ص ٥٨٦، ص ٥٨٧: ج ٢) میں لکھ دیا اور تعجب ہے کہ حافظ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اسے ذکر کرکے سکوت اختیار کیا حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص داؤد (علیہ السلام) کے بارے میں ایسی بات کہے گا اور اس کا عقیدہ رکھے گا تو میں اس پر حد قذف کی دوہری سزا جاری کروں گا یعنی ایک سو ساٹھ (١٦٠) کوڑے لگاؤں گا۔ (روح المعانی ص ١٥٨: ج ٢٣)

اور صاحب جلالین نے یوں لکھ دیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں اور اس شخص کی ایک بیوی تھی جس نے شکایت کی تھی۔

یہ قصہ بھی اسرائیلی روایات سے لیا گیا ہے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شان کے خلاف بھی ہے اور کسی صحیح سند سے ثابت بھی نہیں ہے۔

﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ﴾

امام راغب اصفہانی (رح) ” مفردات القرآن “ میں فرماتے ہیں: الخلافة النیابة عن الغیر إما لغیبة المنوب عنه وإما لعجزہ وإما لتشریف المختلف. یعنی خلافت کے لغوی معنی ہیں، غیر کی نیابت اور قائم مقامی کرنا۔ یہ نیابت تین میں سے کسی ایک وجہ سے ہوتی ہے۔ یا تو منوب عنہ (اصل) کے موجود نہ ہونے کی بناء پر یا اس کے عاجز ہوجانے کی بناء پر اور یا نائب اور خلیفہ کے اکرام اور اعزاز کے طور پر۔ اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کو جو اپنا خلیفہ قرار دیا ہے وہ اسی تیسرے معنی کی بناء پر دیا ہے۔ ارشاد فرمایا : وھو الذی جعلکم خلئف الارض “۔ (سورة الانعام : ٦٥)  اور فرمایا : ویستخلف ربي قوماً غیرکم. (سورة ھود : آیت ٧٥)

 خلائف ، خلیفة کی جمع ہے جب کہ خلفاء خلیف کی جمع ہے۔ قرآن کریم میں دونوں الفاظ آئے ہیں۔ قال تعالیٰ : وجعلنھم خلئف وقال تعالیٰ: إذ جعلکم خلفاء من بعد یہاں آیت مذکورہ : یا داود إنا جعلنک خلیفۃً في الأرض میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے خلافت ثابت فرمائی ہے۔ خطیب الشربینی (رح) فرماتے ہیں : داؤد (علیہ السلام) کے خلیفہ ہونے کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انھیں ان سے ماقبل گزرے ہوئے انبیاء (علیہم السلام) کے اعتبار سے خلیفہ بنایا گیا ہو۔ کیونکہ یہ ان کے بعد آنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا اور لوگوں کی بہتری اور مصالح میں یہ خلیفہ ہیں۔ اس لیے کہ لفظ خلافت یا خلیفہ کے حقیقی معنی یہاں متعذر ہیں ممکن نہیں کیونکہ اس کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ اصل کی غیبوبت اور غیر موجودگی میں کسی کا نائب ہوجانا اور اللہ تعالیٰ کا غائب اور غیر موجود ہونا محال ہے تو اس معنی کے اعتبار سے خلافت بھی محال ہے۔

 دوسرے یہ کہ ہم نے اے داؤد ! تمہیں لوگوں میں قوت نافذہ کے ساتھ احکام کو نافذ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے انھیں خلیفہ کہا گیا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ” خلیفۃ اللہ تعالیٰ فی الارض “ ہے۔

 خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا خلیفہ وہ ہوتا ہے جو اس کے رعیت میں احکام نافذ کرے اور لفظ خلافت کے معنی اللہ تعالیٰ کی نسبت سے ممتنع ہیں (کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہر جگہ حاضر ہے۔ لہٰذا اس کا خلیفہ ہونے کے کیا معنی ؟ ) اور جب حقیقی معنی ممتنع ہوگئے تو معنی حقیقی کے لازم معنی مراد ہوں گے (یعنی احکام کے نفاذ کے اعتبار سے خلیفہ) انتھی من کلام الخطیب الشربینی (رح) )

 اللہ تعالیٰ کے خلیفہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے بعد والے انبیاء (علیہ السلام) کے خلیفہ ہیں : ابن عطیہ (رح) فرماتے ہیں : ” خلیفۃ اللہ تعالیٰ کا اطلاق صرف اللہ کے پیغمبروں اور رسولوں پر ہوسکتا ہے ، جہاں تک خلفاء اربعہ کا تعلق ہے تو ان میں سے ہر ایک اپنے پیش رو کا خلیفہ ہے (یعنی اس پر خلیفۃ اللہ ہونے کا اطلاق نہیں ہوسکتا) ہاں اگر اشعار میں ان میں سے کسی کے لیے ” خلیفۃ اللہ “ کے الفاظ استعمال ہوں تو جائز ہے (کیونکہ اشعار میں توسع ہوتا ہے نیز مقصود خلیفۃ اللہ کا خلیفہ ہونا ہے اور بالواسطہ طور پر وہ بھی خلیفۃ اللہ ہی ہیں) ۔ “

 چنانچہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، ابوبکر صدیق (رض) کے لیے ” خلیفۃ رسول اللہ “ کے الفاظ استعمال فرماتے تھے اور آپ (رض) کی وفات تک انھیں انہی الفاظ سے بلایا جاتا رہا۔ جب حضرت عمر (رض) امور خلافت کے متولی ہوئے تو صحابہ (رض) نے ان کے لیے ” خلیفۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ کا لفظ استعمال کرنا پسند فرمایا۔ (روح المعانی : ص : ٢٧٤ جلد : ٢٣)

 ( حضرت مفتی اعظم پاکستان) : ” اللہ تعالیٰ کی خلافت کا سوائے پیغمبر معصوم کے کوئی دوسرا مستحق واہل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عہد آمد (علیہ السلام) سے لے کر خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک تک خلافت ارضی ہمیشہ انبیاء معصومین علیہم الصلوٰۃ والسلام اور پیغمبروں میں ہی رہی۔ پھر جب سلسلہ نبوت و رسالت ہمارے پیغمبر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اختتام پذیر ہوا تو اللہ رب العالمین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت پر یہ احسان فرمایا کہ اس امت کے مجموعہ کو نبی معصوم کے قائم مقام بنادیا۔ اسی بناء پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: لن تجتمع أمتي علی الضلالة.

 اسی وجہ سے اس امت کے اجماع کو حجت شرعی قرار دیا، حالانکہ پچھلی امتوں میں سے کسی امت کو یہ شرف حاصل نہ ہوا۔ لہٰذا جب یہ پوری امت اور مجموعہ امت نبی معصوم کے قائم مقام ہوگیا تو خلیفہ اور امیر کے انتخاب وچناؤ کا معاملہ بھی اسی کے سپرد ہوا۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد جو خلفاء ہوئے وہ خلفاء الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ صاحب روح المعانی نے اس آیت سے روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہونے کی ضرورت وحاجت پر استدلال کیا ہے۔ (روح المعانی : ص : ٢٤٧: جلد : ٢٤)

 خلافت و امارت کی اقسام و احکام : قاضی ابن العربی مالکی (رح) فرماتے ہیں : ” خلفاء کی کئی اقسام ہیں۔ سب سے پہلی قسم امام اعظم (یعنی خلیفۃ المسلمین) اور سب سے آخری غلام ہے (جو اپنے آقا اور مولیٰ کے مال میں خلیفہ اور نائب ہوتا ہے) “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ والعبدراع فی مال سیدہ ومسؤل عن رعیتہ۔

 لیکن چونکہ خلیفۃ المسلمین (امام اعظم) کے لیے یہ ممکن نہیں کہ تمام امور خود تن تنہا انجام دے سکے۔ لہٰذا یہ ناگزیر ہے کہ کچھ اس کے نائب ہوں۔ نیابت کی بہت سی اقسام ہیں۔ بعض علماء شافعیہ رحمۃ اللہ علیہم نے شرعی ولایات کی تعیین کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ انھوں نے فرمایا کہ ولایات نیابت بیس ہیں۔ خلافت عامہ، وزارۃ، امارت جہاد، حدود کے قیام کی ولایت، ولایت قضاء ، ولایت مظالم، ولایت نقابۃ علی اہل الشرف، ولایت صلوۃ ، حج ، صدقات، تقسیم الفیئ والغنیمۃ، تعیین ووصولی خراج، جزیہ، احیاء الموات، ولایت تنفیذ احکام، حمی، اقطاع (جائیداد وغیرہ) دیوان وحسیہۃ وغیرہ۔ (احکام القرآن : ص : ٤٧، جلد : ٤ ابن العربی المالکی)

 بعد ازاں ابن العربی (رح) نے ہر ہر ولایت کی تفسیر و توضیح کی ہے۔ اس کا مفہوم واضح کر کے نصوص سے اس کا اثبات اور سلف رحمۃ اللہ علیہم کا اس پر تعامل بیان کیا ہے۔ (من شاءہ فلیراجعہ)

 حکام اور قضاۃ پر تین چیزیں لازم ہیں

امام ابوبکر الجصاص (رح) نے اپنی سند سے حسن بصری (رح) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا:

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: إِنَّ اللَّه أَخَذَ عَلَى الْحُكَّامِ ثَلَاثًا: أَنْ لَا يَتَّبِعُوا الْهَوَى، وَأَنْ يَخْشَوْهُ وَلَا يَخْشَوُا النَّاسَ، وَلَا يَشْتَرُوا بِآيَاتِهِ ثَمَنًا قليلا. ثم قرأ يَا داوُدُ إِنَّا جَعَلْناكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ: وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى  وَقَرَأَ إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْراةَ فِيها هُدىً وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ إِلَى قَوْلِهِ: وَلا تَشْتَرُوا بِآياتِي ثَمَناً قَلِيلًا [المائدة: 44] تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (10/  110، 111)

یعنی اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین چیزوں کا عہد لیا ہے : (١) یہ کہ خواہش نفسانی کی اتباع نہ کریں۔ (٢) صرف اللہ سے ڈریں اور لوگوں سے نہ ڈریں۔ (٣) اللہ تعالیٰ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت کے عوض فروخت نہ کریں ۔ بعد ازاں یہی آیت کریمہ اور سورة المائدہ کی آیت تلاوت فرمائی۔

 خطاء اجتہادی صرف مجتہد ہی کو معاف ہوگی، بغیر علم کے فتویٰ دینے والا جہنم میں جائے گا : سلیمان بن حرب نے حماد بن ابی سلمہ عن حمید رحمۃ اللہ نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : ” جب ایاس بن معاویہ (رح) کو قاضی بنایا گیا تو حسن بصری (رح) اس سے ملنے آئے، ایاس (رح) ان کے سامنے رو پڑے، حسن بصری (رح) نے پوچھا کہ : اے ابو واثلہ ! کیا بات ہے، کیوں رو رہے ہو ؟ انھوں نے فرمایا : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں۔ دوقسم کے قاضی جہنم میں جائیں گے اور ایک قسم کے قاضی جنت میں۔ ایک وہ جس نے غلط اجتہاد کیا وہ جہنم میں جائے گا۔ دوسرا وہ جو خواہشات کی طرف مائل ہوگیا وہ بھی جہنم میں جائے گا۔ تیسرا وہ جس نے اجتہاد کیا اور درست اجتہاد کیا وہ جنت میں جائے گا۔ (یہاں یہ واضح رہے کہ اجتہادی خطا کرنے والے سے وہ مراد ہے جس نے بغیر علم کے اجتہاد کیا)

 حسن بصری (رح) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہما السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ: وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ (٧٨) فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا (انبیاء ٧٨۔ ٧٩) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے (حق کے مطابق فیصلہ کرنے پر) سلیمان (علیہ السلام) کی تو مدح فرمائی لیکن (خطاء اجتہادی پر) داؤد (علیہما السلام) کی مذمت نہیں فرمائی (حسن بصری (رح) کا مقصد ایاس بن معاویہ کو تسلی و تشفی دینا تھا کیونکہ خطاء اجتہادی پر پکڑ اس شخص کی ہوتی ہے جو بغیر علم کے اجتہاد کرنے کی جرات و جسارت کرے) ۔ (احکام القرآن : ج : ٣، ص : ٥٠١: للجصاص)

﴿وَوَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَيْمٰنَ ۭ نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ، اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ﴾

حضرت داو ود (علیہ السلام) کے 19 بیٹوں میں سے ان کے اصل جانشین حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہوئے جن کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور بادشاہت دونوں کمالات جمع کردیئے اور انہیں وہ ملک عطا کیا جو ان سے قبل یا بعد کسی کو نہ ملا،حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کا آیت کریمہ میں بیان ہے یعنی نہایت اصیل خوبصورت اور تیز روح سبک رفتار گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی حتیٰ کہ آفتاب غروب ہوگیا شاید اس پر کہنے لگے کوئی مضائقہ نہیں اگر ایک طرف ذکر اللہ سے بظاہر علیحدگی رہی تو دوسری جانب جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اسی کی یاد کا حصہ ہے جب جہاد کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے تو اس کے اسباب و مبادی کا تفقد کیسے دی کرولہ کے تحت داخل نہ ہوگا جب اللہ تعالیٰ نے جہاد سے محبت کا حکم دیا ہے تو یہ محبت جہاد کے اسباب میں بھی داخل ہے جن گھوڑوں کو وہاں سے لے گئے تھے انہیں دوبارہ واپس لانے کا حکم دیا جب وہ لائے گئے تو ”فطفق مسحا“ انہوں نے غایات اکرام اور محبت سے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرتے رہے اور ان سے پیار کرتے رہے اور ہاتھوں سے ان کے گرد و غبار صاف کرتے رہے۔

یہ تفسیر بعض مفسرین نے کی ہے جس میں ”مسح“ اپنے اصلی معنی پر ہوگا ہاتھوں کا پھرنا اور لفظ حب الخیر سے اس کی تائید ہوتی ہے جیسے ایک حدیث میں ارشاد ہے: الخیل معقود في نواصیھا الخیر إلی یوم القیمة.  گھوڑوں کی پیشانی میں خیر قیامت تک رکھی ہوئی ہے بند کر۔

مگر دوسرے علماء کرام نے اس کی تقریر یوں کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو گھوڑوں کے مہینہ میں مشغول ہو کر اس وقت کی نماز یا وظیفہ سے ظہور ہوگیا اور ظہور و نسیان انبیاء کے حق میں محال نہیں فرمایا دیکھو مال کی محبت میں مجھ کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کردیا حتى کے غروب آفتاب تک میں اپنا وظیفہ ادا نہ کرسکا یہ درست ہے کہ اس مال کی محبت میں بھی ایک پہلو عبادت کا اور اللہ تعالیٰ کیا تھا جو کہ اس باب جہاد ہے مگر خواص مقربین کو یہ بھی فکر رہتی ہے کہ جس کی عبادت کا جو وقت مقرر ہے اس میں تخلف نہ ہو اور اگر ہوتا ہے تو ان کے لئے باعث صدمہ ہے۔

 دیکھو غزوہ خندق میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نمازیں قضا ہوگئیں اور باوجود اس کے کہ آپ عین جہاد میں مشغول تھے اور کسی قسم کا عزم باپ پر نہ تھا لیکن جن کفار کے سبب یہ پیش آیا آپ ان کے حق میں ” ملأ الله بیوتھم و قبورھم نارا “ وغیرہ الفاظ سے بد دعا فرما رہے تھے حضرت سلیمان بھی ایک موقع عبادت کے فوت ہوجانے سے بےتاب ہوگئے تو حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤں جو یاد الہی کے فوت ہونے کا سبب بنے ہیں جب لائے گئے تو شدت غیرت نے اور غلبہ حب الہی میں تلوار لے کر آنا شروع کی غفلت کو اپنے سے اس طرح علیحدہ کریں کہ وہ فی الجملہ غفلت کا کفارہ بن جائے شاید ان کی شریعت میں گھوڑے کی قربانی جائز ہوگی اور ان کے پاس گھوڑے اس کثرت سے ہوں گے کہ ان چند گھوڑوں کے قربان کرنے سے مقصد جہاد میں کوئی خلل نہ پڑتا ہوگا۔ اس تقریر کی تائید ایک حدیث مرفوع سے بھی ہوتی ہے جو طبرانی میں باسناد حسن حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے۔ (روح المعانی وغیرہ)

پہلی تفسیر حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے ابن جریر اور امام رازی نے راجہ کہاں ہے۔ واللہ اعلم۔

”اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُۙ“ حضرت سلیمان پر جب پچھلے پہر نہایت عمدہ تفصیل اور تیز رفتار گھوڑے معائنہ کے لیے پیش کیے گئے۔ صافن ایسے عمدہ نسل کے گھوڑوں کو کہتے ہیں جو عام طور پر تین پاؤں پر کھڑے رہتے ہیں حضرت سلیمان کے پاس اس قسم کے گھوڑوں کی تعداد ہزاروں میں تھی یہ ایک آزمائش کا تذکرہ ہو رہا ہے کہ آپ جہاد اور جہادی گھوڑوں کے معائنہ میں اتنا مصروف ہوگئے کہ غروب آفتاب کا مرحلہ آپہنچا اس دوران آپ کی نماز یا دیگر عبادت کا وقت تھا وہ جاتا رہا اس پر آپ کو سخت صدمہ اور تشویش ہوئی کیونکہ عبادت کا وقت گزر چکا اس پریشانی میں کہا۔ ”فَقَالَ اِنِّىْٓ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ“ افسوس کے میں نے اپنے پروردگار کے ذکر سے مال کی محبت کو پسند کیا ہے یہاں تک کہ سورج حجاب میں چلا گیا اور غروب ہوگیا۔

فرمایا : ”رُدُّوْہَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ“ ان گھوڑوں کو واپس میری طرف پلٹ آؤ جب انہیں لایا گیا تو سلیمان (علیہ السلام) نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر شفقت اور رحمت کے ساتھ ہاتھ پھیرنا شروع کیا کیونکہ جہاد کی خاطر آپ کو گھوڑوں سے محبت تھی تو عزت و احترام کے ساتھ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرتے رہے یہ پہلی تفسیر والے مطلب و معنی کے اعتبار سے جب کہ دوسری تفسیر اول تفسیر کی ضد ہے وہاں معنی یہ ہوگا جب گھوڑے واپس لائے گئے تو آپ نے غیرت کی بنیاد پر تلوار ہاتھ میں لے کر گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں کو کاٹنا شروع کردیا تاکہ ان کی قربانی قضا شدہ عبادت کا کفارہ بن جائے۔

خلاصہ: پہلی تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے جہاد کے گھوڑوں کی تربیت اور دیکھ بھال کو ذکر الہی کے منافی نہیں سمجھا بلکہ نماز کے فوت ہوجانے پر گھوڑوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرا اور ان پر سے گرد و غبار دور کرکے صاف کرلیا اور دوسری تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو نماز کی قضاء ہونے پر سخت صدمہ ہوا اور اس کا کفارہ ادا کرتے ہوئے گھوڑوں کی قربانی کی اور ان کی گردنوں اور پاؤں کو کاٹنا شروع کردیا اور انہیں اس طرح ذبح کر ڈالا تاکہ ان کی کوتاہی کی معافی ہو بہرحال دونوں تفسیريں صحیح ہیں۔ واللہ اعلم

﴿رُدُّوْهَا عَلَيَّ ۭ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا مطالبہ

آپ نے حکم دیا کہ انھیں دوبارہ سامنے لایا جائے چنانچہ جب وہ دوبارہ سامنے لے آئے تو آپ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔ اس تفسیر کے مطابق ”عن ذکر“ میں ”عن“ سببیہ ہے اور ”توارات“ کی ضمیر گھوڑوں کی طرف راجح ہے اور مسح سے مراد کاٹنا نہیں بلکہ محبت سے ہاتھ پھیرنا ہے۔ حافظ ابن جریر (رح) طبری اور امام رازی (رح) نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ علامہ آلوسی (رح) فرماتے ہیں۔ ”ردوھا“ کی ضمیر گھوڑوں کی طرف راجح ہے سورج کی طرف نہیں اس لیے یہ قصہ جو سورج والا بیان کیا جاتا ہے قرآن و حدیث کی کسی دلیل سے ثابت نہیں۔ (روح المعانی: ص: ٢٥٥، ج: ٢٣)

﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمٰنَ وَاَلْقَيْنَا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے فوجیوں سے کہا کہ چلو اللہ کے راستے میں جہاد کرو انھوں نے عذر بہانہ کیا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ بات ناگوار گزری۔ بخاری شریف میں روایت ہے۔ ” ستون “ کے لفظ بھی ” تسعون “ کے بھی ” مائۃ : کے لفظ بھی اتنی بیویاں تھیں خیال کیا کہ ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے ساتھ جماع کروں گا، حاملہ ہوں گی تو میرے گھر کی فوج تیار ہوجائے گی لیکن زبان سے انشاء اللہ نہ کہہ سکے اس کارروائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک بیوی نے بچہ جنا اور وہ بھی نامکمل ادھورا یعنی اپاہج سابچہ اور دائی نے لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا۔ صحیح تفسیر یہی ہے لیکن مودودی صاحب سے اس مقام پر شدید غلطی ہوئی وہ کہتے ہیں۔ اس حدیث کا مضمون صریح عقل کے خلاف ہے۔ وہ لکھتے ہیں جہاں تک اسناد کا تعلق ہے ان میں سے اکثر روایات کی سند قوی ہے۔ اور باعتبار روایت اسی کی صحت میں کلام نہیں کیا جاسکتا لیکن حدیث کا مضمون صریح عقل کے خلاف ہے۔ (تفہیم القرآن: ص: ٣٤٧: ج: ٤)

 طبع ششم جون ١٩٧٤ ء اور مودودی صاحب لکھتے ہیں۔ اس حدیث کو سند کے زور پر لوگوں سے منوانا دین کو مضحکہ بنانا ہے۔ پھر انھوں نے رات کے اوقات کو تقسیم کر کے ہر بیوی کے حصے میں آنے والے منٹوں کا حساب لگا کر بتایا کہ کسی شخص کے لیے ایسا ممکن ہی نہیں۔ یہی تو مودودی کی غلطی ہے۔ اگر یہ ایک آدمی کے لیے ممکن نہیں مگر نبی کے لیے معجزہ کے طور تو ہر چیز ممکن ہے۔ جسے عقل کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جاسکتا بلاشبہ سارے معجزات خلافت عقل ہوتے ہیں۔ کیا تم معجزات کو عقل کے ترازوں میں تولا جائے گا؟

﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ

سلیمان نے کہا اے پروردگار میری تقصیر معاف فرما دیجئے اور مجھ کو ایک ایسی سلطنت عطا کر جو میرے سوا کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو بیشک تو بڑا ہی دینے والا ہے۔ یعنی ایسی سلطنت عطا ہو جو میری نبوت کے لیے خرق عادت اور معجزے کا کام دے اور ایسی ہو کہ مجھ سے چھین کر کسی اور کونہ دے دی جائے اور اس کو میں بطور نبوت کی دلیل کے پیش کرسکوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی سلطنت میرے سوا کسی کو دی ہی نہ جائے۔

بہرحال ! ایسی خواہش بطور حسد نہ تھی اور اگر پہلے معنی ہوں کہ میرے زمانے میں مجھ سے چھین کر کسی اور کونہ دی جائے تو کچھ اشکال نہیں اور اگر دوسرے معنی بھی ہوں تب بھی یہ معنی ہیں کہ جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو بلکہ میرا ہی معجزہ ہو۔ مجھے ایک ایسی بادشاہت عنایت فرما کہ کوئی دوسرا اس کی طلب میں ہوس نہ کرے اور زمانہ کی بلا اور فتنے میں نہ پڑے کیونکہ بغیر قوۃ نبوت کے اس قدر عظیم الشان فتنے میں پڑنے سے کوئی شخص مامون نہیں رہ سکتا۔ بہرحال اس دعا پر حسد کا شبہ لغو اور بےہودہ ہے چونکہ ظالم اور جبابرہ کی حکومتوں کا دور تھا۔ اس لیے ایک ایسی سلطنت مانگی جس پر کوئی غالب نہ آسکے اور میں دین الٰہی کی ترویج اور اشاعت میں اس سلطنت کی وجہ سے کام لے سکوں۔

چضزت سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی نہیں دیکھا کہ جب آپ کوئی دعا کرتے ہوں تو اپنی دعا کو ان جملوں سے شروع نہ کرتے ہوں۔

جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا تھا وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہے اور مغفرت اس وقت طلب کی جاتی ہے جب کوئی گناہ ہوچکا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کوئی گناہ کیا تھا جس پر انھوں نے استغفار کیا تھا، امام رازی اس کے جواب میں فرماتے ہیں : انسان اس حال سے خالی نہیں ہے کہ اس سے کوئی افضل اور اولیٰ کام ترک ہوجاتا ہے اور اس وقت وہ مغفرت طلب کرنے کا محتاج ہوتا ہے، کیونکہ ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے نزدیک برائیوں کے درجہ میں ہوتی ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٣٩٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ﴾

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول کی، ہوا کو ان کے تابع کردیا، چنانچہ وہ تخت پر بیٹھ کر ہوا کو حکم دیتے اور وہ آرام آرام سے چل کر جہاں انہیں پہنچانا ہوتا پہنچا دیتی، اس کے علاوہ ہٹے کٹے شیطانوں کو ان کے تابع کردیا، ان میں بعض مزدوری اور بھاری بوجھ اٹھانے میں کمال رکھتے تھے اور بعض سمندروں اور دریاؤں میں غوطہ لگا کر موتی (مونگا) نکالتے اور بہت سے ایسے سرکش تھے جو سوا دنگا فساد کرنے کے کسی کام کے نہ تھے، ان کو آپ زنجیروں اور بیڑیوں میں آپس میں جکڑ کے ڈال دیتے، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے فرمایا کہ: ہماری دی ہوئی دولت کو بانٹو یا جمع کرو آپ سے کچھ حساب نہ لیا جائے گا، آخرت میں ہمارے پاس ان کے لئے اونچا مرتبہ اور اچھا ٹھکانہ (جنت) ہے۔

وآخرین مقرنین في الأصفاد: جنات میں بعض ایسے بھی تھے جو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) شرارتی جنوں کو سزا کے طور پر قید بھی کردیتے تھے، ان میں سے بعض آج تک جکڑے ہوئے سمندروں اور دور دراز جزیروں میں موجود ہیں، جو قیامت کے قریب زمانہ میں آزاد ہوں گے، بہرحال انسانوں اور پرندوں کے ساتھ ساتھ جلد بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر میں موجود ہوتے تھے اور آپ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے تھے۔

ھذا عطاؤنا: یہ سب کچھ ہماری طرف سے آپ کو عطاء ہوا ہے، اب آپ کو اختیار ہے کہ جس پر چاہیں تقسیم کرکے احسان کریں یا جس چاہیں روک لیں، یعنی کچھ نہ دیں اور اس بارے میں آپ جو بھی کاروائی کریں گے وہ بغیر حساب کتاب کے ہوگی، یعنی : آپ کی تقسیم پر آپ سے قیامت میں کوئی سوال و جواب نہیں ہوگا۔

وإن له عندنا لزلفی: آپ کے لئے ہمارے ہاں بہت بڑا مرتبہ ہے، ہمارے الہام دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ آخرت میں بھی آپ کا بہت بڑا حصہ ہے اور آگے بہت اچھا ٹھکانہ ہے : اسی لئے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی بات سن کر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کا شکر ادا کیا تھا اور ساتھ ہی یہ دعا بھی کی تھی کہ، مولاکریم ! اپنی مہربانی سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لے (” سورۃ النمل “، آیت 19) ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بلند مرتبہ عطاء فرمایا اور اچھا ٹھکانہ بھی دیا۔

﴿وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ﴾

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی دعا

 حضرت ایوب (علیہ السلام) کو تکلیف کیسے پہنچی؟ حضرات مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) انعامات الہٰیہ پر ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ شیطان نے بارگاہ رب العزت میں درخواست کی اے پروردگار تیرا بندہ حضرت ایوب (علیہ السلام) تیرا شکر اس لیے ادا کرتا ہے، اور تیری عبادت میں اس لیے مشغول رہتا ہے کہ تو نے اسے وافر مال ودولت عطا کر رکھا ہے۔ اگر یہ تیرے انعامات نہ ہوتے تو حالت مختلف ہوتی۔

 اللہ تعالیٰ نے شیطان کی اس بات کے جواب پر حضرت ایوب (علیہ السلام) پر آزمائش ڈال دی۔ سارا مال ختم۔ صحت بیماری میں تبدیل ہوگئی۔ مکان کی چھت گری اولاد موت کی آغوش میں چلی گئی۔ نوکر چاکر بھاگ گئے۔ اور آپ کے پاس صرف بیوی رہ گئی۔ جس نے آزمائش کے وقت بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وہ نہایت ہی پارسا اور وفادار خاتون تھیں جس نے ہر حالت میں خاوند کی خدمت کا پورا حق ادا کیا۔

مفسرین کرام بیان کرتے ہیں: کہ اس حالت میں اٹھارہ سال گذر گئے۔ مگر شیطان اپنے دعویٰ کو سچا ثابت نہ کرسکا آخر اس نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو شرک میں ملوث کرنے کی کوشش کی تاکہ اس کے اعمال کے برباد کرنے کا انتظام کیا جائے۔ ایک دن اس کی بیوی محنت مزدوری کر کے واپس آرہی تھی کہ راستے میں شیطان اسے ایک حکیم کی صورت میں ملا اور اس کے بیمار خاوند کے علاج کی پیش کش کی اور معاوضہ میں صرف یہ کہہ دینا جب تندرست ہوجائیں کہ فلاں شخص نے شفادی ہے۔ واپس آکر بیوی نے واقعہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے سامنے ذکر کیا انھوں نے بیوی کو سخت ڈانٹ پلائی کہ شیطان ہمیں شرک میں ملوث کرنا چاہتا ہے۔

 الغرض حضرت ایوب (علیہ السلام) نے بیوی سے ناراضگی کی بناء پر قسم کھائی کہ میں تندرست ہوگیا تو تمہیں سو لاٹھیاں ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحت عطا فرمائی تو آپ اپنی قسم کو پورا کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ بیوی بڑی وفادار تھی۔ جس نے ان کی اٹھارہ سال تک خدمت کی اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں فرمایا ” وخذبیدک ضغثاً “ اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک گھٹالیں ” فاضرب بہ “ اور یہ صرف ایک دفعہ بیوی کو ماریں اور قسم میں جھوٹے نہ ہوں یعنی اس طرح اپنی قسم پوری کرلیں اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو قسم پوری کرنے کا حیلہ بتادیا۔  (محصلہ کمالین: ص: ٣٩٨، ج : ٥)

حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک بھی یہی ہے۔ علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ نے اس کے لیے دو شرطیں لکھیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے اس شخص کے بدن پر ہر قمچی طولا عرضاً ضرورلگ جائے دوسری یہ ہے کہ اس سے کچھ نہ کچھ تکلیف ضرور ہو اگر اتنے ہلکی سے قمچیاں بدن کو لگائی گئیں کہ بالکل تکلیف نہ ہوئی تو قسم پوری نہیں ہوگی۔ (فتح القدیر : ص : ١٣٧: ج : ٤)

شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) لکھتے ہیں : حضرت ایوب (علیہ السلام) کے واقعہ میں قصہ گویوں نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے متعلق جو افسانے بیان کئے ہیں۔ اس میں مبالغہ بہت ہے۔ ایسا مرض جو عام طور پر لوگوں کے حق میں تنفر اور استقدار کا موجب ہو انبیاء (علیہم السلام) کی وجاہت کے منافی ہے۔ کما قال تعالیٰ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا} [الأحزاب: 69] لہٰذا اسی قدر بیان کرنا چاہیے جو منصب نبوت کے منافی نہ ہو۔ (تفسیر عثمانی : ص : ٥٩٢: دارالتصنیف کراچی)

 إني مسني الشیطن الخ: یہاں سیدنا ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیماری کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی۔

 قرآن مجید میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں کوئی پہلو شریا ایذاء کا ہو یا کسی مقصد صحیح کے فوت ہونے کا ہو ان کو شیطان کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں ہے کہ انھوں نے فرمایا: {وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ} [الكهف: 63]

 اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے شروالے امور کا سبب قریب یابعید کسی درجہ میں شیطان ہوتا ہے، اس قاعدہ سے حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیماری پا آزار وغیرہ کی نسبت تواضع کی بناء پر شیطان کی طرف فرمائی اور یہ ظاہر کیا کہ ضرور مجھ سے کوئی غلطی یا تساہل ہوا ہوگا جس کے نتیجہ میں یہ بیماری لاحق ہوئی۔ (تفسیر عثمانی)

کیا شیطان انبیاء (علیہم السلام) پر مسلط ہوسکتا ہے؟

 بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں شیطان کی طرف مس کی اسناد ونسبت اپنے ظاہری معنی پر ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ شیطان مردود علیہ اللعنۃ نے فرشتوں کی زبانی حضرت ایوب (علیہ السلام) کی تعریف ومدح سنی تو اسے ان سے حسد ہوگیا اور اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا کہ اسے (شیطان کو) ایوب (علیہ السلام) کے جسم اور مال و اولاد پر تسلط کی قدرت دے دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش وابتلا کے پیش اسے یہ قدرت دے دی۔

لیکن زمخشری (رح) نے اس کا انکار کرتے ہوئے اس پر رد کیا ہے اور کہا ہے کہ ” یہ جائز (ممکن) نہیں کہ اللہ تعالیٰ شیطان کو اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر قدرت و تسلط دے دے تاکہ وہ انھیں مختلف تکالیف ومشقتوں میں مبتلا کر کے اپنی خواہش کی تکمیل کرے کیونکہ اگر شیطان کو یہ قدرت حاصل ہوتی تو وہ دنیا میں کسی صالح اور متقی شخص کو بغیر ہلاک کئے نہ چھوڑتا “۔

 حالانکہ قرآن کریم میں بار بار اس بات کی صراحت ہے کہ شیطان کو کوئی سلطان (تسلط) اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر حاصل نہیں۔ سوائے محض وسوسہ ڈالنے کی قدرت کے۔ لہٰذا اس آیت میں مس کی نسبت شیطان کی طرف مجازاً کی گئی ہے۔ کیونکہ شیطانی وسوسوں کی وجہ سے ایوب (علیہ السلام) کو جو اللہ کی طرف سے مشقت و مرض میں مبتلا کیا گیا تو اس سبب کی بناء پر اس کی نسبت شیطان کی طرف کردی۔ اور حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اس میں اللہ رب العزت کی شان میں ادب کی رعایت فرماتے ہوئے اپنی دعا میں اس مرض یا مشقت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں فرمائی جب کہ فاعل حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ کوئی دوسرا اس پر قادر نہیں ہے۔

 بندہ کو اللہ سے عافیت مانگنی چاہیئے، مصیبت نہیں

 شیطان کے جس وسوسہ کا ذکر ہوا وہ کیا وسوسہ تھا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں : ایک قول یہ ہے کہ شیطان نے سیدنا ایوب (علیہ السلام) کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے آزمائش کا سوال کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لے اور اس مصیبت پر ان کے صبر کو آزمائے۔ ایوب (علیہ السلام) کا مصیبت اور ابتلاء مانگنا ، عافیت کا نہ مانگنا ان کے مقام بلند اور شان نبوت کے اعتبار سے غلط تھا اگرچہ فی نفسہ اور حقیقتا یہ گناہ نہ تھا۔ پھر جب انھوں نے مذکورہ دعا اور نداء کی کہ:

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ تو اس سے مقصود بھی اپنی غلطی کا اعتراف تھا۔

 جبکہ ایک قول یہ ہے کہ ایک شخص نے ایوب (علیہ السلام) سے ایک ظالم کے خلاف فریاد کر کے مدد چاہی تھی، شیطان نے ان کے دل میں مدد نہ کرنے کا وسوسہ ڈالا۔ چنانچہ انھوں نے اس کی داد رسی نہ کی تو اس سبب سے اللہ تعالیٰ نے وہ بیماری ان کو لاحق کردی۔ اس کے علاوہ بھی اس بارے میں مختلف اقوال ہیں (کذافی روح المعانی: ص: ٢٧٢، جلد: ٢٣)

 ابن جریر، طبری اور ابن ابی حاتم نے اپنی اپنی سند سے حضرت انس (رض) سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنی آزمائش اور تکلیف میں اٹھارہ برس مبتلا رہے ، دور ونزدیک والوں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ سوائے دو آدمیوں کے جو ان کے خاصل متعلقین اور بھائیوں میں سے تھے۔ وہ صبح شام ان کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ ایک دن ایک نے دوسرے سے کہا : یقیناً اللہ کی قسم ایوب (علیہ السلام) نے کوئی اتنا بڑا گناہ کیا ہے کہ اس جیسا گناہ جہاں والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ اس کے ساتھی نے کہا وہ کیوں ؟

 اس نے کہا : اٹھارہ برس ہوگئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت ان پر نہیں ہوئی کہ ان کی بیماری دور ہوجاتی۔ شام کو جب دونوں ایوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اس شخص سے صبر نہ ہوگا اور ساری بات ایوب (علیہ السلام) سے ذکر کردی۔ ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو میں اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا ۔ الا یہ کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ایک روز میں دو آدمیوں کے پاس سے گزر رہا تھا۔ دونوں جھگڑا کر رہے تھے اور جھگڑے میں اللہ تعالیٰ کا نام استعمال کر رہے تھے۔ میں ان دونوں سے گریز کرتا ہوا اپنے گھر آگیا۔ اس ناپسندیدگی کے پیش نظر کہ اللہ تعالیٰ کا نام تو صرف حق کام اور عبادت میں لیے جانے کا مستحق ہے (نہ کہ جھگڑوں وغیرہ میں، یعنی ان کے جھگڑے نہ نمٹانے کو اپنے گناہ یا غلطی سے تعبیر فرمایا)

 آگے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایوب (علیہ السلام) قضائے حاجت کے لیے جایا کرتے تھے (اپنی بیماری کے دوران) اور جب قضائے حاجت فرما لیتے تو ان کی اہلیہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں مکان تک پہنچا دیتی تھیں۔ ایک روز انھیں قضائے حاجت میں دیر ہوگئی۔ اس دوران ان پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ : ارکض برجلک ج ھذامغتسل باردو شراب “ اپنے پاؤں سے اس جگہ کو ایڑ لگادی یہ چشمہ نکلا نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو۔ ان کی اہلیہ کو اتنی تاخیر محسوس ہوئی تو ادھر ادھر نظر دوڑانے لگیں۔

 حیلہ کے جواز وعدم جواز کا بیان

 امام ابوبکر الجصاص (رح) فرماتے ہیں: اس آیت میں حیلہ کے جواز پر دلیل ہے ایسے کام کے لیے جس کا کرنا جائز ہو اور اس کا مقصد اپنے اور دوسروں سے ضرر کو دور کرنا ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو تنکوں اور سینکوں سے اپنی اہلیہ کو مارنے کا حکم فرمایا تاکہ وہ اپنی قسم کو پورا بھی فرما دیں اور قسم کی تکمیل سے ان کی اہلیہ کو زیادہ ضرر بھی نہ پہنچے۔ (احکام القرآن: ص: ٥٠٣، جلد: ٣ جصاص (رح) )

 حضرت مفتی محمد شفیع (رح) فرماتے ہیں کہ: حیلہ کے بارے میں سب سے زیادہ متوازن اور معتدل قول وہ ہے جسے روح المعانی میں ذکر کیا ہے اور ہمارے شیخ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ نے ” بیان القرآن “ میں اسی کو اختیار فرمایا ہے اور وہ یہ کہ : ” ہر وہ حیلہ جو کسی حکم شرعی کے ابطال کے پیش نظر اختیار کیا جائے تو وہ مقبول نہیں جسے زکوۃ کے اسقاط کا حیلہ، استبراء کے اسقاط کا حیلہ وغیرہ۔ “ حیلہ کے متعلق یہ سب سے زیادہ معتدل قول ہے۔ کیونکہ بعض علماء نے حیلہ کے علی الاطلاق جواز کا قول کیا ہے اور بعض علماء نے علی الاطلاق ناجائز قرار دیا ہے۔

 چنانچہ شمس الائمہ سرخی (رح) نے مبسوط کی کتاب الحیل میں جو فرمایا ہے اس سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ” جس حیلہ کے ذریعہ انسان کا مقصد حرام سے خلاصی حاصل کرنا یا اس کے ذریعہ سے کسی حلال تک پہنچنا ہو تو وہ ایسا حیلہ ” حسن “ ہے۔ اس بارے میں مکروہ حیلہ وہ ہے جو کسی شخص کے حق کے ابطال کے لیے یا کسی باطل کام پر حق کا ملمع کرنے کے لیے ہو یا کسی حق میں شبہ پیدا کرنے کے لیے ہو۔ ان امور و مقاصد کے پیش نظر حیلہ کرنا مکروہ (تحریمی) ہے اور جو حیلہ اس طریق پر کیا جائے جو ہم نے پہلے ذکر کی تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [المائدة: 2]

 پہلی قسم کے حیلہ میں تعاون علی البر والتقویٰ کے معنی پائے جاتے ہیں جب کہ دوسری قسم کے حیلوں میں علی الاثم والعدوان کے شمس الائمہ سرخسی (رح) نے حیلوں کے جواز پر ایک تو آیت یعنی : خذ بیدک ضغثاً سے استدلال فرمایا ہے۔ دوسرے یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں باری تعالیٰ کے ارشاد: {فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ } [يوسف: 70]

 سے استدلال فرمایا ہے۔ اس میں بھی ایک حیلہ ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے : {قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا} [الكهف: 69]

 لیکن وہ صبر پر قائم نہ رہے کیونکہ انھوں نے استثناء کر کے (یعنی ان شاء اللہ کہہ کر) اپنے لیے ایک درست راہ نکال لی تھی۔ بعد ازاں شمس الائمہ (رح) نے حیلوں کے جواز میں بہت سے آثار و سنن پیش کئے ہیں۔ (من شاء فلیراجع المبسوط للأمام السرخي (رح) ٢٠٩٣)

﴿وَاذْكُرْ اِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ وَكُلٌّ مِّنَ الْاَخْيَارِ﴾

حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل (علیہم السلام) بھی تھے۔ ان دو بزرگ شخصیتوں کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو مرتبہ آیا ہے لیکن کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ صاحب تفہیم القرآن نے ان پر دو مختصر نوٹ لکھے ہیں ہم انھیں یہاں نقل کررہے ہیں :

 قرآن مجید میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام آیت ٨٦ میں۔ دوسرے اس جگہ۔ اور دونوں مقامات پر کوئی تفصیل نہیں ہے بلکہ صرف انبیائے کرام کے سلسلے میں ان کا نام لیا گیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے اکابر انبیاء میں سے تھے۔ دریائے اردن کے کنارے ایک مقام ابیل محولہ (Abel Meholan) کے رہنے والے تھے۔ یہودی اور عیسائی ان کو الیشع (Elisha) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

 حضرت الیاس (علیہ السلام) جس زمانے میں جزیرہ نمائے سینا میں پناہ گزین تھے ان کو چند اہم کاموں کے لیے شام و فلسطین کی طرف واپس جانے کا حکم دیا گیا جن میں سے ایک کام یہ تھا کہ حضرت الیسع کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کریں۔ اس فرمان کے مطابق جب حضرت الیاس (علیہ السلام) ان کی بستی پر پہنچے تو دیکھا کہ یہ بارہ جوڑی بیل آگے لیے زمین جوت رہے ہیں اور خود بارہویں جوڑی کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان پر اپنی چادر ڈال دی اور وہ کھیتی باڑی چھوڑ کر ساتھ ہو لیے۔ (سلاطین، باب ١٩، فقرات ١٥ تا ٢١) بائیبل کی کتاب ٢ سلاطین میں باب ٢ سے ١٣ تک ان کا تذکرہ بڑی تفصیل کے ساتھ درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شمالی فلسطین کی اسرائیلی سلطنت جب شرک و بت پرستی اور اخلاقی نجاستوں میں غرق ہوتی ہی چلی گئی تو آخرکار انھوں نے یا ہو بن یہوسفط بن نمسی کو اس خانوادہ شاہی کے خلاف کھڑا کیا جس کے کرتوتوں سے اسرائیل میں یہ برائیاں پھیلی تھیں اور اس نے نہ صرف بعل پرستی کا خاتمہ کیا بلکہ اس بدکردار خاندان کے بچے بچے کو قتل کردیا۔ لیکن اس اصلاحی انقلاب سے بھی وہ برائیاں پوری طرح نہ مٹ سکیں جو اسرائیل کی رگ رگ میں اتر چکی تھیں اور حضرت الیسع کی وفات کے بعد تو انھوں نے طوفانی شکل اختیار کرلی، یہاں تک کہ سامریہ پرا شوریوں کے پے در پے حملے شروع ہوگئے۔

 ذوالکفل کا لفظی ترجمہ ہے ” صاحب نصیب “ اور مراد ہے اخلاقی بزرگی اور ثواب آخرت کے لحاظ سے صاحب نصیب، نہ کہ دنیوی فوائد و منافع کے لحاظ سے۔ یہ ان بزرگ کا نام نہیں بلکہ لقب ہے۔ قرآن مجید میں دو جگہ ان کا ذکرآیا ہے اور دونوں جگہ ان کو اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے، نام نہیں لیا گیا۔

 مفسرین کے اقوال اس معاملہ میں بہت مضطرب ہیں کہ یہ بزرگ کون ہیں، کس ملک اور قوم سے تعلق رکھتے ہیں، اور کس زمانے میں گزرے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے (حالانکہ یہ صریحاً غلط ہے کیونکہ ان کا ذکر ابھی آگے آرہا ہے) کوئی کہتا ہے یہ حضرت الیاس (علیہ السلام) ہیں، کوئی یوشع بن نون کا نام لیتا ہے، کوئی کہتا ہے یہ الیسع ہیں، (حالانکہ یہ غلط ہے، سورة ص میں ان کا ذکر الگ کیا گیا ہے اور ذوالکفل کا الگ) ، کوئی انھیں حضرت الیسع (علیہ السلام) کا خلیفہ بتاتا ہے اور کسی کا قول ہے کہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جو ان کے بعد نبی ہوئے اور ان کا اصلی نام بشر تھا۔ آلوسی نے روح المعانی میں لکھا ہے کہ ” یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ حزقیال (حزقی ایل) نبی ہیں جو بنی اسرائیل کی اسیری (٥٩٧ ق م) کے زمانے میں نبوت پر سرفراز ہوئے اور نہر خابور کے کنارے ایک بستی میں فرائض نبوت انجام دیتے رہے۔ “

 ان مختلف اقوال کی موجودگی میں یقین و اعتماد کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ فی الواقع یہ کون سے نبی ہیں۔ موجودہ زمانے کے مفسرین نے اپنا میلان حزقی ایل نبی کی طرف ظاہر کیا ہے لیکن ہمیں کوئی معقول دلیل ایسی نہیں ملی جس کی بنا پر یہ رائے قائم کی جاسکے۔ تاہم اگر اس کے لیے کوئی دلیل مل سکے تو یہ رائے قابل ترجیح ہوسکتی ہے، کیونکہ بائیبل کے صحیفہ حزقی ایل کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقع وہ اس تعریف کے مستحق ہیں جو اس آیت میں کی گئی ہے یعنی صابر اور صالح۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو یروشلم کی آخری تباہی سے پہلے بخت نصر کے ہاتھوں گرفتار ہوچکے تھے۔ بخت نصر نے عراق میں اسرائیلی قیدیوں کی ایک نوآبادی دریائے خابور کے کنارے قائم کردی تھی جس کا نام تل ابیب تھا۔ اسی مقام پر ٥٩٤ ق م میں حضرت حزقی ایل نبوت کے منصب پر سرفراز ہوئے جبکہ ان کی عمر 30 سال تھی اور مسلسل ٢٢ سال ایک طرف گرفتار بلا اسرائیلیوں کو اور دوسری طرف یروشلم کے غافل و سرشار باشندوں اور حکمرانوں کو چونکانے کی خدمت انجام دیتے رہے۔ اس کا رعظیم میں ان کے انہماک کا جو حال تھا اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ نبوت کے نویں سال ان کی بیوی جنھیں وہ خود ” منظورِنظر “ کہتے ہیں، انتقال کرجاتی ہیں، لوگ ان کی تعزیت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ اپنا دکھڑا چھوڑ کر اپنی ملت کو خدا کے اس عذاب سے ڈرانا شروع کردیتے ہیں جو اس کے سر پر تلا کھڑا تھا۔ (باب ٢٤۔ آیات ١٥۔ ٢٧) ۔ بائیبل کا صحیفہ حزقی ایل ان صحیفوں میں سے ہے جنھیں پڑھ کر واقعی یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ الہامی کلام ہے۔

﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ﴾

خاتم الانبیاء سے نفی علم غیب کلی

 یعنی فرشتوں کی گفتگو کا علم بجز کتب سابقہ کے مطالعہ کے معلوم نہیں ہوسکتا اور آپ رسمی طور پر لکھنے پڑھنے سے واقف نہیں پس سوا وحی کے اس کے معلوم ہونے کا اور طریقہ کیا ہے ؟ اس طرح ملاء اعلی کی آپس میں گفتگو مثلاً قیامت کی تعین کے سلسلہ میں یا اسی طرح اور باتوں کے متعلق ان میں قیل وقال رہتی ہے۔

كچھ لوگوں کا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے علم غیب پر استدلال

 حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے میں رات کو اٹھا، وضو کیا اور نماز پڑھی جتنی کہ میری مقدر میں تھی نماز پڑھتے ہوئے مجھ پر غنودگی سی طاری ہوئی ، اور میرا جسم بھاری ہوگیا، اس حالت میں میں نے اپنے رب کو خوبصورت شکل میں دیکھا اس نے مجھے پکارا، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے کہا ”لبیک ربي“ اس نے کہا ملاء اعلیٰ کس بارے میں جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا میں نہیں جانتایہ بات تین مرتبہ کہی، اس کے بعد میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے میری پشت پر دونوں کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا، یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، جس سے ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی۔ اور ہر چیز میں نے معلوم کرلی۔ پھر اس نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے کہا ”لبیک ربي“ اے میرے رب میں حاضر ہوں اس نے کہا ملاء اعلیٰ کس امر میں جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفاروں کے بارے میں، اللہ تعالیٰ نے کہا کفارے کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا۔ جماعت میں شریک ہونے کے لیے قدم بڑھانا نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھنا، اور ناگوار حالتوں میں وضو کرنا۔ اس کے بعد کہا پھر کس بارے میں جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا درجات و مراتب کے بارے میں۔ فرمایا وہ کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا نرم کلامی سے گفتگو کرنا اور رات کو جبکہ دنیا سوئی ہوئی ہو نماز پڑھنا۔ (حجۃ اللہ البالغہ: ص: ١٥، ج: ١، طبع نور محمد کراچی وروح المعانی: ص: ٢٩٥، ج: ٢٣)

 اس حدیث میں ”فتجلی لي کل شيء“ کے الفاظ ہیں جس کا معنی ہے ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی، اس سے اہل بدعت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے علم غیب کلی پر استدلال کرتے ہیں۔

مذكورہ بالا استدلال كا جواب

 یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اگرچہ امام ترمذی (رح) نے امام بخاری (رح) سے اس حدیث کی تحسین اور تصحیح نقل کی ہے مگر ترمذی کے متن میں یہ حدیث نہیں ہے بلکہ حاشیہ پر ایک نسخہ کا حوالہ دے کر یہ عبارت بمع سند و متن حدیث نقل کی گئی ہے، دیکھئے۔ (ترمذی : ص؛١٥٦: ج : ٢)

 اور یہ روایت بسند ابن عباس (رض) (مسند احمد : ص : ٣٦٨: ج : ١) میں بھی ہے اور حضرت معاذ بن جبل (رض) کی روایت میں (جس کی امام بخاری سے تصحیح اور تحسین نقل کی گئی ہے ) عبد الرحمن ابن عائش الحضرمی ہے بعض نے ان کو صحابی بتایا ہے، لیکن امام ابو حاتم رحمۃ کہتے ہیں کہ جس نے اس کو صحابی کہا ہے اس نے غلطی کی ہے ، اور امام ابوزرعہ رحمۃ کہتے ہیں کہ وہ معروف نہیں، اور امام بخاری رحمۃ فرماتے ہیں کہ ان سے صرف حدیث رؤیت منقول ہے مگر حضرات محدثین (رح) اس میں اضطراب کرتے ہیں۔ اور علامہ ذہبی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث بڑی عجیب وغریب ہے۔ (تہذیب التہذیب: ص: ٢٠٦، ج: ٦، میزان الاعتدال: ص: ١٠٨: ج: ٢، محصلہ)

 اور مضطرب حدیث اصول حدیث کے فن کی روح سے ضعیف ہوتی ہے اس اعتبار سے بخاری کی خود تصحیح وتحسین متعارض ہو کر ساقط ہوجائے گی اور امام بیہقی رحمۃ علیہ اس حدیث کے بعض طرق کو لکھ کر آگے فرماتے ہیں کہ یہ حدیث کئی سندوں کے ساتھ مروی ہے مگر سب سندیں اس کی ضعیف ہیں اور اس کے ثبوت میں کلام ہے۔ (کتاب الاسماء والصفات: ص: ٢٢٠، طبع الہ آباد)

دوسرا جواب

یہ ہے کہ اس روایت میں اس کا ذکر ہے کہ آپ کو ملاء اعلی کا علم ہوچکا تھا حالانکہ قرآن کریم کی اس آیت میں صاف طور پر مذکور ہے کہ ” ماکان لی من علم بالملاالاعلیٰ اذ یختصمون “ آپ فرما دیجئے کہ مجھے ملاء اعلیٰ کا کوئی علم نہیں کہ وہ کس چیز میں اختلاف کر رہے ہیں قرآن کریم نص قطعی ہے۔ جس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ملاء اعلیٰ کا عدم علم ثابت ہے۔ اور حدیث مذکور کو اگر صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تو بھی خبر واحد ہے اور بقول مولوی احمد رضا خان بریلوی عموم آیات قطعیہ قرآنیہ کی مخالفت میں اخبار احاد سے استناد محض ہرزہ باقی رہے۔ (انباء المصطفی: ص: ٤)  لہٰذا کیونکر یہ حجت ہوسکتی ہے ؟

تيسرا جواب

 حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ (تفہیمات الہٰیہ: ص : ٢٤۔ ٢٥، ج: ١) میں لکھتے ہیں کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے باری تعالیٰ کی صفات کی نفی کی جائے مثلاً علم غیب اور جہان کے پیدا کرنے پر قدرت وغیرہ، اور اس میں کوئی تنقیص نہیں ہے (پھر کئی سطور کے بعد فرمایا کہ ) اور اگر کوئی شخص آپ کے علم غیب پر ”فتجلی لي کل شيء“ (کی حدیث) سے استدال کرے تو ہم اس کو یوں جواب دیں گے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تو راہ کے بارے میں ” وتفصیلاً لکل شيء “ آیا ہے، اور اصل عمومات میں مقام کے مناسب تخصیص کرنا ہے اور اگر یہ تجلی ہر ایک چیز کے لیے تسلیم بھی کرلی جائے تو یہ صرف اس وقت کے لیے تھی جبکہ اللہ تعالیٰ نے دست قدرت آپ کی پشت پر رکھا تھا ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے دست قدرت اٹھایا تو یہ تجلی اور انکشاف بھی جاتارہا ، سوا اس میں کوئی بعد نہیں کہ اس کے بعد دوسری حالت میں آپ کو دوبارہ ان امور کی تعلیم دی گئی ہو، اس حدیث میں لفظ کل عموم حقیقی کے لیے نہیں بلکہ احکام دین اور امور شریعت وغیرہ سے مخصوص ہے

جیسا کہ توراۃ کے بارے میں ” وتفصیلاً لکل شيء “ آیا ہے، تو اس سے مراد امور دین اور احکام وغیرہ ہیں ہر ذرہ مراد نہیں ہے۔

 حضرت شاہ صاحب نے صحیح فرمایا ہے۔ چنانچہ خود اس روایت میں اس کا قرینہ موجود ہے وہ یہ کہ پہلے جب اللہ تعالیٰ نے آپ سے دریافت کیا ملاء اعلیٰ یعنی مقرب فرشتوں کا اختلاف اور جھگڑا کس بات میں ہو رہا ہے ، تو آپ نے فرمایا ”لا أدري“ میں نہیں جانتا تین مرتبہ ایسا ہوا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت آپ کے دونوں کندھوں پر رکھا اور آپ سے پوچھا ملاء اعلیٰ کس امر جھگڑا کر رہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں میں جانتا ہوں فرمایا وہ کیا امور ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ پاؤں پر چل کر مسجدوں میں نماز کے لیے پہنچنا الخ۔ (دیکھئے مشکوٰۃ : ص : ٧٦: ج : ١: رواہ الترمذی وقال حسن صحیح)

 یہی روایت خود اس کو واضح کرتی ہے کہ ملاء اعلیٰ۔۔ کہنے پر اکتفاء کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں فرمایا ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین “۔ (روح المعانی : ص : ٣٠٤: ج : ٢٣)

 تکلف وتضنع اور بناوٹ کی ممانعت ومذمت : روح المعانی میں ہے کہ : ” اس آیت سے تکلف وتصنع کی مذمت اور ممانعت معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ ابن عدی (رح) نے الکامل میں حضرت ابو برزۃ الاسلمی (رض) سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

عَن أَبِي بَرْزَةَ، قَال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ الرُّحَمَاءُ بَيْنَهُمْ أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ قُلْنَا بَلَى قَالَ هُمُ الآيسون القانطون الكذابون المتكلفون. الكامل في ضعفاء الرجال (4/ 135)

 فرمایا : کیا میں تمہیں اہل جنت کا نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیوں نہیں۔ فرمایا : وہ لوگ جو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لطف ومہربانی اور محبت کا برتاؤ کرنے والے ہوں۔ پھر فرمایا : کیا میں تمہیں جہنم والوں کا نہ بتلاؤں ؟ ہم نے عرض کیا : ضرور ارشاد فرمائیے۔ فرمایا : وہ جو ناامیدوار اللہ کی رحمت سے مایوس اور جھوٹ بولنے اور جھٹلانے والے اور تکلف کرنے والے ہیں۔

 حاصل یہ ہے کہ تکلف سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر پیش کرے اور دوسروں کے سامنے اپنے آپ کو وہ ظاہر کرے جو وہ حقیقت میں نہیں اور بغیر علم کے لوگوں کو باتیں بتائے۔

 یایھا الناس ! من علم منکم علماً فلیقل بہ ومن لم یعلم فلیقل !” اللہ اعلم “ قال اللہ تعالیٰ لرسولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین۔ (روح المعانی : ص : ٣٠٤: ج : ٢٣)

 حضرت حکیم الامت تھانوی (رح) ”مسائل السلوک“ میں فرماتے ہیں: ” اگر تم اس زمانہ کے علماء و مشائض کو دیکھو تو اکثریت اسی میں مبتلا نظر آئے گی۔

﴿اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ﴾

حضرت آدم عليہ السلام كى تخليق

اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم سے پہلے فرشتوں کو بتایا کہ وہ مٹی سے ایک آدمی بنائے گا اور بنا لینے کے بعد انھیں حکم دیا کہ وہ آدم کی تکریم کے لیے اسے سجدہ کریں، تو ابلیس کے علاوہ تمام فرشتوں نے اللہ کے حکم کی بجا آوری میں آدم کو سجدہ کیا۔ ابلیس جنون میں سے تھا، اس کی فطرت میں کبر و غرور تھا، اس نے سجدہ کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور آدم مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔

ابلیس کی یہ سوچ غلط تھی اور اس کا قیاس قیاس فاسد تھا، چنانچہ وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی کر بیٹھا اور کفر کا مرتکب ہو ١۔ اس لیے اللہ نے اسے اپنی جناب سے دور کردیا، اسے رسوا کیا اور ہمیشہ کے لیے اپنی رحمت سے محروم کردیا اور ذلیل و خوار بنا کر زمین پر بھیج دیا۔ ابلیس نے جب دیکھا کہ وہ ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہوگیا ہے، تو آدم کے خلاف اس کے حقد و حسد کی آگ اور بھڑک اٹھی، اس نے اللہ سے قیامت کے دن تک زندہ رہنے کی مہلت مانگی، تاکہ آدم اور اس کی ذریت کو خوب گمراہ کرے، اللہ نے اسے مہلت دے دی تو اس نے اللہ کی عزت کی قسم کھا کر ازراہ غرور و سرکشی کہا کہ میں تیرے مخلص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کروں گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا) [ بنی إسرائیل : ٦٢ ] ” اس نے کہا کیا تو نے دیکھا، یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یقیناً اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی اولاد کو ہر صورت جڑ سے اکھاڑ دوں گا۔ “

اور جن تھوڑے لوگوں کو یہاں مستثنیٰ کیا گیا ہے ان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا) [ بنی إسرائیل : ٦٥ ] بیشک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں اور تیرا رب کافی کارساز ہے۔ “

جب ابلیس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اے اللہ ! میں تیرے مخلص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کروں گا تو اللہ نے بھی اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ میں بھی جہنم کو تجھ سے اور ان تمام لوگوں سے بھر دوں گا جو تیری پیروی کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُوْرًا) [ بنی إسرائیل : ٦٣ ] ” فرمایا جا، پھر ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا تو بیشک جہنم تمہاری جزا ہے، پوری جزا۔ “ اور فرمایا : (قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِيْنَ ) [ الأعراف : ١٨ ] فرمایا اس سے نکل جا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا، بیشک ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا میں ضرور ہی جہنم کو تم سب سے بھروں گا۔ “

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ: سیدنا ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو تمام زمین سے جمع شدہ مٹھی بھر خاک سے پیدا فرمایا۔ اسی لیے آدم (علیہ السلام) کی اولاد بھی مٹی کی طرح مختلف ہے، ( رنگت کے اعتبار سے) کوئی ان میں سے سرخ، کوئی سفید، کوئی سیاہ اور کوئی درمیانی رنگت والا، (طبیعت کے اعتبار سے) کوئی نرم خو، کوئی سخت مزاج اور کوئی درمیانی طبیعت والا اور ( عمل کے اعتبار سے) کوئی انتہائی خبیث، کوئی بہت اچھا اور کوئی درمیانے عمل والا۔ “ [ مسند أحمد : ٤؍٤٠٦، ح : ١٩٦٦٣ ]

سیدنا انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو جب تک چاہا، انھیں ( بلا روح جسم کی حالت میں) پڑا رہنے دیا۔ ابلیس آپ کے ارد گرد چکر لگاتا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ جسم کھوکھلا ہے تو اسے معلوم ہوگیا کہ یہ ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے گی۔ “ [ مسند أحمد : ٣؍١٥٢، ح : ١٢٥٤٧۔ مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب خلق الإنسان خلقا لا یتمالک : ٢٦١١ ]

سیدنا ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ جب پیدا کرچکے (اور روح پھونک دی) تو فرمایا، جا کر ان فرشتوں کی جماعت کو سلام کہیے اور سنیے کہ وہ تجھے کیا جواب دیتے ہیں تو تیرا اور تیری اولاد کا یہی سلام ( کا طریقہ) ہوگا۔ آدم (علیہ السلام) نے کہا : اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ “ فرشتوں نے کہا : اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ یعنی انھوں نے جواب میں ”وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ کا اضافہ کیا۔ تو جنت میں جو بھی داخل ہوگا، وہ آدم (علیہ السلام) کی صورت پر ( یعنی ساٹھ ہاتھ قد کا) ہوگا۔ اس کے بعد اب تک مخلوق ( کے قد کاٹھ) میں کمی ہوتی آئی ہے۔ “ [ بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ : ٣٣٢٦۔ مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا، باب یدخل الجنۃ أقوام أفئدتہم مثل أفئدۃ الطیر : ٢٨٤١ ]

 

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply