hamare masayel

قبرستان میں درخت لگانا کیسا ہے

(سلسلہ نمبر: 786)

 قبرستان میں درخت لگانا کیسا ہے؟

سوال: قبرستان میں سپاری کا درخت لگانا کیسا ہے؟ جبکہ اس سے قبر کو کوئی نقصان نہیں ہے اور جگہ بھی بڑی ہے اور خالی ہے، ایک مسجد بھی اسی قبرستان میں ہے، درخت کی آمدنی مسجد اور قبرستان میں خرچ کی جائے گی۔

المستفتی: ضیاء الحق سیتامڑھی، بہار۔

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب:  قبرستان کی خالی جگہ میں ایسے طور پر درخت لگانا کہ اصل غرض یعنی دفن اموات میں نقصان نہ آئے جائز ہے،  پھر ان درختوں کی آمدنی کو قبرستان اور اس کی مسجد میں استعمال کرنا بھی درست ہے.

نوٹ: جواز کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ درخت لگانے اور بعد میں پھل توڑنے یا درخت کاٹنے کی صورت میں قبروں کی بے حرمتی نہ ہونے پائے۔

الدلائل

عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا “. (صحيح مسلم، رقم الحديث: 972).

یجوز للمستاجر غرس الأشجار والکروم في الأراضي الموقوفة إذا لم یضر بالأرض. (رد المحتار ، کتاب الوقف: 4/ 454، سعید).

وإنما یحل للمتولي الإذن فیما یزید الوقف به خیراً (رد المحتار ، کتاب الوقف: 4/ 454، سعید).

مقبرۃ علیھا أشجار عظیمة، فھذا علی وجھین … ففي القسم الثاني الحکم في ذلك إلى القاضي إن رأی بیعھا وصرف ثمنھا إلى عمارۃ المقبرۃ فله ذلك. (الفتاوى الهندية، کتاب الوقف ، الباب الثاني عشر ، مطلب الکلام علی الأشجار في المقبرۃ: 2/ 473، 474، ط۔ ماجدیة).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

22- 2- 1445ھ 9-9- 2023م السبت

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply