hamare masayel

بینک سے لون لینا کیسا ہے؟ بىنك سے لون لے گھر كى تعمىر

بینک سے لون لے کر گھر تعمیر کرنا

سوال : زید کو مکان بنانے کی ضرورت ہے اور وہ انکم ٹیکس سے بچنے کیلیے لون لینا چاہتا ہے، یا اسے مکان بنانا ناگزیر نہیں ہے محض رکھی ہوئی رقم کو مکان کی شکل میں محفوظ کرنا چاہتا ہے اس صورت میں بھی وہ انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے لون لینا چاہتا ہے، ہر دو صورت کا جواب مطلوب ہے۔

المستفتی محمد ضیاءاللہ غازی پوری۔

الجواب باسم الملهم للصدق والصواب:

سودی قرض لینا ناجائز اور موجب لعنت ہے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں پر سخت وعید فرمائی ہے۔

اگر زید انکم ٹیکس سے بچنا چاہتا ہے تو اپنے پاس موجود رقم کو کسی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کردے اور اسی بینک سے لون لے کر گھر تعمیر کرلے پھر بینک سے اپنی رقم پر ملی سود کو اس قرض کی سود میں واپس کردے؛ بشرطیکہ اپنی رقم پر ملنے والی سود بینک قرض کی سود کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔

الدلائل

عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم آکل الربا، ومؤکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء۔(مسلم شریف،کتاب المساقاة والمزارعة، باب الربا، النسخة الهندیة، ۲/۲۷، بیت الأفکار رقم:۱۵۹۸، سنن أبي داؤد، کتاب البیوع، باب في آکل الربا ومؤکله، النسخة الهندیة2/ 473، دارالسلام رقم: 3333).

عن فضالة بن عبید صاحب النبي صلی اﷲ علیه وسلم أنه قال: کل قرض جر منفعة، فهو وجه من وجوه الربا۔ (السنن الکبریٰ للبیهقي، کتاب البیوع، باب کل قرض جر منفعة فهو ربا، دارالفکر 8/276، رقم:۱۱۰۹۲، کنز العمال، دارالکتب العلمیة بیروت 6/99، رقم: 15512)

کل قرض جر نفعًا حرام۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع، کراچي 5/166، زکریا 9/395).

 والله أعلم

تاريخ الرقم: 22 – 9 – 1439ھ 7 – 6 – 2018 م الخميس

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply